Page Nav

HIDE

تازہ ترین خبر:

latest

لوح وقلم 8 جنوری 2026

دفاعی برآمدات کی پذائری اور آئی ایم ایف سے نجات از۔۔۔ ظہیرالدین بابر    پاکستانی عوام کے لیے یہ خبر خوشخبری سےکم نہیں کہ پاکستان کی دفاعی بر...


دفاعی برآمدات کی پذائری اور آئی ایم ایف سے نجات

از۔۔۔ ظہیرالدین بابر

 

 پاکستانی عوام کے لیے یہ خبر خوشخبری سےکم نہیں کہ پاکستان کی دفاعی برآمدات بڑی تیزی سے مشرق وسطی ہی نہیں دیگر ممالک میں یوں پذائری حاصل کررہی ہیں کہ آئندہ چھ ماہ  میں آئی ایم ایف پروگرام سے باہ آنے کی سبیل پیدا ہوسکتی ہے ، درحقیقت اس امید کی ایک وجہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ممکنہ طور پر ہونے والے 4 ارب ڈالرز کے دفاعی معاہدہ ہے جس کی جانب دونوں ممالک تیزی سے بڑھ رہے ہیں، اس ضمن میں باخبر زرائع کا دعوی ہےکہ  پاکستان سعودی عرب کو دو ارب ڈالر کےجے ایف 17 جنگی طیارے جبکہ دو ارب ڈالر کا دیگر دفاعی سازوسامان دے گا، یاد رہے کہ پاکستان اور سعودی عرب میں دفاعی معاہدہ گذشتہ سال  اسرائیل کی جانب سے قطر کے درالحکومت دوحا میں ہونے والے حملہ کے بعد ہوا جس نے عملا خلیجی ممالک کو ہلا کردکھ دیا ، خوش آئند یہ ہے کہ پاکستان کی دفاعی برآمدات کی مانگ محض سعودی عرب تک ہی محدود نہیں بلکہ  حال ہی میں پاکستان نے لیبیا کو  چار ارب ڈالر کے دفاعی ساز وسامان دینے کا معاہدہ کیا ہے جس میں جے ایف 17 تھنڈرطیارے سمیت دیگر جنگی سازوسامان بھی شامل ہے ،زرائع کا کہنا ہے کہ بنگہ دیش کے ائر چیف کا حالیہ  دورہ پاکستان کو ایسے ہی پس منظر میں دیکھا جارہاہے ، اس ضمن میں وفاقی وزیر دفاع کا غیر ملکی نشریاتی ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے یہ کہنا اہم ہے کہ کم وبیش 6 ممالک کے ساتھ دفاعی سازوسامان کی فروخت کرنے بارے پاکستان کی بات چیت جاری ہے ،ان کے بعقول دوست ممالک کے ساتھ یہ معاہدے اگر پایہ تکیمل تک پہنچ جاتے ہیں کہ تو کم وبیش 6 ماہ میں ہمیں آئی ایم ایف سے قرض لینے ک ضرورت نہیں رہے گی ، 

 

کوئی تبصرے نہیں