Page Nav

HIDE

تازہ ترین خبر:

latest

چین سی پیک فنڈز بارے ہچکچاہٹ کا شکار

  ایسے وقت جب چین رواں برس اپنے بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹیو (بی آر آئی) کی دسویں سالگرہ منا رہا ہے، اس پس منظر  کے تحت سب سے اہم سرمایہ کاری م...

 




چین سی پیک فنڈز بارے ہچکچاہٹ کا شکار
ایسے وقت جب چین رواں برس اپنے بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹیو (بی آر آئی) کی دسویں سالگرہ منا رہا ہے، اس پس منظر  کے تحت سب سے اہم سرمایہ کاری میں سے ایک چین پاکستان اقتصادی کوریڈور(سی پیک) میں سرمایہ کاری رکی ہوئی نظر آتی ہے۔ غیر ملکی نشریاتی ادارے کے مطابق دونوں ملکوں میں سن 2015 میں ہوئے معاہدے کے تحت سی پیک کے ذریعہ ریل اور سڑک رابطوں کی ترقی کے لیے اربوں ڈالر کی چینی سرمایہ کاری کا وعدہ کیا گیا تھا۔ اس بنیادی ڈھانچے کے فروغ کا مقصد چینی اشیاء کو سنکیانگ کے علاقے سے پاکستان کے پہاڑی سرحدوں سے گزرتے ہوئے کراچی سے 630 کلومیٹر مغرب میں واقع گوادر بندرگاہ پہنچا کر بحیرہ عرب میں بھیجنا ہے۔ مذید یہ کہ  سی پیک کے تحت چین نے  پاکستان میں توانائی کے انفرااسٹرکچر کی ترقی کے لیے بھی اربو ں ڈالر کی سرمایہ کاری کا وعدہ کیا گیا تھا تاہم سی پیک کے فیصلہ ساز ادارے کی جولائی میں ہونے والی اعلیٰ سطحی میٹنگ کی تفصیلات کے مطابق چین نے حال ہی میں پاکستان کی طرف سے سی پیک کے متعدد منصوبوں کے لیے فنڈ فراہم کرنے کی درخواست پر ہچکچاہٹ کا اظہار کیا ہے۔ بتایا جارہا ہے کہ اپریل 2022 میں سابق وزیر اعظم عمران خان کی برطرفی کے بعد سے پاکستان مسلسل سیاسی عدم استحکام سے دوچار ہے۔ عمران خان بدعنوانی کے الزامات کے تحت جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہیں جب کہ ایک نگران حکومت آئندہ انتخابات کے انعقاد تک ملک کا نظم و نسق دیکھ رہی ہے۔امریکی پروفیسر کوگل مین نے ڈی ڈبلیو سے بات کرتے ہوئے کہا، "چین ایک بیرونی سرمایہ کار کے طورپر فطری طور پر سیاسی عدم استحکام کی وجہ سے بدامنی اور تشدد کے خطرے کے بارے میں فکر مند ہے، جو پاکستان میں اس کے شہریوں اور مفادات کے لیے بھی خطرہ بن سکتا ہے۔کوگل مین کا مذید کہن تھا  کہ "پاکستان کی جانب سے ان خطرات کو کم کرنے میں ناکامی کی وجہ سے چین کی پریشانیوں میں اضافہ ہوا ہے اگر صورت حال بدترین ہوئی تو چین، اپنے اثاثوں کی حفاظت کے لیے اپنی سکیورٹی فورسز کو لانے پر غور کرسکتا ہے، جو کہ اسلام آباد کے لیے سیاسی لحاظ سے نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے

کوئی تبصرے نہیں