آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت کے بعد از۔۔۔ ظہیرالدین بابر بظاہر یہ غلط نہ ہوگا کہ ایران کے رہبر اعلی کی شہادت امریکہ اور اسرائیل ...
آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت
کے بعد
از۔۔۔ ظہیرالدین بابر
بظاہر یہ غلط نہ ہوگا کہ ایران کے رہبر اعلی کی شہادت امریکہ اور اسرائیل کے اہداف کو مشکل بنا سکتی ہے ، اسلام اور مسلمان دشمنی پر متحد ٹرمپ اور نیتن ہایو کا یہ اندازہ غلط ثابت ہوسکتا ہے کہ آیت اللہ علی خامنہ آئی کے منظر سے ہٹ جانے کے بعد وہ ایران میں ایسی حکومت قائم کرنے میں باآسانی کامیاب ہوجائیں گے جو ان کے آگے سر تسلیم خم کرے گی ، ادھر ایران کی جانب سے امریکہ کو اڈے دینے والے عرب ممالک پر حملے صورت حال کو مذید پچیدہ بنا رہے ہیں ، اس سوال کا جواب دینا آسان نہیں کہ اگر ایران ، امریکہ اور اسرائیل جنگ طول پکڑتی ہے تو یواے آئی ، کویت اور سعودی عرب سمیت دیگر عرب ممالک اپنی معیشت کا کس قدر نقصان برداشت کرنے کے متحمل ہوسکتے ہیں ، دوسری جانب ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کی بند ش بھی عرب ممالک کی جانب سے امریکہ اور اسرائیل پر دباو بڑھانے میں فیصلہ کن کردار ادا کرسکتی ہے ، اب کچھ بھی ہو سچ تو یہ ہے کہ ٹرمپ اور نیتن یاہو نے مشرق وسطی کے ساتھ جو کچھ کردیا ہے اس کے اثرات خطے میں سالوں نہیں دہائیوں تک محسوس ہوتے رہیں گے ، امریکہ اور اسرائیل کا مشرق وسطی میں اندھی طاقت کا استعمال اقوام عالم کوپیغام دے رہا ہے کہ نئے تبدیل شدہ عالمی منظر نامہ میں بچاو کے دو ہی راستے ہیں ایک یہ کہ بھرپور عسکری طاقت کا حصول یا پھر امریکہ واسرائیل کے سامنے سرجھکا دینا، افسوس درپیش صورت حال میں سابق امریکی وزیر خارجہ ہنری کسنجر کا قول ایک بار پھر سچ ثابت ہوتا دکھائی دیتا ہے کہ" امریکہ کی دوستی اور دشمنی دونوں ہی خطرناک ہیں "
کوئی تبصرے نہیں