خیال و خواب ہوئی ہیں محبتیں کیسی تحریر: عاصم نواز خان طاہرخیلی آج کی اس مشینی زندگی میں جب ہم تھک ہار کر ماضی کے دریچوں کی طرف دیکھتے ہیں، ...
خیال و خواب ہوئی ہیں محبتیں کیسی
تحریر: عاصم نواز خان طاہرخیلی
آج کی اس مشینی زندگی میں جب ہم تھک ہار کر ماضی کے دریچوں کی طرف دیکھتے ہیں، تو ایک عجیب سا سکون قلب کو چھو کر گزرتا ہے۔ وہ دور جہاں "محبت" محض ایک لفظ نہیں بلکہ ایک مکمل طرزِ زندگی تھی، جہاں رشتے موبائل کی سکرینوں پر نہیں بلکہ آنگنوں کی دھوپ میں پروان چڑھتے تھے۔ آج کے اس تیز رفتار عہد میں وہ پرانا خلوص، وہ سادگی اور وہ اپنائیت واقعی "خیال و خواب" معلوم ہوتی ہے۔
فارس کے کسی حکیم کا قول ہے کہ "گھر کی بنیادیں اینٹوں پر نہیں، بزرگوں کی دعاؤں پر ٹکی ہوتی ہیں۔" ماضی کا وہ "خالص زمانہ" دراصل ان بزرگ ہستیوں کے دم قدم سے تھا جن کے وجود سے گھروں میں برکتیں رقص کرتی تھیں۔ ہماری دادیاں اور نانیاں گھر کا وہ مضبوط ستون تھیں جن کے گرد پورا خاندان ایک تسبیح کے دانوں کی طرح پرویا رہتا تھا۔ ان کے سفید دوپٹوں کی خوشبو میں وہ تقدس تھا جو اجنبیوں کو بھی اپنوں کی فہرست میں شامل کر لیتا تھا۔
وہ سادگی کی انتہا تھی کہ جب دوپہر کے وقت لکڑی کے تخت پر بیٹھ کر مکئی کی روٹی، لسی کا گلاس اور گھر کا بنا ہوا اچار چٹنی دسترخوان کی زینت بنتے تھے، تو وہ ذائقہ شاہی ضیافتوں کو مات دے دیتا تھا۔ کبھی کچے پیاز اور کبھی تندوری روٹی کے ساتھ انڈہ ٹماٹر کا وہ سادہ سا سالن پورے گھر کی بھوک مٹا دیتا تھا، کیونکہ اس میں "خلوص" کا تڑکا لگا ہوتا تھا۔ کچی دیواروں کے ساتھ قطار میں رکھے وہ مٹی کے گھڑے جن کا ٹھنڈا پانی پیاس ہی نہیں، روح کو بھی سیراب کر دیتا تھا، آج کے فلٹر پلانٹس سے کہیں بہتر تھے۔
مجھے یاد ہے وہ "اگی والا اندر" جہاں سردیوں کی طویل راتوں میں انگیٹھی کے گرد بیٹھ کر قصے کہانیاں سنائی جاتی تھیں۔ وہ دہکتے کوئلے اور ان پر پکتا قہوہ محض تپش نہیں، بلکہ خاندان کے جڑے رہنے کی علامت تھا۔ تب کے میلے بھی کیا خوب تھے! گاؤں سے دور میلوں پیدل چل کر جانا، مٹی کے کھلونے خریدنا اور گڑ والی ریوڑیوں کا وہ ذائقہ—یہ سب خوشیاں سستی تھیں مگر ان کی قیمت آج کے کروڑوں روپے کے مالز سے کہیں زیادہ تھی۔
اس دور میں دروازے صرف لکڑی کے نہیں ہوتے تھے، بلکہ وہ ہمسائیوں کے لیے ہمیشہ کھلے رہنے والے دلوں کے استعارے تھے۔ کسی کے گھر مہمان آتا تو پورے محلے میں رونق ہو جاتی۔ دیواریں چھوٹی تھیں مگر حوصلے بلند تھے۔ آج ہم نے دیواریں تو آسمان تک پہنچا دیں مگر پڑوسی کے حال سے بے خبر ہو گئے۔ بقول منیر نیازی:
کج شہر دے لوگ وی ظالم سن
کج سانوں مرن دا شوق وی سی
تب عیدیں اور شادیاں محض تقریبات نہیں بلکہ پورے خاندان کے میلے ہوتے تھے۔ عید پر ملنے والی وہ "چونی اٹھنی" اور مہندی لگی ہتھیلیاں خوشی کا وہ سرور لاتی تھیں جو آج کے مہنگے تحائف میں مفقود ہے۔ شادیوں میں گھر کے آنگن میں ڈھولک کی تھاپ پر گائے جانے والے گیت اور ہفتوں پہلے کی تیاریاں دلوں کو جوڑ دیتی تھیں۔ اور اگر کہیں فوتگی ہو جاتی، تو پورا گاؤں سوگوار ہوتا تھا۔ مہینوں اس گھر کے چولہے پڑوسیوں کے دم سے جلتے تھے، کیونکہ دکھ سانجھے تھے اور درد بانٹنے والے مخلص۔
آج جب بارش ہوتی ہے تو ہم صرف سٹیٹس (Status) لگاتے ہیں، مگر تب بارش کا مطلب کچھ اور تھا۔ وہ مٹی کی سوندھی خوشبو، وہ کچے صحن میں بننے والے تالاب اور پھر ان میں تیرتی ہوئی کاغذ کی کشتیاں—وہ بچپن کی بادشاہت تھی جسے اب کسی بھی قیمت پر خریدا نہیں جا سکتا۔ بقول شاعر:
یہ دولت بھی لے لو، یہ شہرت بھی لے لو
بھلے چھین لو مجھ سے میری جوانی
مگر مجھ کو لوٹا دو بچپن کا ساون
وہ کاغذ کی کشتی، وہ بارش کا پانی
آج ہمارے پاس بڑے گھر تو ہیں مگر صحن غائب ہیں، مہنگے فون تو ہیں مگر گفتگو مفقود ہے۔ ٹیکنالوجی کی اس دوڑ میں ہم نے "کمیونیکیشن" تو سیکھ لی مگر "تعلق" کھو دیا۔ ہم وائی فائی کے سگنلز تو ڈھونڈ لیتے ہیں مگر وہ قلبی رابطے مفقود ہو گئے جو بنا کہے ایک دوسرے کا دکھ سمجھ لیتے تھے۔ اب مائیں موبائل میں مصروف ہیں اور بچے ٹیبلٹ کی مصنوعی دنیا میں قید۔ وہ لوریاں، وہ تھپکیاں اور وہ سینے سے لگ کر کہانیاں سننے کا دور اب خواب ہو گیا ہے۔ کسی دانا کا مشہور مقولہ ہے: "ہم نے مکان تو بڑے بنا لیے، مگر خاندان چھوٹے کر لیے۔" وہ پرانی وضع داری، وہ سانجھے چولہے اور وہ بزرگوں کا سایہ اب صرف یادوں کی دھول میں کہیں دب گیا ہے۔
سچ تو یہ ہے کہ محبتیں اب بھی ہوتی ہیں، مگر ان میں وہ "قدامت" اور وہ "پاکیزگی" نہیں رہی جو روح کو سیراب کرتی تھی۔ کاش! ہم اپنی نئی نسل کو اس پرانے ورثے کی تھوڑی سی جھلک دکھا سکیں، تاکہ انہیں پتا چلے کہ اصل زندگی وہ نہیں جو سکرین پر نظر آتی ہے، بلکہ وہ تھی جو نانی کے آنچل اور دادی کی دعاؤں کے سائے میں گزرا کرتی تھی۔

کوئی تبصرے نہیں