Page Nav

HIDE

تازہ ترین خبر:

latest

دانیال حسن چغتائی کالم

  لیلتہ القدر دانیال حسن چغتائی  رمضان المبارک کا آخری عشرہ اپنی تمام تر رعنائیوں اور برکتوں کے ساتھ سایہ فگن ہے۔ یہ وہ ایام ہیں جن میں مومن...

 



لیلتہ القدر


دانیال حسن چغتائی 


رمضان المبارک کا آخری عشرہ اپنی تمام تر رعنائیوں اور برکتوں کے ساتھ سایہ فگن ہے۔ یہ وہ ایام ہیں جن میں مومنین کی ہمتیں جوان اور روحیں بالیدہ ہوتی ہیں۔ اسی عشرے کی طاق راتوں میں ایک رات ایسی ہے جسے کائنات کی سب سے عظیم رات کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔ وہ رات لیلتہ القدر ہے۔ وہ مبارک گھڑی جس نے انسانیت کی تقدیر بدل دی اور جس کی فضیلت کا اعتراف خود خالقِ کائنات نے قرآن مجید کی ایک پوری سورت سورۃ القدر میں فرمایا۔

لیلتہ القدر کی سب سے بڑی فضیلت یہ ہے کہ اس رات میں اللہ تعالیٰ نے اپنی آخری کتاب، قرآن مجید، کا نزول فرمایا۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:بے شک ہم نے اسے شبِ قدر میں نازل کیا۔

یہ رات نظریاتی انقلاب کا نقطہ آغاز ہے۔ جس طرح مکہ کی تپتی ریت پر غارِ حرا میں جبرائیلِ امیںؑ وحی لے کر اترے، اسی طرح ہر سال یہ رات ہمیں یاد دلاتی ہے کہ ہدایت کا نور ابھی باقی ہے اور جو اس نور سے اپنی زندگی منور کرنا چاہے، اس کے لیے آسمان کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں۔

قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: شبِ قدر ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔ اگر ہم اس کا حسابی تخمینہ لگائیں تو ایک ہزار مہینے تقریباً 83 سال اور 4 ماہ بنتے ہیں۔ یعنی ایک انسان کی اوسطاً پوری زندگی کی عبادت ایک طرف اور اس ایک رات کی بیداری اور توبہ ایک طرف۔ یہ اللہ رب العزت کا اپنے بندوں پر کتنا بڑا احسان ہے کہ اس نے محدود زندگی رکھنے والی امتِ محمدیؐ کو وہ موقع عطا کر دیا جس سے وہ سابقہ امتوں کی طویل عمروں سے بھی زیادہ ثواب سمیٹ سکتے ہیں۔

اس رات کی ایک اور خصوصیت فرشتوں اور روح الامین (حضرت جبرائیلؑ) کا زمین پر اترنا ہے۔ مفسرین فرماتے ہیں کہ اس رات زمین پر فرشتوں کا ہجوم اس قدر ہوتا ہے کہ وہ کنکریوں کی تعداد سے بھی بڑھ جاتے ہیں۔ یہ فرشتے اللہ کے حکم سے خیر و برکت اور سلامتی لے کر اترتے ہیں۔

فجر کے طلوع ہونے تک فضاؤں میں خاص قسم کا سکون اور ٹھنڈک ہوتی ہے۔ یہ سلامتی مادی کے ساتھ روحانی بھی ہے۔ گناہوں سے سلامتی، جہنم کی آگ سے سلامتی اور نفس کے شر سے سلامتی مل جاتی ہے۔ 

حکمتِ الٰہی نے اس عظیم رات کو رمضان کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں پوشیدہ رکھا ہے۔ اگر یہ ایک ہی متعین رات ہوتی تو شاید لوگ صرف اسی رات عبادت کرتے اور باقی ایام غفلت میں گزار دیتے۔ اسے چھپانے کا مقصد یہ ہے کہ بندہ اپنے رب کی جستجو میں تڑپے، تگ و دو کرے اور کم از کم پانچ راتیں خلوصِ دل سے سجدہ ریز رہے۔

آج ہمارے معاشرے میں شبِ قدر کا تصور چراغاں، مٹھائیوں کی تقسیم اور رسمی اجتماع تک محدود ہو کر رہ گیا ہے۔ بلاشبہ مساجد کا آباد ہونا خوش آئند ہے، لیکن اصل مقصد ذات کا احتساب ہے۔

 حضرت عائشہ صدیقہؓ نے رسول اللہؐ سے پوچھا کہ اگر مجھے شبِ قدر مل جائے تو کیا دعا مانگوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سکھایا:اے اللہ! تو معاف کرنے والا ہے، معافی کو پسند کرتا ہے، پس مجھے معاف فرما دے۔

 اللہ اپنے حقوق تو معاف فرما سکتا ہے، لیکن بندوں کے حقوق تب تک معاف نہیں ہوں گے جب تک صاحبِ حق معاف نہ کرے۔ اس رات ہمیں اپنے رشتوں، معاملات اور اخلاقیات پر غور کرنا چاہیے۔

 چونکہ یہ نزولِ قرآن کی رات ہے، اس لیے الفاظ کی گردان نہیں بلکہ قرآن کے پیغام کو سمجھنے کا عہد کرنا چاہیے۔

 لیلتہ القدر کی برکات سمیٹتے ہوئے ہمیں ان مظلوم مسلمانوں کو نہیں بھولنا چاہیے جو دنیا بھر میں جبر و استبداد کا شکار ہیں۔ فلسطین کے لہو رنگ مناظر ہوں یا کشمیر کی وادیاں، یہ رات ہمیں پکار پکار کر کہہ رہی ہے کہ اپنی انفرادی بخشش کے ساتھ ساتھ امت کے اجتماعی اتحاد اور سربلندی کے لیے بھی گڑگڑا کر دعا کریں۔

لیلتہ القدر جاگنے کی نہیں بلکہ بیدار ہونے کی رات ہے۔ جاگنا جسمانی عمل ہے، جبکہ بیدار ہونا شعوری عمل ہے۔ اگر اس رات کے گزرنے کے بعد ہماری زندگی میں تبدیلی نہیں آئی، ہمارے اخلاق بہتر نہیں ہوئے اور ہم نے جھوٹ، غیبت اور نفرت کو نہیں چھوڑا، تو ہم اس رات کی روح کو نہیں پا سکیں گے۔ 

آئیے! ان آخری ساعتوں میں اپنے رب کے حضور عاجزی کا وہ نمونہ پیش کریں کہ آسمان والے بھی ہم پر رشک کریں۔ یہ رات اللہ کی رحمت کی پکار ہے، کیا کوئی ہے جو اس پکار پر لبیک کہے؟

کوئی تبصرے نہیں