Page Nav

HIDE

تازہ ترین خبر:

latest

​تحریر: عاصم نواز طاہرخیلی (غازی/ہری پور)

جوتا معتبر، کتاب بے گھر ​تحریر: عاصم نواز طاہرخیلی (غازی/ہری پور) اس عہدِ زبوں حالی میں جہاں مادیت کی چکا چوند نے بصارتوں کو چھین لیا ہو، وہ...

جوتا معتبر، کتاب بے گھر

​تحریر: عاصم نواز طاہرخیلی (غازی/ہری پور)


اس عہدِ زبوں حالی میں جہاں مادیت کی چکا چوند نے بصارتوں کو چھین لیا ہو، وہاں بصیرت کا قحط پڑنا کوئی تعجب کی بات نہیں۔ آج جب ہم اپنے شہروں کے بازاروں میں نکلتے ہیں تو ایک ایسا تضاد سینہ چاک کر دیتا ہے جو کسی بھی زندہ قوم کے لیے لمحہ فکریہ نہیں بلکہ "لمحہِ خودکشی" ہے۔ ایک طرف وہ مخملی دکانیں اور شیشے کے وہ ایئر کنڈیشنڈ شوکیس ہیں جہاں چمڑے کے بے جان ٹکڑوں یعنی جوتوں کو اتنی توقیر اور روشنی کے ساتھ سجا کر رکھا گیا ہے جیسے وہ انسانیت کا آخری تمغہ ہوں۔ دوسری طرف، اسی بازار کی نکڑ پر، تعفن اٹھاتے کوڑے کے ڈھیر پر وہ کتابیں اپنی بے حرمتی کا نوحہ پڑھتی دکھائی دیتی ہیں جن کے اندر کائنات کے سربستہ راز اور زندگی گزارنے کا ڈھنگ چھپا تھا۔ یہ منظر محض ایک سماجی بے اعتدالی نہیں ہے، بلکہ یہ اس قوم کے شعور کا جنازہ ہے جس نے پاؤں میں پہننے والی چیز کو سر کا تاج بنا لیا اور سر کی بلندی کا سبب بننے والی شے کو قدموں تلے روند دیا۔

​موجودہ دور کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ ہم نے "فیشن" کو جلیل اور "علم" کو ذلیل کر دیا ہے۔ جوتے بیچنے والے اس نفسیات سے بخوبی واقف ہیں کہ اس ہجوم کو اب صرف چلنا ہے، سوچنا نہیں؛ اسے صرف نظر آنا ہے، ہونا نہیں ہے۔ اسی لیے انہوں نے جوتوں کی نمائش کے لیے ایوان سجا دیے، مگر کتاب بیچنے والے شاید یہ بھول گئے کہ جس قوم کا رشتہ فکر سے ٹوٹ جائے، اس کی منزل صرف بھٹکنا رہ جاتی ہے۔ یہ فکری پستی اس قدر گہری ہو چکی ہے کہ ہم نے اپنے بچوں کے ہاتھ میں کتاب کی جگہ موبائل اور برانڈڈ جوتوں کے خواب تھما دیے۔ ہم نے انہیں یہ تو سکھایا کہ جوتے کی چمک کیسے برقرار رکھنی ہے، مگر یہ بتانا بھول گئے کہ ذہن کی شمع کیسے روشن کی جاتی ہے۔ قرآنِ پاک کی وہ آیتِ مبارکہ جس کا مفہوم ہے کہ "کیا علم والے اور بے علم برابر ہو سکتے ہیں؟" آج ہمارے بازاروں میں چیخ چیخ کر ہمیں اپنی منافقت کا آئینہ دکھا رہی ہے۔ ہم نے ظاہری نمود و نمائش کو اپنا قبلہ بنا لیا اور اس حقیقی روشنی سے منہ موڑ لیا جو ہمیں پستیوں سے نکال کر ثریا تک پہنچا سکتی تھی۔

​حکایت بیان کی جاتی ہے کہ ایک قدیم بادشاہ نے اپنے وزیر سے پوچھا کہ "کسی قوم کو بغیر تلوار کے کیسے تباہ کیا جا سکتا ہے؟" وزیر نے جواب دیا "ان کے جوانوں کے ہاتھ سے کتاب چھین لو اور ان کے دلوں میں ظاہری سجاوٹ کی ہوس بھر دو، وہ قوم خود اپنے ہاتھوں اپنی قبر کھود لے گی۔" آج ہم اسی نقشے پر کھڑے ہیں۔ ہمارے بازار تو جگمگا رہے ہیں مگر ہمارے دماغ اندھیروں کی آماجگاہ بن چکے ہیں۔ ہم نے پاؤں کی حفاظت کے لیے تو بیش قیمت قلعے (شوکیس) تعمیر کر لیے، مگر ذہن کی حفاظت کے لیے کوئی محراب نہ بنائی۔ یہی وجہ ہے کہ آج کا انسان مہنگے ترین جوتے پہن کر بھی غلط سمت میں گامزن ہے، کیونکہ رہنمائی کے چراغ تو اس نے کچرے کے ڈھیر پر پھینک دیے ہیں۔ یہ المیہ اس وقت مزید سنگین ہو جاتا ہے جب ہم دیکھتے ہیں کہ معاشرہ ذہانت کے بجائے دولت کو اور کردار کے بجائے برانڈ کو سلام کرتا ہے۔

​اقبال نے برسوں پہلے اس فکری کج روی پر متنبہ کیا تھا کہ:

مگر وہ علم کے موتی، حجاز و چین و ایراں میں

جو دیکھے ان کو مغرب میں تو دل ہوتا ہے پارہ

​افسوس کہ آج ہم نے وہ موتی خود اپنے ہاتھوں سے کوڑے دان کی نذر کر دیے۔ جب کتاب کچرے پر پڑی ہوتی ہے تو اس کا مطلب صرف یہ نہیں ہوتا کہ میونسپلٹی کا عملہ ناکام ہے، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس قوم کی ترجیحات میں علم کی اوقات کچرے سے زیادہ نہیں۔ ہم نے اپنی نسلوں سے سوچنے کا سلیقہ چھین کر انہیں صرف "صارف" (Consumer) بنا دیا ہے۔ وہ صرف برانڈز کے نام جانتے ہیں، وہ نظریات کی خوشبو سے ناواقف ہیں۔ وہ جوتے کی سلائی پر تو گھنٹوں بحث کر سکتے ہیں، مگر کتاب کے ایک صفحے پر غور کرنے کی ہمت نہیں رکھتے۔ یہ زوال تہذیبوں کو اندر سے دیمک کی طرح چاٹ جاتا ہے اور پھر ایسی قومیں تاریخ کے صفحات سے مٹ جایا کرتی ہیں۔

​حدیثِ نبوی ﷺ کا مفہوم ہے کہ "علم مومن کی گمشدہ میراث ہے"، مگر ہم نے اس میراث کو اتنی بے دردی سے ٹھکرایا کہ اب ہمیں اپنی پہچان کے لیے کتاب کے سہارے کی ضرورت نہیں رہی، بلکہ ہم "برانڈڈ لائف اسٹائل" کے پیچھے اپنی اوقات ڈھونڈ رہے ہیں۔ یہ منظر چیخ چیخ کر کہہ رہا ہے کہ یہاں دماغ سے زیادہ قدموں کی قیمت ہے، یہاں سوچ سے زیادہ فیشن کا رتبہ ہے۔ اگر آج بھی اس کربناک صورتحال نے ہمارے ضمیروں کو جھنجھوڑا نہیں، تو یقین جانیے کہ آنے والے وقت میں کچرے کے ان ڈھیروں پر صرف ردی کتابیں نہیں ہوں گی، بلکہ وہاں ہماری پوری تہذیب، ہماری عقل اور ہمارا قومی وقار دفن ہو چکا ہو گا۔ ماتم تو اس سوچ پر ہے جو لفظوں کے چراغ بجھا کر شیشے کی چمک پر فخر کرتی ہے، کیونکہ جہاں لفظ مر جاتے ہیں وہاں وحشتیں جنم لیتی ہیں۔ اب بھی وقت ہے کہ ہم اپنے شوکیسوں سے جوتے نکال کر انہیں پاؤں میں اور کچرے سے کتابیں اٹھا کر انہیں اپنے سروں اور دلوں میں جگہ دیں، ورنہ یاد رکھیں کہ وہ قوم کبھی سر اٹھا کر نہیں جی سکتی جس نے سر کو سجدہ گاہِ علم بنانے کے بجائے جوتوں کا اسیر کر لیا ہو

 

کوئی تبصرے نہیں