Page Nav

HIDE

تازہ ترین خبر:

latest

حقارت از ماہم حامد: ڈیرہ غازی خان

  حقارت: ماہم حامد: ڈیرہ غازی خان  منشی رحیم بخش وہ مضبوط درخت جو اپنی تمام تر کمیوں کے باوجود اپنی اولاد کے سر پر گھنا سایہ بنا رہا۔ وہ جو ...

 


حقارت:


ماہم حامد: ڈیرہ غازی خان 

منشی رحیم بخش وہ مضبوط درخت جو اپنی تمام تر کمیوں کے باوجود اپنی اولاد کے سر پر گھنا سایہ بنا رہا۔ وہ جو  بولنے اور  سننے کی صلاحیت سے محروم تھا مگر اس کے باوجود اس نے اپنے بچوں کی زندگیوں میں کوئی محرومی نہ رہنے دی۔ جس آڑھت پر بہت سال پہلے منشی کی حیثیت سے کام شروع کیا تھا، اب  اپنی ایمانداری،  ذہانت اور محنت کے بل بوتے پر اس کے کاروبار کا حصے دار بن گیا تھا۔  عابدہ جیسی نیک بیوی کے ساتھ نے اس کی زندگی جنت بنا دی تھی۔ پورا گاؤں اس کی مثالیں دیتا اور کہتا:

” اللہ!  دے تو منشی رحیم بخش جیسا بیٹا دے۔ بھلے وہ گونگا بہرہ ہے مگر بہت سے سننے بولنے والوں سے بہتر ہے۔ “

زندگی بہت خوبصورتی سے آگے بڑھ رہی تھی، ہر گزرتا دن خوشیوں کی نئی بہاریں زندگی میں لاتا تھا۔ پھر اچانک عابدہ کو بیماری نے آ پکڑا، اس کی چھاتی میں ایک گلٹی نمودار ہوئی جو بعد میں بریسٹ کینسر بن گئی۔ عابدہ آخری اسٹیج پر تھی۔ ڈاکٹروں نے امیدیں چھوڑ دیں تھیں۔ رحیم بخش کی راتوں کی نیندیں حرام ہو چکی تھیں۔ بچے جوان تھے۔ اس کی خواہش تھی کہ وہ عابدہ کی زندگی میں ہی بچوں کی شادیاں کر دے۔ اس نے اپنے دونوں بیٹوں کی شادی طے کر دی، نزدیکی گاؤں کے بڑے اچھے گھروں میں بچوں کے رشتے طے ہو گئے۔ عابدہ تو جیسے اسی انتظار میں تھی کہ بچوں کی شادیاں ہوں اور وہ یہ دنیا کو چھوڑ کر آخرت کے سفر پر نکل جائے۔ آج اس کے قل تھے۔

رحیم بہت تنہا ہو چکا تھا۔ بیٹوں اور عابدہ کو تو رحیم  کو بات سمجھانا اور رحیم کی بات سمجھنا اچھے سے آتا تھا مگر اب معاملہ دوسرا تھا، اب گھر میں نئی بہوؤیں، نئے طور طریقے آ گئے تھے۔

###############$#$#


 عابدہ کے جانے بعد رحیم بخش کا کہیں دل نہیں لگتا تھا۔ نہ کام کرنے کو جی چاہتا تھا نہ باہر نکلنے کو۔ وہ گھر کے ایک کونے میں پڑا رہتا۔

آج گھر میں بینگن پکے تھے، بہو کھانا رکھ کر واپس چلی گئی اور رحیم بخش یادوں کے جنگل میں نکل گیا۔ 

 گھر میں آلو  بینگن بنے تھے اور وہ منہ پھلائے کھانے کی میز پر بیٹھا تھا۔ تب عابدہ مسکراتے ہوئے اشاروں کی زبان میں اسے سمجھا رہی تھی:

”بینگن کو دیکھ کر اتنا برا سا منہ مت بنائیں۔ آپ نے کیسے سوچ لیا کہ میں آپ کو بینگن کا سالن دوں گی، بیس سال ہو گئے ہماری شادی کو اب بھی بھولوں گی کیا میں؟ یہ رہا آپ کا آملیٹ۔“

عابدہ نے مسکراتے ہوئے آملیٹ کی پلیٹ منشی رحیم کے سامنے رکھی اور وہ مسکراتا ہوا نوالہ منہ میں ڈالنے لگا اور اگلے ہی لمحے اس کی آنکھوں سے ٹپ ٹپ آنسو گرنے لگے کیونکہ جو نوالہ کھایا تھا، وہ بیوی کے ہاتھ کا مزیدار آملیٹ نہیں، بہو کے ہاتھ کے پکے بدمزہ آلو بینگن تھے۔ اس سے دوسرا نوالہ کھایا نہ گیا اور کھانا ایک طرف رکھ دیا۔ اٹھ کر باہر جانے کی ہمت نہ ہوئی وہیں لیٹ کر سو گیا اور اس کا بلڈ پریشر شدید لو ہوا اور وہ بےہوش ہو گیا۔ بڑا بیٹا جیسے ہی کام سے آیا، باپ کو ملنے اس کے کمرے میں پہنچا تو بے ہوشی کے عالم میں پایا۔ وہ تو شکر ہے کہ فوراً ڈاکٹر بلانے کی وجہ رحیم بخش کو ہوش آ گیا۔ 

”تم دونوں کا کیا فائدہ ہے اس گھر میں رہنے کا، تم لوگ ابا کو وقت پر کھانا بھی نہیں دے سکتیں؟ اگر آج انھیں کچھ ہو جاتا تو پھر میں کسی کو معاف نہ کرتا۔“

تابش شدید غصے میں تھا، اس نے اپنی بیوی اور بھابی کو آڑے ہاتھوں لیا۔


”میں کھانا رکھ کر آئی تھی، اب مجھے کیا پتا کہ آپ کے ابا آلو بینگن نہیں کھاتے، بھئی مجھے ان کے اشارے سمجھ نہیں آتے، میں کوئی گونگوں بہروں سے  اسکول سے پڑھ کر نہیں آئی۔“

تابش کی بیوی لبنی جو کہ اچھی خاصی بدزبان تھی، جواب میں چلائی اور پیر پٹختے ہوئے کمرے میں چلی گئی۔ پھر تابش کا اپنی بیوی سے بہت جھگڑا ہوا اور بہوؤں کے دل میں سسر کے لیے نفرت نے جڑ پکڑ لی۔ اب وہ جان بوجھ کر رحیم بخش کو تکلیف دینے کی کوشش کرتیں، کبھی چائے میں میٹھا زیادہ گھول کر تو کبھی سالن میں اضافی نمک ڈال کر اور کبھی ان کی چیزیں ادھر ادھر کر کے۔ رحیم بخش بیٹوں کی ازدواجی زندگی خراب کرنا نہیں چاہتا تھا۔ اس لیے وہ بےزبان خاموشی سے سب سہہ رہا تھا۔ اس کا حال دیوانوں جیسا ہو گیا تھا۔ وہ گلیوں میں سارا سارا دن پریشان گھومتا رہتا تھا یا پھر عابدہ کی قبر پر جا کر بیٹھ جاتا تھا۔

################

کچن میں ہانڈی پکاتی لبنی، بار بار واش روم کے پاس لگے بیسن کی طرف جاتی اور قے کرنے لگتی۔ 

”ارے بھابی! آپ کی طبیعت اتنی خراب ہے تو ڈاکٹر کے پاس کیوں نہیں چلی جاتیں، آپ جائیں میں سنبھال لوں گی۔۔“

دیورانی نے ہانڈی میں چمچہ چلاتے ہوئے کہا۔

”نہیں اس کی ضرورت نہیں ہے، ایسی حالت میں اکثر عورتوں کے ساتھ ایسا ہوتا ہے۔۔۔“

لبنی نے شرماتے ہوئے کہا۔

”کیا واقعی! یہ تو بہت خوشی کی بات ہے، مبارک ہو!  آپ کو گھر والوں کو بتائیں نا سب کو۔“


وہ خوشی سے بولی۔

”بتا تو دیتی مگر۔۔۔۔ ہمارے گاؤں میں ایک لنگڑی عورت رہتی تھی ایسی بدنظر تھی کہ جس کسی بہو، بیٹی کے ہاں خوشخبری سنتی نظر لگا دیتی۔ اب ابا جی معذور ہیں، کیا پتا ان کی بھی نظر لگتی ہو۔ اس لیے میں نے تابش کو بھی منع کیا ہے کہ کسی کو مت بتائیں، دو تین ماہ گزریں گے تو سبھی کو پتا چل جائے گا۔ شروع میں زیادہ احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے، بعد میں نظر نہیں لگتی۔“

وہ نہایت رازداری سے بولی۔ 


--+++++++++++)+++))!!!!!!)


تابش آڑھت سے آتے ہی باپ کے کمرے میں چلا گیا۔ وہ بیڈ پر لیٹے تھے، وہ دھیرے سے ان کے پاس بیٹھ کر پیر دبانے لگا۔ وہ اٹھ بیٹھے۔

وہ باپ کو اشاروں کی زبان میں بتانے لگا کہ وہ دادا بننے والے ہیں اور یہ سب انھی کی دعاؤں کا ثمر ہے کہ خدا نے اسے اتنی بڑی خوشی عطا کی۔۔ 

رحیم بخش یہ سنتے ہی خوشی سے نہال ہو گا، اس سے صبر نہ ہوا اور وہ دوڑتا ہوا، بہو کو مبارک باد اور دعائیں دینے کے لیے بہو کے کمرے کی طرف بڑھ گیا۔۔ وہ مزے سے ٹی وی دیکھنے میں مگن تھی۔ رحیم بخش کمرے پر دستک دے کر اندر داخل ہوا۔ وہ اسے دیکھ کر صوفے سے اٹھ کر بیڈ پر بیٹھ گئی۔ جیسے اس کے سائے سے چھپنا چاہ رہی ہو۔ وہ پھر بھی نہ سمجھا اور آگے بڑھ کر بہو کے سر پر ہاتھ رکھنے لگا۔ لبنیٰ نے نفرت اور حقارت سے ان کا ہاتھ جھٹکتے ہوئے کہا:

”پلیز!  دور ہٹیں مجھ سے کیونکہ آپ جیسے لوگوں کی نظر لگنے کا اور سایہ پڑنے کا اندیشہ ہوتا ہے۔ میں نے اپنی ماں سے یہی  سنا کہ ہم  جن  لوگوں کو آس پاس دیکھتے ہیں، بچہ انھی پر جاتا ہے۔ میں نہیں چاہتی کہ میرا بچہ آپ کی طرح گونگا بہرہ ہو۔  نکل جائیں میرے کمرے سے۔“

وہ چلا چلا کر کہہ رہی تھی، رحیم بخش آواز تو نہیں سن سکتا تھا، ہاں مگر بہو کے چہرے پر لکھی حقارت صاف صاف پڑھ چکا تھا۔ وہ سمجھ گیا تھا کہ بہو اس معذور کے سائے سے بچنا چاہتی ہے۔

اس کی یہ باتیں تابش نے بھی سن لی تھیں، وہ بیوی پر ہاتھ اٹھانے کے لیے دوڑا تو رحیم بخش نے ہاتھ جوڑ کر منع کیا اسے اور اشارے سے اسے کہا بہو کا خیال رکھے۔ یہ کہہ کر رحیم بخش باہر نکل گیا۔


#######$$$$$$$$$$$

وہ شام کے وقت عابدہ کی قبر پر آ گیا تھا۔ وہ اشاروں سے اسے بتا رہا تھا کہ وہ دادا بننے والا ہے۔ پھر بہو کی بات کے متعلق اشارہ کر کے پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا۔ کافی دیر روتا رہا اور پھر گھر واپس جانے کے لیے ریل کی اس پٹڑی کے نزدیک چلنے لگا جو گاؤں سے گزرتی تھی۔ وہ سوچ رہا تھا کہ اس کی بہو اس کی معذوری کو کتنی حقارت کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔ وہ دل ہی دل میں خدا سے سوال کرنے لگا کہ:

” معذور تو تیری مرضی سے ہی معذور پیدا ہوتے ہیں۔ پھر تیرے بندے ہمیں قبول کیوں نہیں کرتے۔ ہماری وہ محرومی جس میں ہمارا کوئی قصور نہیں ہوتا، ہمارا عیب کیوں بنا دیتے ہیں؟“

وہ خیالوں کی ڈور میں الجھا کب ریل کی پٹڑی پر چڑھا، اسے پتا ہی نہیں چلا۔  اچانک سے ایک چنگاڑتی ہوئی ریل گاڑی اس کے سر پر آن پہنچی۔ جس کی چنگاڑیں دور دور تک سنائی دے رہی تھیں مگر اپنی معذوری کی وجہ سے اسے بالکل نہ سنائی دیں۔ وہ سوچوں کے سمندر میں تیرتا ہوا ٹرین کے نیچے آ کر موت کی آغوش میں جا پڑا۔ وہ جس کی گاؤں والے مثالیں دیتے تھے، عبرتناک مثال بن گیا۔۔


--------++++))))-------------------


چار سال بعد:

تابش اور لبنی اپنے دوسرے بیٹے  کو لیے چائلڈ اسپیشلسٹ کے پاس موجود تھے۔ لبنی نے پریشانی کے عالم میں پوچھا:


”ڈاکٹر!  ہمارا بیٹا دو سال کا ہو گیا ہے، اس کے ساتھ کے سب بچے بولنے لگے ہیں مگر یہ بات ہی نہیں کرتا۔ روتا ہی رہتا ہے۔“

ڈاکٹر نے گہری سانس خارج کرتے ہوئے اور بچے کی رپورٹس ایک طرف رکھتے ہوئے کہا:

”آپ کا بچہ پیدائشی طور اس صلاحیت سے معذور ہے۔ یہ ایک اسپیشل پرسن ہے اور ان کی اس بیماری کا علاج کسی طور ممکن نہیں ہے۔۔۔۔“

ڈاکٹر کے یہ الفاظ لبنی اور تابش پر بجلی بن کر گرے۔۔۔


وہ مردہ قدموں سے گھر لوٹ آئے۔ اب وہ بچہ جب اپنی بات نہ کہہ پاتا، اپنی ضرورت یا دکھ بیان نہ کر پاتا، لبنی کی آنکھوں کے آگے رحیم بخش کا چہرہ آ جاتا جو صبر سے اس کا ظلم برداشت کرتا تھا اور کبھی کسی کو کچھ نہیں کہتا تھا۔۔۔ 

اب لبنیٰ کو اچھی طرح سمجھ آ گئی تھی کہ معذوری عیب نہیں آزمائش ہے۔ جن لوگوں میں کوئی پیدائشی کمی ہوتی ہے، یہ  ان کے صبر کا امتحان ہوتا ہے اور جو لوگ آس پاس تندرست موجود ہوتے ہیں ان کے ظرف کا امتحان ہوتا ہے  کہ وہ یہ بات سمجھتے ہیں کہ نہیں کہ معذور قابل حقارت نہیں بلکہ قابلِ محبت  ہیں۔ انھیں عام لوگوں سے زیادہ ان کی محبت اور توجہ کی ضرورت  ہے۔۔

یہ بات لبنی اب اچھی طرح سمجھ گئی تھی۔ اسی لیے وہ خدا کے حضور رو رو کر اپنی کم ظرفی اور گناہوں کی معافی مانگتی تھی۔۔

کوئی تبصرے نہیں