Page Nav

HIDE

تازہ ترین خبر:

latest

شیخ عبد الرشید کالم

  ہلالِ عید: خوشیوں کی زکوٰۃ یا نمائشِ ہوس؟ ​تحریر: شیخ عبد الرشید ​رمضان المبارک کی ساعتِ رخصت قریب ہے اور افقِ تمنا پر ہلالِ عید کی نمود ک...

 






ہلالِ عید: خوشیوں کی زکوٰۃ یا نمائشِ ہوس؟

​تحریر: شیخ عبد الرشید

​رمضان المبارک کی ساعتِ رخصت قریب ہے اور افقِ تمنا پر ہلالِ عید کی نمود کا انتظار ہے۔ مگر اس بار یہ ہلال محض ایک فلکیاتی مظہر بن کر نہیں ابھر رہا، بلکہ ایک عالمگیر سوالیہ نشان بن کر ہمارے تمدنی شعور اور ایمانی ضمیر کے روبرو کھڑا ہے۔ کیا یہ ہلالِ نوید ہے یا محض ایک ہلالِ تجدید؟ کیا یہ مسرتوں کا ظہور ہے یا محض طبقاتی تفاخر کا وفور؟ تیس دن کی اس 'نفسانی جراحت' (Surgery of the Soul) کے بعد، جسے ہم نے صیام سے تعبیر کیا، اب وقت آ گیا ہے کہ ہم اپنے باطن کے نہاں خانوں میں جھانک کر دیکھیں کہ ہم نے 'خودی' کو پایا ہے یا محض 'خوری' و 'نوشی' کے رسیا رہے ہیں۔ اگر عید کا چاند ہماری بصارت میں بصیرت کا نور اور ہماری مسرت میں انسانیت کا ظہور پیدا نہ کر سکے، تو یہ 'جشنِ بندگی' نہیں بلکہ محض ایک 'رسمِ زندگی' ہے۔

​آج کا دور مادیت پرستی (Consumerism) کا وہ جادوئی جال ہے جس نے عید جیسے الہامی تہوار کو 'مارکیٹ کی ہوس' کی نذر کر دیا ہے۔ ہم نے عید کو برانڈز کی نمائش، لباس کی گرانی اور دسترخوانوں کی وسعت میں مقید کر لیا ہے۔ محسنِ انسانیت ﷺ نے مدینہ کی جس ریاست کی بنیاد رکھی، وہاں عید کا جوہر 'اجتماعی فلاح' (Collective Well-being) تھا۔ صدقہِ فطر کی وجوبیت دراصل اس عالمی معاشی تصور (Global Minimum Wage) کا پہلا بیانیہ تھا، جس کا مقصد خوشی کو انفرادی ملکیت کے خول سے نکال کر اجتماعی وراثت بنانا تھا۔ آپ ﷺ کی تعلیمات کا عکس اس وقت دھندلا جاتا ہے جب ہماری عیدیں محض اپنے بچوں کی فرمائشوں تک محدود ہو جاتی ہیں اور پڑوس میں سسکتی ہوئی سفید پوشی کی انا ہماری بے حسی کی نذر ہو جاتی ہے۔ دینِ فطرت کا تقاضا 'نمائشِ زر' نہیں بلکہ 'ایثارِ نفس' ہے۔

​عصرِ حاضر کے حکیم و دانا علی عزت بیگووچ کے افکار کی روشنی میں دیکھیں تو اسلام محض ایک عقیدہ نہیں بلکہ وہ میزان ہے جو مادی ضرورت اور روحانی رفعت کے مابین توازن قائم کرتا ہے۔ عید اسی توازن کا 'تہذیبی ٹیسٹ' ہے۔ شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ کے فلسفہِ ارتفاق کے مطابق، کسی بھی معاشرے کی روحانی ترقی اس کے معاشی عدل سے جڑی ہوتی ہے۔ آج جب ہم مہنگائی کے تازیانوں اور معاشی عدم توازن کے دور سے گزر رہے ہیں، ہماری عید ایک 'سماجی معاہدہ' (Social Contract) ہونی چاہیے۔ یہ وہ دن ہے جب صاحبِ ثروت کو اپنی خوشیوں کی 'زکوٰۃ' نکالنی ہے۔ یہ زکوٰۃ محض چند سکوں کا نام نہیں، بلکہ اس 'احساسِ ہمدردی' کا نام ہے جو انسان کو حیوانِ ناطق سے بلند کر کے 'اشرف المخلوقات' کے منصب پر فائز کرتا ہے۔

​جدید نفسیات اور عمرانیات کے ماہرین، بشمول ڈاکٹر علی شریعتی، اس نکتے پر متفق ہیں کہ جب تہوار محض دکھاوے کا ذریعہ بن جائیں تو وہ معاشرے میں 'بیگانگی' (Alienation) پیدا کرتے ہیں۔ ہماری عیدیں اجنبیت کا شکار کیوں ہیں؟ اس لیے کہ ہم نے 'قیمت' (Price) کو تو پہچان لیا مگر 'قدر' (Value) کو بھلا دیا۔ ہم نے قیمتی ریشم سے بدن تو ڈھانپ لیے مگر روح کی عریانیت کو ایثار کی چادر نہ پہنا سکے۔ امام غزالیؒ نے 'کیمیائے سعادت' میں واضح فرمایا تھا کہ حقیقی مسرت وہ ہے جو باطن کی طہارت سے پھوٹے، نہ کہ ظاہر کی سج دھج سے۔ اگر تیس دن کا ضبطِ نفس ہمیں عید کے دن ایک 'مستنیر انسان' (Enlightened Human) نہیں بنا سکا، تو ہمیں سوچنا ہوگا کہ کہیں ہماری بندگی محض ایک میکانکی عمل تو نہ تھی؟

​شعور و ادراک کی اس منزل پر اب یہ حقیقت کسی تازیانے سے کم نہیں کہ ہلالِ عید محض فلک پر ایک لکیر نہیں، بلکہ ہماری 'خلافتِ ارضی' کا ایک کڑا امتحان ہے۔ یہ وہ دن ہے جب ہمیں اپنی چھوٹی انا (Ego) کو ذبح کر کے بڑی حقیقت (Universal Truth) سے جڑنا ہے۔ جلال الدین رومیؒ کے بقول، "تیرا دل وہ آئینہ ہے جس میں تجھے کائنات کا عکس دیکھنا ہے، اگر یہ خود غرضی کے زنگ سے بھر گیا تو تجھے کچھ نظر نہیں آئے گا"۔ عید اس زنگ کو اتارنے کی ایک سالانہ مشق ہے۔ یہ وہ لمحہ ہے جب ہمیں 'صارفانہ کلچر' کی زنجیریں توڑ کر 'محمدیؐ سادگی' کے وقار کو اپنانا ہے۔ کیا ہم تیار ہیں کہ اس بار اپنی عید کا ایک بڑا حصہ ان سفید پوشوں کے نام کر دیں جو اپنی خودداری کا بھرم رکھنے کے لیے خاموشی کا زہر پی رہے ہیں؟

​فکر و دانش کے مصلے پر قیام کرنے والوں کے لیے یہ ساعتِ سعید دراصل ایک خاموش انقلاب کی پکار ہے جو ہر صاحبِ شعور کی دہلیز پر دستک دے رہی ہے۔ عید کی رات وہ رات نہیں کہ ہم غفلت کی نیند سو جائیں، بلکہ یہ 'لیلۃ الجائزہ' ہے—وہ رات جب ہمیں اپنے اعمال کا آڈٹ کرنا ہے۔ اگر عید کی صبح ہم اپنے مصلے پر بیٹھ کر یہ محسوس نہ کر سکیں کہ ہماری وجہ سے کسی بیوہ کے گھر کا چولہا جلا ہے یا کسی یتیم کی آنکھوں میں امید کی شمع روشن ہوئی ہے، تو ہماری عید محض ایک 'تقویمی رسم' (Calendar Ritual) کے سوا کچھ نہیں۔

​آئیے! اس ہلالِ عید کو ہلالِ نوید بنائیں۔ اسے ایک ایسا پُل بنائیں جو محرومیوں کو مسرتوں سے جوڑ دے۔ ہمیں ایسے معاشرے کی تشکیل کرنی ہے جہاں عید کا چاند کسی کے لیے حسرت کی نوید نہ بنے۔ جب تک معاشرے میں 'بھوک کا دکھ' اور 'محرومی کا کرب' باقی ہے، ہماری عبادات کا حسن تشنہ رہے گا۔ حقیقی عید تو وہی ہے جب آپ کا ضمیر آپ کو یہ گواہی دے کہ آپ کی خوشی میں 'خالق کی رضا' اور 'مخلوق کی وفا' شامل ہے۔ یاد رکھیے، خدا کے حضور آپ کے قیمتی لباس نہیں بلکہ وہ 'ٹوٹی ہوئی آہیں' پہنچتی ہیں جنہیں آپ کی محبت نے مسکراہٹ میں بدلا ہو۔ یہی روحِ دین ہے، یہی تعلیماتِ نبویؐ کا نچوڑ ہے اور یہی وہ روشن خیال معتدل اسلام ہے جو رہتی دنیا تک انسانیت کا واحد سہارا ہے۔

کوئی تبصرے نہیں