Page Nav

HIDE

تازہ ترین خبر:

latest

​تحریر: شیخ عبدالرشید

  آہنگِ ظرافت: غالب کی شوخی سے شوکت کے نشتر تک ​تحریر: شیخ عبدالرشید ​آفاقی ادب کی سچائیاں زمان و مکاں کی مروجہ قیود اور حدود سے ہمیشہ ماورا...

 





آہنگِ ظرافت: غالب کی شوخی سے شوکت کے نشتر تک


​تحریر: شیخ عبدالرشید

​آفاقی ادب کی سچائیاں زمان و مکاں کی مروجہ قیود اور حدود سے ہمیشہ ماورا رہی ہیں۔ تخلیقی وجدان کی بوقلمونی اکثر کسی بعد میں آنے والے فنکار کے ہاں شعوری تقلید کے بجائے ایک لاشعوری بازگشت اور "زیرِ زمین گونج" بن کر نمودار ہوتی ہے—ایک ایسا فکری اتصال، جہاں روایت اور جدت ایک خاموش مگر پائیدار مکالمے میں مصروف نظر آتے ہیں۔ پروفیسر کلیم احسان بٹ کی حالیہ معرکتہ الآرا تصنیف، "غالب اور شوکت تھانوی"، اردو تنقید کے ان ٹھہرے ہوئے پانیوں میں ایک سنگِ گراں کی حیثیت رکھتی ہے جہاں کلاسیکی شاعری کی عظمت اور بیسویں صدی کی نثری ظرافت کے درمیان ایک طویل عرصے سے ایک مصنوعی خلیج حائل تھی۔ کراچی کے ممتاز علمی و اشاعتی ادارے 'رنگِ ادب پبلیکیشنز' کے زیرِ اہتمام شائع ہونے والا یہ ۱۵۲ صفحات پر مشتمل وقیع تحقیقی مقالہ، مصنف کے علمی و ادبی سفر کا چودھواں درخشندہ سنگِ میل ہے۔ یہ محض ایک کتاب نہیں، بلکہ برصغیر کے ان جلیل القدر نقادوں کی علمی وراثت کا تسلسل ہے جو متن کی ظاہری سطح کو کھرچ کر اس کے بطون میں دھڑکتی ہوئی تہذیبی لہروں اور ثقافتی نبضوں کو دریافت کرنے کا ہنر جانتے ہیں۔

​پروفیسر کلیم احسان بٹ نے اپنی اس جستجو میں اس حقیقت کو بڑی درک بینی سے ثابت کیا ہے کہ غالب کی "شوخیِ تحریر" عہدِ مغلیہ کے زوال کے سائے میں کوئی عارضی انفرادی لہر نہیں تھی، بلکہ یہ ایک ایسا عمیق "فکری پیراڈائم" (Intellectual Paradigm) تھا جس نے بیسویں صدی کے سب سے بڑے مزاح نگار، شوکت تھانوی کو ایک ایسا لسانی وقار اور تخلیقی توانائی عطا کی جس کی نظیر اردو نثر کے ذخیرے میں ناپید ہے۔ یہاں مصنف نے ایک روایتی نقاد کے روکھے پھیکے کردار سے گریز کرتے ہوئے، جو محض لفظی مماثلتیں تلاش کرنے پر اکتفا کرتا ہے، مابعد جدیدیت کے ان نازک تصورات کو چھوا ہے جہاں طنز و مزاح، المیے کے ایک نہایت نفیس، مہذب اور فنکارانہ نعم البدل کے طور پر ابھرتا ہے۔ اگر غالب نے حریفوں کی تضحیک اور نامساعد حالات کے جبر کو اپنے "دفاعی حصار" (Defense Mechanism) کے طور پر برتا، تو شوکت تھانوی نے اسی تمسخر کو ایک "سوشل سرجری" کے قالب میں ڈھال دیا، جس نے تقسیمِ ہند کے بعد کے لرزہ خیز حالات میں معاشرتی ناسوروں کو قہقہوں کے جراحی نشتر سے صاف کرنے کا فریضہ انجام دیا۔

​پروفیسر بٹ کے اسلوب کا طرہء امتیاز ان کی وہ "سہلِ ممتنع" جیسی نثر ہے جو اپنی ساخت میں سادہ اور رواں ہونے کے باوجود معانی کے اعتبار سے اس قدر گراں بار ہے کہ قاری کو تذبذب کے بنور سے نکال کر براہِ راست حقیقت کے جوہر تک لے جاتی ہے۔ ان کی تحریر قدیم ثقیل آرائشوں اور بے جا لفاظی کے بوجھ سے مکمل طور پر سبکدوش ہے، جس میں ایک ایسے دریا کی طبعی روانی محسوس ہوتی ہے جو کوہساروں کی بلندی سے اتر کر میدانوں کی وسعت میں پھیل جاتا ہے۔ یہی وہ وصف ہے جو انہیں اپنے ہم عصر محققین میں ایک جداگانہ اور ممتاز مقام عطا کرتا ہے۔ وہ شوکت تھانوی کو ایک "مابعد الطبیعیاتی مزاح نگار" (Metaphysical Humorist) کے طور پر متعارف کراتے ہیں جو اس غالبانہ وجودی فلسفے کا حقیقی وارث ہے کہ: "ہستی کے مت فریب میں آ جائیو اسد"۔ یہ فکری نسب نامہ اس امر کی غمازی کرتا ہے کہ ایک مزاح نگار کا قہقہہ اور ایک شاعر کا کرب دراصل ایک ہی تہذیبی سکّے کے دو رخ ہیں۔

​اس متن کی عمیق غواصی سے یہ حقیقت منکشف ہوتی ہے کہ غالب اور شوکت کے درمیان جو رشتہ مصنف نے استوار کیا ہے، اس کی بنیاد ایک مشترکہ "تہذیبی نوحہ گری" (Civilizational Mourning) پر رکھی گئی ہے۔ جس طرح غالب نے ۱۸۵۷ کے خوں آشام انقلاب کے بعد اجڑے ہوئے دہلی کے ملبے کو اپنی بذلہ سنجی کے پردے میں چھپایا، اسی طرح شوکت تھانوی نے ۱۹۴۷ کی خونی تقسیم کے نتیجے میں ہونے والی ثقافتی شکست و ریخت اور انسانی المیے کو اپنے طنز کے لبادے میں ڈھانپ لیا۔ پروفیسر بٹ مدلل گفتگو کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ شوکت کی شاہکار "سودیشی ریل" محض ایک ظریفانہ خاکہ نہیں، بلکہ نوآبادیاتی ڈھانچے اور اس کے باقیات کے خلاف ایک ایسی ہی بھرپور طنزیہ مزاحمت ہے جس کی جڑیں غالب کے ان خطوط میں پیوست ہیں جہاں وہ "گورے اور کالے" حاکموں کے تضادات پر تیکھے وار کرتے تھے۔ برصغیر کے عبقری نقادوں، جیسے آل احمد سرور یا ڈاکٹر وزیر آغا نے غالب کی کثیر الجہتی جینیئس پر طویل بحثیں کی ہیں، لیکن پروفیسر بٹ نے اس بحث کو شوکت کی نثر کے میدان تک وسعت دے کر اردو تنقید کو ایک نیا، ہمہ جہت اور کثیر البعادی تناظر عطا کیا ہے۔ انہوں نے شوکت تھانوی کو "مسخرے" کے فرسودہ اور تخفیفی خانے سے نکال کر ایک ایسے عظیم مفکر کے منصب پر فائز کر دیا ہے جس کا قہقہہ انسانی وجود کی لایعنیت (Absurdity) کا جواب تھا۔

​تحقیق و تنقید کی اس پرپیچ وادی میں پروفیسر بٹ کا قلم ایک ایسے "نفسیاتی سراغ رساں" کا منصب سنبھالتا ہے جو لفظوں کے پسِ پردہ چھپی ہوئی انسانی نفسیات اور سماجی محرکات کا گہرا ادراک رکھتا ہے۔ جب وہ غالب کے کلام میں موجود "اجنبیت" (Alienation) کا تقابلی جائزہ شوکت کے خاکوں میں پنہاں "تنہائی" (Solitude) سے لیتے ہیں، تو اردو ادب کے دو عظیم ادوار کے درمیان حائل صدیوں کے فاصلے پلک جھپکتے میں تحلیل ہو جاتے ہیں۔ کتاب کے پسِ ورق پر درج مصنف کی تیرہ سابقہ تصانیف کی فہرست اس حقیقت کی بین شہادت ہے کہ یہ مطالعہ کسی عارضی جوش یا اتفاقی خیال کا ثمر نہیں، بلکہ ایک عمر بھر کی علمی ریاضت اور فکری گوشہ نشینی کا حاصل ہے۔ انہوں نے جس غایتِ درجہ باریک بینی سے غالب کے مکاتیب اور شوکت کے کالموں کے مابین لسانی لسانی قربتوں (Linguistic Affinities) کا محاکمہ کیا ہے، وہ اردو تحقیق کے باب میں ایک روشن مینار کی حیثیت رکھتا ہے۔ مصنف کے نزدیک شوکت کا مزاح دراصل غالب کے اس فن کا نثری عروج ہے جہاں مراسلے کو مکالمہ بنا دیا جاتا ہے، اور تخلیق کار براہِ راست قاری کا ہاتھ تھام کر اسے اپنے عہد کے مضحکات میں شریک ہونے کی دعوت دیتا ہے۔

​فکری سطح پر یہ شاہکار ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ کوئی بھی عظیم ادبی روایت کبھی پیوندِ خاک نہیں ہوتی، بلکہ وہ محض اپنا پیراہن بدل کر نئے عہد میں دوبارہ جنم لیتی ہے۔ پروفیسر بٹ کا قلم جب غالب اور شوکت کے اس فکری وصال کی داستان رقم کرتا ہے، تو وہ اردو ادب کی دو عظیم صدیوں کو ایک نقطہء اتصال پر مرتکز کر دیتا ہے۔ یہ سعیِ مشکور اردو کے تنقیدی منظر نامے پر ایک دیرپا اور ان مٹ نقش ثابت ہوگی کیونکہ انہوں نے تحقیق کو محض بے جان اعداد و شمار اور خشک حوالوں تک محدود نہیں رکھا، بلکہ اسے ایک جیتی جاگتی "تہذیبی و ثقافتی سرگرمی" میں بدل دیا ہے۔ مصنف کا ایقان ہے کہ شوکت تھانوی کی تحریروں میں غالب کی طرح وہ ہمہ گیریت اور آفاقیت موجود ہے جو انہیں ہر آنے والے عہد کے قاری کے لیے تروتازہ رکھتی ہے۔ وہ واضح کرتے ہیں کہ جس طرح غالب نے انسانی وجود کے تضادات کو "بازیچہء اطفال" قرار دے کر مسترد کیا، اسی طرح شوکت تھانوی نے زندگی کے تلخ المیوں کو طنز کی چاشنی اور ظرافت کا تڑکا لگا کر انسانی برداشت کے قابل بنایا۔

​اس علمی شہ پارے کی ایک نمایاں جہت یہ ہے کہ یہ قاری کو روایتی علمی مرعوبیت اور تقلیدی خوف سے نجات دلا کر ایک نکھرا ہوا، صیقل شدہ اور خود اعتماد تنقیدی شعور و وجدان عطا کرتی ہے۔ پروفیسر بٹ نے اپنی پوری تحریر میں کہیں بھی مبالغہ آرائی یا بلند بانگ دعووں کا سہارا نہیں لیا، بلکہ ان کا ہر جملہ ٹھوس متنی شواہد اور تحقیقی حوالوں کے آہنی فریم میں جڑا ہوا ہے۔ غالب کی "تخلیقی اڑان" کے جو نقوش انہوں نے شوکت کے افسانوں، ڈراموں اور شاعری میں دریافت کیے ہیں، وہ اردو تنقید کو ایک ایسا روشن آئینہ فراہم کرتے ہیں جس میں روایت اور جدت ایک "زندہ مکالمے" کی صورت میں باہم بغل گیر نظر آتے ہیں۔ 'رنگِ ادب پبلیکیشنز' کی نفاست، دیدہ زیب طباعت اور عرق ریزی بھی تحسین کی مستحق ہے، جنہوں نے اس گراں قدر علمی سرمائے کو اتنے شاندار پیرائے میں پیش کیا۔ یہ کتاب نہ صرف وقیع کتب خانوں کے وقار میں اضافے کا باعث ہے بلکہ ہر اس تشنہ لب طالب علم کے لیے ایک مشعلِ راہ ہے جو ادب کو اس کی روح کے ساتھ سمجھنے کا آرزو مند ہے۔

​حاصلِ کلام یہ کہ، "غالب اور شوکت تھانوی" ایک ایسی توانا، فکر انگیز اور معتبر دستاویز ہے جو پروفیسر کلیم احسان بٹ کے علمی مرتبے اور تنقیدی قد کاٹھ پر مہرِ تصدیق ثبت کرتی ہے۔ انہوں نے یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں کر دی ہے کہ جب تک غالب کی فکر کا سورج سوا نیزے پر رہے گا، شوکت تھانوی جیسے بلند پایہ تخلیق کاروں کی تابندگی میں کبھی کمی نہیں آئے گی۔ یہ اشاعت اردو ادب کے علمی و ادبی وقار کا اثاثہ ہے اور اسے بلاشبہ عالمی ادب کے بلند ترین معیارات پر پورا اترنے والی ایک بے مثال کاوش قرار دیا جا سکتا ہے۔ پروفیسر بٹ کی یہ چودھویں تصنیف اردو تنقید کی تاریخ میں ایک ایسے ستارہء سحر کی مانند ابھری ہے، جو آنے والی نسلوں کے لیے فکر و ادراک اور تحقیق و جستجو کے نئے افق سجھاتا رہے گا۔ یہ کالم محض ایک کتاب کا تعارف نہیں، بلکہ اس عمیق شعور کا اعترافِ صمیم ہے جو صدیوں کے فاصلے سمیٹ کر تخلیق کے ابدی اور لافانی رشتوں کو آشکار کرتا ہے۔

کوئی تبصرے نہیں