سانحہ گل پلازہ: غفلت، ناقص تعمیر اور حکومتی نااہلی ایک بار پھر بے نقاب شہر میں پیش آنے والا سانحہ گل پلازہ ایک بار پھر انسانی جانوں کے ضیا...
سانحہ گل پلازہ: غفلت، ناقص تعمیر اور حکومتی نااہلی ایک بار پھر بے نقاب
شہر میں پیش آنے والا سانحہ گل پلازہ ایک بار پھر انسانی جانوں کے ضیاع، ناقص تعمیرات اور حکومتی غفلت کی تلخ حقیقت کو آشکار کر گیا ہے۔ ابتدائی تحقیقات اور عینی شاہدین کے مطابق گل پلازہ کی عمارت نہ صرف پرانی اور خستہ حال تھی بلکہ اس کی تعمیر میں بنیادی حفاظتی اصولوں کو بھی نظر انداز کیا گیا تھا۔
ذرائع کے مطابق مذکورہ عمارت کے نقشے کی منظوری، تعمیراتی معیار اور وقتاً فوقتاً معائنہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (SBCA) اور متعلقہ اداروں کی ذمہ داری تھی، تاہم طویل عرصے سے ان اداروں کی جانب سے نہ تو کسی قسم کی تکنیکی جانچ کی گئی اور نہ ہی خطرناک قرار دی جانے والی عمارت کو خالی کروانے کے اقدامات کیے گئے۔
مقامی مکینوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے متعدد بار انتظامیہ کو عمارت میں دراڑوں، چھتوں سے پانی ٹپکنے اور کمزور ستونوں کے حوالے سے شکایات درج کروائیں، مگر سندھ حکومت کے ماتحت اداروں نے ان انتباہات کو مسلسل نظر انداز کیا۔ نتیجتاً یہ غفلت ایک بڑے انسانی المیے میں تبدیل ہو گئی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ سانحہ کسی ایک عمارت تک محدود نہیں بلکہ پورے صوبے میں غیر قانونی تعمیرات، کرپشن اور سیاسی مداخلت کا نتیجہ ہے۔ سندھ حکومت کی جانب سے ہر حادثے کے بعد انکوائری کمیٹیاں تو بنا دی جاتی ہیں، مگر ذمہ داروں کے خلاف عملی کارروائی نہ ہونے کے برابر ہے۔
سانحہ گل پلازہ نے ایک بار پھر اس سوال کو جنم دیا ہے کہ آخر کب تک شہری ناقص پالیسیوں اور حکومتی نااہلی کی قیمت اپنی جانوں سے ادا کرتے رہیں گے؟ عوامی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ محض بیانات کے بجائے ذمہ دار افسران، بلڈر اور نگران اداروں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے اور خطرناک عمارتوں کی فوری نشاندہی کر کے انہیں خالی کروایا جائے۔
اگر سندھ حکومت نے اب بھی سنجیدہ اقدامات نہ کیے تو خدشہ ہے کہ ایسے سانحات مستقبل میں بھی دہرائے جاتے رہیں گے۔

کوئی تبصرے نہیں