Page Nav

HIDE

تازہ ترین خبر:

latest

پاک افغان کشیدگی ۔۔۔شمائلہ راجپوت کالم

  پاک افغان کشیدگی : پاکستان کے فوجی آپریشن "غضب للحق" کی ضرورت و مقصد ؛؛؛           پاکستان نے افغان طالبان رجیم کی بلااشتعال فائ...

 





پاک افغان کشیدگی : پاکستان کے فوجی آپریشن "غضب للحق" کی ضرورت و مقصد ؛؛؛


          پاکستان نے افغان طالبان رجیم کی بلااشتعال فائرنگ اور کارروائیوں کے جواب میں پاک افغان سرحد پر آپریشن "غضب للحق"کا آغاز کر دیا ہے۔اس آپریشن کا مقصد افغان سرزمین پر چھپی ہوئی دہشتگرد تنظیموں کے خلاف کارروائی کرنا اور پاکستان کی سرحدوں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔موجودہ آپریشن کے دوران متعدد طالبان اہلکار ہلاک ہوئے اور کئی چیک پوسٹیں تباہ کی گئیں۔آپریشن "غضب للحق"بنیادی طور پر پاکستان کی طرف سے افغان طالبان رجیم اور افغان سرزمین پر چھپی ہوئی دہشتگرد تنظیموں کے خلاف ایک فوجی کارروائی ہے،جو 26 فروری 2026ء کو شروع کی گئی۔ اس آپریشن کا مقصد افغان طالبان کی بلااشتعال اور جارحانہ کارروائیوں کا جواب دینا اور پاکستان کی سرحدی سلامتی کو یقینی بنانا ہے۔پاکستان نے اس آپریشن کا آغاز اس وقت کیا جب افغان طالبان رجیم کی جانب سے بار بار بلااشتعال حملے اور دہشتگردی کی کارروائیاں پاکستان کے سرحدی علاقوں میں بڑھ گئیں۔ ان حملوں میں پاکستانی فوجی اور عام شہری نشانہ بنے،جس کے بعد پاکستان نے اپنی فضائیہ اور بری افواج کے ذریعے موثر اور منظم حملے شروع کیے تاکہ دہشتگردوں کے ٹھکانوں کو تباہ کیا جا سکے اور سرحدی علاقوں میں امن قائم کیا جا سکے۔آپریشن میں پاک فضائیہ اور آرمی نے مشترکہ طور پر افغان طالبان کے ٹھکانوں،چیک پوسٹوں اور ملٹری تنصیبات کو نشانہ بنایا۔فضائی حملوں میں کابل،قندھار، پکتیکا اور ننگرہار کے اہم دہشتگرد ٹھکانوں کو تباہ کیا گیا۔اس آپریشن میں اب تک سینکڑوں افغان طالبان کے جنگجو ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں،جبکہ متعدد چیک پوسٹیں تباہ اور قبضہ میں لی گئی ہیں۔ پاکستان نے انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر منتخب اور مؤثر کارروائیاں کیں تاکہ دہشتگردوں کو زیادہ نقصان پہنچایا جا سکے۔یہ آپریشن پاکستان کی سرحدی سلامتی کے لیے ایک تاریخی قدم ہے کیونکہ اس نے نہ صرف افغان طالبان کی بلااشتعال کارروائیوں کا بھرپور جواب دیا بلکہ دہشتگردوں کے خلاف ایک مضبوط پیغام بھی دیا کہ پاکستان اپنی سرزمین اور عوام کی حفاظت کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا۔اس آپریشن کے ذریعے پاکستان نے دہشتگردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنا کر خطے میں امن و استحکام کے قیام کی کوشش کی ہے۔پاک افغان تعلقات میں کشیدگی کی بنیادی وجہ سرحد پار دہشت گردی اور افغان طالبان کی مبینہ جارحیت ہے۔پاکستانی افواج نے اس آپریشن کا آغاز اس لیے کیا تاکہ افغان طالبان کی جانب سے کی جانے والی دہشت گردی اور سرحدی حملوں کا منہ توڑ جواب دیا جا سکے۔اس آپریشن میں طالبان کے کئی اہلکار ہلاک ہوئے اور چیک پوسٹیں تباہ کی گئیں،جس سے دشمن کو بھاری جانی و عسکری نقصان پہنچا۔اس آپریشن کا مقصد ملک میں دہشت گردی کے ناسور کا قلع قمع کرنا اور سرحدی سلامتی کو یقینی بنانا ہے۔آپریشن کے ذریعے دہشت گردوں کو سخت نقصان پہنچا کر ملک میں امن و امان کی بحالی کی کوشش کی گئی ہے۔سرحد پر حملوں کا جواب دے کر پاکستان نے اپنی سرحدوں کی حفاظت کو یقینی بنایا۔افغان طالبان پر دباؤ بڑھایا گیا کہ وہ دہشت گرد گروہوں کے خلاف کارروائی کریں، ورنہ پاکستان کو مزید عسکری اقدامات کرنے پڑیں گے۔آپریشن "غضب للحق" پاکستان کی طرف سے افغان طالبان کی بلااشتعال اور جارحانہ کارروائیوں کے جواب میں شروع کیا گیا ایک فوجی آپریشن ہے،جس میں فضائی اور زمینی حملے شامل ہیں۔اس کا مقصد دہشتگردوں کو سرحد پار سے نقصان پہنچانا اور پاکستان کی سلامتی کو یقینی بنانا ہے۔اس آپریشن میں ابتک اس میں افغان طالبان کو بھاری جانی و مالی نقصان پہنچایا گیا ہے۔پاک افغان تعلقات میں کشیدگی کی بنیادی وجہ سرحد پار دہشت گردی اور افغان طالبان کی مبینہ جارحیت ہے۔مجموعی طور پر موجودہ دور میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ پاکستانی افواج کا آپریشن "غضب للحق" اس وقت کی اشد ضرورت ہے۔تاکہ افغان طالبان کی جانب سے کی جانے والی دہشت گردی اور سرحدی حملوں کا منہ توڑ جواب دیا جا سکے۔اس آپریشن میں طالبان کے کئی اہلکار ہلاک ہوئے اور چیک پوسٹیں تباہ کی گئیں،جس سے دشمن کو بھاری جانی و عسکری نقصان پہنچا۔ اس آپریشن کا مقصد ملک میں دہشت گردی کے ناسور کا قلع قمع کرنا اور سرحدی سلامتی کو یقینی بنانا ہے.پاک افغان تعلقات میں کشیدگی کی بنیادی وجہ سرحد پار دہشت گردی اور افغان طالبان کی مبینہ جارحیت ہے۔ پاکستان نے اپنی سرحدوں کی حفاظت اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے آپریشن کیا۔جو دشمن کو بھاری نقصان پہنچانے کے ساتھ ملک کی سلامتی کے لیے نہایت اہم ہے اور تاکہ مستقبل میں خطے میں امن وامان قائم ہو سکے ۔

کوئی تبصرے نہیں