بھارتی ریاست اتر پردیش کی ایک عدالت نے اپنے کمسن بیٹے کو قتل کرنے کے جرم میں ایک خاتون کو عمر قید کی سزا سنا دی ہے۔ عدالت کے مطابق ملزمہ ن...
بھارتی ریاست اتر پردیش کی ایک عدالت نے اپنے کمسن بیٹے کو قتل کرنے کے جرم میں ایک خاتون کو عمر قید کی سزا سنا دی ہے۔ عدالت کے مطابق ملزمہ نے اپنے ذاتی مفاد اور خوف کے باعث انتہائی سنگدلانہ قدم اٹھایا۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق سزا پانے والی خاتون جیوتی راٹھور، پولیس کانسٹیبل دھیان سنگھ راٹھور کی اہلیہ ہے۔ استغاثہ کا مؤقف تھا کہ جیوتی کے اپنے پڑوسی اُدی اندولیا کے ساتھ ناجائز تعلقات تھے، جن سے پردہ فاش ہونے کے خدشے نے اسے اس ہولناک جرم پر آمادہ کیا۔
عدالتی ریکارڈ کے مطابق جیوتی کے پانچ سالہ بیٹے جتن نے اپنی ماں کو قابلِ اعتراض حالت میں دیکھ لیا تھا۔ ملزمہ کو اندیشہ تھا کہ بچہ یہ بات اپنے والد کو بتا دے گا، جس سے اس کے راز کھل جانے کا امکان تھا۔ اسی خوف کے زیرِ اثر جیوتی نے اپنے ہی بیٹے کو دو منزلہ عمارت کی چھت سے نیچے دھکا دے دیا۔
واقعے کے نتیجے میں جتن شدید زخمی ہوا اور اسپتال منتقل کیے جانے کے باوجود 24 گھنٹوں کے اندر دم توڑ گیا۔ ابتدائی طور پر ملزمہ نے واقعے کو ایک حادثہ قرار دیا اور پولیس کو گمراہ کرنے کی کوشش کی۔
تاہم تفتیش کے دوران معاملے میں شکوک پیدا ہوئے اور بالآخر واقعے کے تقریباً 15 دن بعد جیوتی نے اپنے شوہر کے سامنے جرم کا اعتراف کر لیا، جس کے بعد پولیس نے کیس مضبوط شواہد کے ساتھ عدالت میں پیش کیا۔
عدالت نے تمام شواہد اور اعترافی بیان کی روشنی میں جیوتی راٹھور کو قصوروار قرار دیتے ہوئے عمر قید کی سزا سنا دی۔ فیصلے کے بعد عدالتی حلقوں نے اس واقعے کو معاشرتی اقدار کے زوال اور خاندانی نظام کے لیے ایک المناک مثال قرار دیا ہے۔

کوئی تبصرے نہیں