Page Nav

HIDE

تازہ ترین خبر:

latest

قبائلی علاقوں میں آج بھی قانون کی بجائے جرگہ حکمران

  فاٹا کو خبیر پختوانخواہ کا حصہ بنے پانچ سال گزرنے کے باوجود ماضی کے قبائلی علاقوں میں آج بھی روایتی جرگوں سے ہی کام چلایا جارہا ہے ،غیر مل...

 


قبائلی علاقوں میں آج بھی قانون کی بجائے جرگہ حکمران

فاٹا کو خبیر پختوانخواہ کا حصہ بنے پانچ سال گزرنے کے باوجود ماضی کے قبائلی علاقوں میں آج بھی روایتی جرگوں سے ہی کام چلایا جارہا ہے ،غیر ملکی نشریاتی ادارے کے مطابق 2018 میں 25 ویں آئینی ترمیم  کے زریعہ قبائلی علاقوں کو خبیر پختوانخواہ میں ضم کرتےہوئے ملک کے دیگر حصوں میں رائج قوانین کا یہاں اطلاق کرنے کا اعلان کیا گیا مگر عملا خاطر خواہ پیش رفت نہ ہوسکئی ، قبائلی علاقوں کے عوام آج بھی بنیادی ضروریات زندگی سے محروم ہیں، بتایا گیا ہےکہ روایتی جرگوں کی مقبولیت کی ایک وجہ یہ  ہے کہ اس کے زریعہ لوگوں کو فوری اور سستا انصاف میسر ہے ، دوسری جانب ماضی کی طرح  جرگوں کے فیصلے کی روشنی میں لوگوں کو جرمانے اور سزا کے طور پر ان کے گھر مسمار کرنے کا سلسلہ بھی جاری وساری ہے 

کوئی تبصرے نہیں