Page Nav

HIDE

تازہ ترین خبر:

latest

شاہد نسیم چوہدری کالم

  شاہد نسیم چوہدری  ٹارگٹ 0300-6668477 ------------------------------------  25 دسمبر: فکر جناح اور پیغام عیسی مبارک ہو  25 دسمبر محض ایک تا...

 





شاہد نسیم چوہدری  ٹارگٹ

0300-6668477

------------------------------------



 25 دسمبر: فکر جناح اور پیغام عیسی مبارک ہو 


25 دسمبر محض ایک تاریخ نہیں، یہ پاکستان کی فکری بنیاد، قومی شناخت اور انسانی رواداری کی علامت ہے۔ یہ وہ دن ہے جب برصغیر کے مسلمانوں کو ایک ایسے رہنما کی ولادت نصیب ہوئی جس نے منتشر قوم کو ایک نصب العین دیا، غلامی کے اندھیروں میں آزادی کی شمع روشن کی اور دنیا کے نقشے پر ایک نئی ریاست کے قیام کو ممکن بنایا۔ یہ دن بانیٔ پاکستان قائداعظم محمد علی جناحؒ کی پیدائش کا دن ہے، اور ساتھ ہی دنیا بھر میں حضرت عیسیٰؑ کی ولادت کی خوشی بھی اسی تاریخ سے منسوب ہے۔ یوں 25 دسمبر تاریخ، نظریہ اور تہذیبی ہم آہنگی کا حسین امتزاج بن جاتا ہے۔

قائداعظم محمد علی جناحؒ کی شخصیت محض ایک سیاسی قائد کی نہیں تھی، وہ ایک نظریہ تھے۔ ایک ایسا نظریہ جو قانون کی حکمرانی، آئین کی بالادستی، مذہبی آزادی اور سماجی انصاف پر قائم تھا۔ 25 دسمبر ہمیں یاد دلاتا ہے کہ پاکستان کسی حادثے کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک طویل جدوجہد، بے مثال قربانیوں اور غیر متزلزل عزم کا حاصل ہے۔ یہ وہ دن ہے جو ہمیں سوال کرنے پر مجبور کرتا ہے: کیا ہم اس نظریے کے ساتھ وفادار ہیں جس کے لیے یہ ملک وجود میں آیا؟

قائداعظمؒ کی زندگی کا مطالعہ کیا جائے تو ایک بات نمایاں ہو کر سامنے آتی ہے—اصول پسندی۔ انہوں نے سیاست کو وقتی مفادات کے تابع نہیں کیا بلکہ اصولوں کی بنیاد پر فیصلے کیے۔ ان کی جدوجہد کا محور طاقت نہیں، حق تھا۔ وہ جانتے تھے کہ قومیں نعروں سے نہیں بلکہ کردار سے بنتی ہیں۔ آج 25 دسمبر ہمیں اسی کردار کی طرف پلٹنے کی دعوت دیتا ہے۔

یہ دن ہمیں مذہبی ہم آہنگی کا سبق بھی دیتا ہے۔ حضرت عیسیٰؑ کی ولادت کا دن اور قائداعظمؒ کی پیدائش ایک ہی تاریخ کو آنا محض اتفاق نہیں، بلکہ ایک علامت ہے—امن، محبت اور برداشت کی علامت۔ قائداعظمؒ نے واضح الفاظ میں کہا تھا کہ ریاست کا مذہب سے کوئی تعلق نہیں، اور ہر شہری اپنے عقیدے کے مطابق زندگی گزارنے میں آزاد ہے۔ یہ پیغام آج پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہے، جب دنیا نفرت، تقسیم اور عدم برداشت کی لپیٹ میں ہے۔

بدقسمتی سے ہم نے 25 دسمبر کو اکثر رسمی تقریبات، تقاریر اور تعطیل تک محدود کر دیا ہے۔ اصل سوال یہ نہیں کہ ہم نے کتنے بینر لگائے یا کتنی تقاریر کیں، بلکہ یہ ہے کہ ہم نے قائداعظمؒ کے افکار کو اپنی عملی زندگی میں کتنا جگہ دی۔ کیا ہم قانون کا احترام کرتے ہیں؟ کیا ہم اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ کرتے ہیں؟ کیا ہم دیانت داری، محنت اور نظم وے ضبط کو اپنی قومی ترجیحات میں شامل کرتے ہیں؟ اگر جواب نفی میں ہے تو پھر 25 دسمبر ہمیں خود احتسابی کا موقع فراہم کرتا ہے۔

یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ قائداعظمؒ نے ایک ایسے پاکستان کا خواب دیکھا تھا جہاں انصاف کمزور کے ساتھ کھڑا ہو، جہاں ریاست شہریوں کی جان و مال کی محافظ ہو، اور جہاں اختلاف رائے کو غداری نہ سمجھا جائے۔ آج جب ہم معاشی مشکلات، سیاسی انتشار اور سماجی بے یقینی کا سامنا کر رہے ہیں تو 25 دسمبر ہمیں واپس اسی سرچشمے کی طرف لے جاتا ہے جہاں سے ہماری قومی سوچ نے جنم لیا تھا۔

25 دسمبر نئی نسل کے لیے بھی ایک پیغام ہے۔ یہ دن صرف ماضی کی یاد نہیں بلکہ مستقبل کی ذمہ داری ہے۔ نوجوانوں کو یہ سمجھنا ہوگا کہ پاکستان کسی فرد یا جماعت کی جاگیر نہیں، بلکہ ایک امانت ہے—وہ امانت جسے قائداعظمؒ نے ہمیں سونپی۔ اس امانت کی حفاظت تعلیم، کردار، برداشت اور قانون کی پاسداری سے ہی ممکن ہے۔

آخر میں، 25 دسمبر ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ قومیں دن منانے سے نہیں بلکہ دن کے پیغام کو جینے سے بنتی ہیں۔ اگر ہم واقعی قائداعظمؒ کو خراجِ عقیدت پیش کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں ان کے افکار کو اپنے عمل کا حصہ بنانا ہوگا۔ یہی 25 دسمبر کی اصل روح ہے، اور یہی پاکستان کے روشن مستقبل کی ضمانت بھی۔

آج کا دن ہمیں ایک ساتھ دو عظیم پیغامات عطا کرتا ہے—ایک قیادت کا، دوسرا محبت کا۔ قومِ پاکستان کو بانیٔ پاکستان قائداعظم محمد علی جناحؒ کے یومِ پیدائش کی دلی مبارکباد، جن کی فکر نے ہمیں شناخت دی، جن کے عزم نے ہمیں وطن دیا، اور جن کے اصول آج بھی ہمارے لیے چراغِ راہ ہیں۔ یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ پاکستان صرف ایک خطۂ زمین نہیں بلکہ ایک نظریہ ہے، جس کی بنیاد قانون، انصاف، دیانت اور مذہبی آزادی پر رکھی گئی تھی۔ اگر ہم اس نظریے کو اپنائیں تو یہی قائداعظمؒ کے حضور سب سے بڑا خراجِ عقیدت ہوگا۔

اسی دن ہم اپنے مسیحی بہن بھائیوں کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ولادت کی بھی دلی مبارکباد پیش کرتے ہیں—وہ نبیِ امن، محبت اور درگزر، جن کا پیغام انسانیت کو جوڑنے، دلوں کو نرم کرنے اور نفرت کے اندھیروں میں امید کی روشنی بانٹنے کا درس دیتا ہے۔ حضرت عیسیٰؑ کی تعلیمات ہمیں یاد دلاتی ہیں کہ طاقت معافی میں، عظمت خدمت میں اور کامیابی محبت میں پوشیدہ ہے۔

یوں 25 دسمبر ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ قومیں تب مضبوط ہوتی ہیں جب وہ اختلاف کے باوجود ایک دوسرے کا احترام کرتی ہیں۔ یہ دن ہم سب کے لیے دعا ہے کہ ہم ایک ایسی ریاست اور معاشرہ تشکیل دیں جہاں قائداعظمؒ کے خواب اور حضرت عیسیٰؑ کے پیغام—دونوں زندہ ہوں، اور پاکستان امن، برداشت اور باہمی احترام کی روشن مثال بنے۔ یہی فکر جناح اور پیغام عیسی ہے۔۔۔۔

25 دسمبر مبارک—ایک دن، ایک نظریہ، ایک قومی ذمہ داری۔

کوئی تبصرے نہیں