Page Nav

HIDE

تازہ ترین خبر:

latest

بھارت اور یورپی یونین میں تاریخی معاہدہ

  بھارت اور یورپی یونین کے درمیان تاریخی تجارتی معاہدہ طے دو دہائیوں بعد ’’مدر آف آل ڈیلز‘‘ پر اتفاق، عالمی معیشت پر گہرے اثرات متوقع نئی دہ...

 




بھارت اور یورپی یونین میں تاریخی معاہدہ


بھارت اور یورپی یونین کے درمیان تاریخی تجارتی معاہدہ طے

دو دہائیوں بعد ’’مدر آف آل ڈیلز‘‘ پر اتفاق، عالمی معیشت پر گہرے اثرات متوقع

نئی دہلی / برسلز:
بھارت اور یورپی یونین کے درمیان ایک طویل عرصے سے زیرِ التوا آزاد تجارتی معاہدہ (Free Trade Agreement) بالآخر طے پا گیا ہے، جسے عالمی مبصرین نے ’’مدر آف آل ڈیلز‘‘ کا نام دیا ہے۔ اس تاریخی معاہدے کے ذریعے دونوں فریقین کے درمیان تجارتی، صنعتی اور سرمایہ کاری تعلقات ایک نئے دور میں داخل ہو گئے ہیں۔

ذرائع کے مطابق یہ معاہدہ تقریباً 20 سالہ مذاکرات کے بعد مکمل ہوا ہے، جس کا مقصد دو طرفہ تجارت میں رکاوٹوں کا خاتمہ، محصولات (ٹیرف) میں نمایاں کمی اور سرمایہ کاری کے فروغ کو یقینی بنانا ہے۔ اس معاہدے کے تحت دونوں جانب سے بیشتر مصنوعات پر ٹیرف مرحلہ وار ختم یا کم کر دیے جائیں گے۔

معاہدے کے اہم نکات کے مطابق یورپی یونین کو بھارتی منڈی میں گاڑیوں، مشینری، الکوحل مشروبات، ادویات اور کیمیکلز کی برآمدات میں نمایاں سہولت حاصل ہوگی، جبکہ بھارت کو ٹیکسٹائل، زرعی مصنوعات، چمڑے، آئی ٹی سروسز اور ہنرمند افرادی قوت کے شعبوں میں یورپی منڈیوں تک بہتر رسائی ملے گی۔

یورپی یونین کی قیادت کا کہنا ہے کہ یہ معاہدہ یورپی برآمدات کو آئندہ چند برسوں میں نمایاں طور پر بڑھا دے گا، جبکہ بھارتی حکام کے مطابق اس ڈیل سے ملازمتوں کے نئے مواقع، غیر ملکی سرمایہ کاری میں اضافہ اور معاشی استحکام پیدا ہوگا۔

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے معاہدے کو تاریخی سنگِ میل قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ سمجھوتہ بھارت کو عالمی سپلائی چین میں مزید مضبوط مقام دلائے گا۔ دوسری جانب یورپی یونین کی صدر ارسولا وان ڈیر لیین کے مطابق یہ معاہدہ نہ صرف اقتصادی بلکہ اسٹریٹجک شراکت داری کو بھی نئی جہت دے گا۔

ماہرین کے مطابق ایسے وقت میں یہ معاہدہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے جب دنیا کو سیاسی عدم استحکام، تجارتی تحفظ پسندی اور معاشی سست روی جیسے چیلنجز کا سامنا ہے۔ بھارت اور یورپی یونین کا یہ اشتراک عالمی تجارت میں توازن پیدا کرنے میں بھی کردار ادا کر سکتا ہے۔

معاہدے پر باضابطہ دستخط اور عملی نفاذ آئندہ چند ماہ میں متوقع ہے، جس کے بعد اس کے اثرات نہ صرف ایشیا اور یورپ بلکہ عالمی معیشت پر بھی نمایاں ہوں گے

کوئی تبصرے نہیں