قومی سلامتی کے معاملات اور سماجی ہم آہنگی میں علماء کرام کا کردار از عدیل اشفاق، اسٹنٹ ڈائریکٹر دفتر امورِ طلبہ، جامع چناب گجرات پاکستان ا...
قومی سلامتی کے معاملات اور سماجی ہم آہنگی میں علماء کرام کا کردار
از عدیل اشفاق، اسٹنٹ ڈائریکٹر دفتر امورِ طلبہ، جامع چناب گجرات
پاکستان اس وقت جن داخلی و خارجی چیلنجز سے نبرد آزما ہے، ان میں قومی سلامتی اور سماجی ہم آہنگی دو ایسے بنیادی ستون ہیں جن کی مضبوطی کے بغیر ریاستی استحکام کا خواب شرمندۂ تعبیر نہیں ہو سکتا۔ دہشت گردی، فکری انتشار، فرقہ واریت، سوشل میڈیا پر نفرت انگیزی اور عالمی سطح پر بدلتے ہوئے بیانیے نے ہمارے معاشرے کو ایک نازک دوراہے پر لا کھڑا کیا ہے۔ ایسے میں علماء کرام کا کردار محض مذہبی رہنمائی تک محدود نہیں رہتا بلکہ وہ قومی بیانیے کی تشکیل، فکری اعتدال کے فروغ اور معاشرتی اتحاد کے قیام میں کلیدی حیثیت اختیار کر جاتا ہے۔
تاریخ شاہد ہے کہ برصغیر کی تحریکِ آزادی سے لے کر قیامِ پاکستان تک علماء نے نہ صرف نظریاتی رہنمائی فراہم کی بلکہ عوام میں اتحاد و یقین کی ایسی روح پھونکی جس نے ناممکن کو ممکن بنا دیا۔ آج بھی یہی طبقہ مساجد، مدارس، جامعات اور عوامی اجتماعات کے ذریعے لاکھوں افراد تک براہِ راست رسائی رکھتا ہے۔ اگر یہ رسائی مثبت قومی بیانیے، برداشت، قانون کی پاسداری اور ریاستی اداروں پر اعتماد کے فروغ کے لیے بروئے کار لائی جائے تو قومی سلامتی کے تقاضوں کو عوامی سطح پر تقویت مل سکتی ہے۔
سماجی ہم آہنگی کے حوالے سے علماء کرام کا کردار اس لیے بھی اہم ہے کہ ہمارا معاشرہ مذہبی جذبات سے گہرا تعلق رکھتا ہے۔ جب منبر و محراب سے اخوت، رواداری، بین المسالک احترام اور بین المذاہب مکالمے کی بات ہوگی تو معاشرتی تناؤ میں واضح کمی آ سکتی ہے۔ فرقہ واریت کے خاتمے اور نوجوان نسل کو انتہا پسندی سے دور رکھنے کے لیے معتدل دینی فکر کا فروغ ناگزیر ہے۔ یہاں علماء کرام ایک فکری ڈھال کا کردار ادا کر سکتے ہیں جو نوجوانوں کو شدت پسند بیانیوں کے اثر سے محفوظ رکھے۔
قومی سلامتی کا ایک اہم پہلو فکری سلامتی بھی ہے۔ جدید دور میں جنگیں صرف سرحدوں پر نہیں بلکہ نظریات، معلومات اور بیانیوں کی سطح پر بھی لڑی جا رہی ہیں۔ بیرونی قوتیں سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے معاشروں میں تقسیم پیدا کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔ اس تناظر میں علماء کرام اگر ڈیجیٹل میدان میں مؤثر اور ذمہ دارانہ موجودگی اختیار کریں، مستند علمی دلائل کے ساتھ غلط فہمیوں کا ازالہ کریں اور نوجوانوں کو تنقیدی سوچ کی تربیت دیں تو یہ قومی مفاد کی بڑی خدمت ہوگی۔
مزید برآں، ریاستی اداروں اور علماء کے درمیان باہمی اعتماد اور تعاون کا فروغ بھی وقت کی اہم ضرورت ہے۔ قومی پالیسی سازی میں علماء کی مشاورت، امن کمیٹیوں میں ان کی شمولیت اور تعلیمی اداروں میں مشترکہ آگاہی پروگرام معاشرتی ہم آہنگی کو مضبوط بنا سکتے ہیں۔ جامعات خصوصاً اس حوالے سے پل کا کردار ادا کر سکتی ہیں جہاں دینی و عصری علوم کے درمیان مکالمہ فروغ پا کر ایک متوازن قیادت کو جنم دے۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ علماء کرام پر ذمہ داری کے ساتھ احتساب کی بھی ضرورت ہے۔ نفرت انگیز تقاریر، غیر مصدقہ فتوے یا سیاسی مفادات کے لیے مذہب کے استعمال سے نہ صرف سماجی انتشار بڑھتا ہے بلکہ قومی سلامتی کو بھی خطرات لاحق ہوتے ہیں۔ لہٰذا علمی دیانت، قومی مفاد کو مقدم رکھنے کی روایت اور آئینی حدود کا احترام وہ اصول ہیں جن پر عمل کر کے علماء اپنا وقار اور اثر مزید مؤثر بنا سکتے ہیں۔
آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ قومی سلامتی محض عسکری قوت کا نام نہیں بلکہ ایک مربوط سماجی، فکری اور اخلاقی نظام کا تقاضا کرتی ہے۔ علماء کرام اگر اپنی روایتی حکمت، دینی بصیرت اور عصری شعور کو یکجا کر کے معاشرے میں اتحاد، امید اور اعتدال کا پیغام عام کریں تو پاکستان نہ صرف داخلی طور پر مضبوط ہوگا بلکہ عالمی سطح پر بھی ایک معتدل اور پرامن اسلامی ریاست کے طور پر اپنی شناخت

کوئی تبصرے نہیں