Page Nav

HIDE

تازہ ترین خبر:

latest

بلوچستان کے مقروض والدین بیٹیاں بیچ رہے ہیں

  بلوچستان(دوراہا رپورٹ) بلوچستان میں غربت کے ہاتھوں مجبور والدین اپنی کم عمر بیٹیوں کو چند ہزار روپے میں بیچنے پر مجبور ہوچکے ہیں،2022 کے س...

 



بلوچستان کے مقروض والدین  بیٹیاں بیچ رہے ہیں
بلوچستان(دوراہا رپورٹ)

بلوچستان میں غربت کے ہاتھوں مجبور والدین اپنی کم عمر بیٹیوں کو چند ہزار روپے میں بیچنے پر مجبور ہوچکے ہیں،2022 کے سیلاب کے بعد سابق وفاقی وزیر برائے ماحولیات شیری رحمان نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ سیلابی پانی سے بلوچستان کے 32 لاکھ خاندان دربدر ہونے پر مجبور ہوئے ، مگرآج بلوچستان کے ضلع اوستا محمد میں صورت حال بدترین ہوچکی ، برطانونی نشریاتی ادارے کے مطابق ضلع اوستا محمد کی مجموعی آبادی 50 ہزار افرار پر مشتمل ہے جس میں زیادہ تر آبادی دیہاڈی دار اور کسانوں پر مشتمل ہے،  چوکی جمال کا علاقے سندھ اور بلوچستان کی سرحد  پر واقعہ ہےاور یہ ضلع اوستا محمد کا  ہی حصہ ہے ، علاقےکے کسان اور مزدور سیلاب کے بعد سود پرقرض لیتےرہے آج نوبت یہاں تک پہنچ چکی   کہ انھیں رقم  کی ادائیگی کے لیے اپنی دس سال کی بچیوں کو 40 یا پھر اس سے بھی زائدعمر کے مرد کے آگے بیچنا پڑ رہا ہے ، 



کوئی تبصرے نہیں