ادب برائے زندگی از۔۔ کنزہ محمد رفیق ادب کے دو بڑے مقاصد ہیں، ایک تفریح اور دوسرا اصلاح ادب برائے ادب اور ادب برائے زندگی اسی کی ذیل میں آتے...
ادب برائے زندگی
از۔۔ کنزہ محمد رفیق
ادب کے دو بڑے مقاصد ہیں، ایک تفریح اور دوسرا اصلاح ادب برائے ادب اور ادب برائے زندگی اسی کی ذیل میں آتے ہیں۔ 1935 میں شروع ہونے والی اردو ادب کی سرگرم تحریک جو کہ " ترقی پسند تحریک" کے نام سے جانی جاتی یے، یہ تحریک بھی ادب برائے زندگی کا پرچار کر رہی تھی۔
اس تحریک میں موجود ادبا اور شعرا عوام الناس کے مسائل پر قلم اٹھاتے رہے، ان کی زبوں حالی اور خستہ حالی کو منظرِ عام پر لانا اپنا فرض سمجھتے رہے۔
میرے نزدیک ادب برائے زندگی زیادہ کارآمد اور مفید ہے، کیوں کہ اسی کے ذریعے لوگوں کی زندگیاں اندھیروں سے نکل کر روشنیوں کی جانب گامزن ہوتی ہیں۔
زیرِ نظر ناول میں بانو قدسیہ نے انسان کی نفسیات، فلسفہ اور معاشرتی مسائل کو سلیقے اور قرینے سے اجاگر کیا یے۔ دراصل یہ ناول ازلی مثلث کے گرد گھومتا ہے۔ سیمی شاہ، آفتاب بٹ اور قیوم۔ میری ناقص رائے کے مطابق بانو آپا کا یہ ناول علامتی ناول کی اعلیٰ مثال ہے، کیوں کہ ناول کا عنوان " راجہ گدھ" ہے اور قیوم کا کردار اسی صورت میں پیش کیا گیا ہے۔
زندگی کے ہر موڑ پر اسے گدھ بنایا گیا ہے۔ جہاں وہ سچی محبت کا طالب تھا وہاں اسے مردار کھانا پڑا۔ کہیں سیمی شاہ کی صورت میں، تو کہیں عابدہ کی روپ میں اور کہیں امتل کی شکل میں۔ ناول کا مرکزی کردار سیمی شاہ سہی، مگر اس کا (Narrator) قیوم ہے، اول سے اختتام تک قیوم ہر صفحہ پر موجود ہے، جبکہ سیمی اور آفتاب کا ذکر پہلے حصّے میں ہی ختم کر دیا جاتا ہے، آفتاب کو لندن پہنچا کر اور سیمی کو آفتاب کے فراق میں گور تک پہنچا کر۔ نیز اختتام پر آفتاب کا کردار پھر ابھرتا یے، مگر بغیر کسی تاسف اور بغیر کسی پشیمانی کے۔
آفتاب اور سیمی ایک ہی تصویر کے دو رخ تھے، مگر اس تصویر کو نامکمل ٹھہرا کر ناول کو مکمل کرنا مصنفہ کا تصور تھا۔ یہ واحد ناول ہے جسے ٹھہرے بغیر میں پڑھتی چلی گئی؛ اختتام تک اِس ناول نے اپنی مکمل گرفت میں رکھا۔ اس ناول میں فلسفہ، مکافات، نفسیات، روحانیت سبھی موجود ہے۔ اسے پڑھتے سمے بار بار یہی خیال آتا رہا ہے کہ ایک ہی ناول میں زندگی بھر کے مشاہدے کا اِحاطہ کرنا کیسا کمال کا فن ہے؛ اور بانو آپا فنکارہ ٹھہریں۔
یہ ناول بنیادی طور پر چار حصّوں پر مبنی ہے:
١ شام سمے: عشق لاحاصل
٢ دن ڈھلے: لا متناہی تجسّس
٣ دن چڑھے: رزق حرام
٤ رات کے پچھلے پہر: موت کی آگاہی
اس بات سے انحراف نہیں کیا جاسکتا ہے کہ " راجہ گدھ" اُردو ادب کا مقبول ترین ناول ہے، مگر اس کے باوجود میری ناقص رائے کے مطابق اس میں کئی عیوب موجود ہیں۔ قیوم کا کردار بہت پیچیدہ ہے، وہ سیمی کے عشق مبتلا ہو کر ناکام ٹھہرا، عابدہ سے تعلق قائم کر کے بھی اس کے دل اور روح تک نہ پہنچ سکا، حتیٰ کہ طوائف امتل سے ملاقاتیں کرتا رہا، مگر اسے دل کہیں نہ ملا۔ سبھی محبتوں سے ہار کے اس امید کے ساتھ سر پر سہرا سجایا کہ اسے شاید اس رشتے میں سچی محبت ملے گی؛ اس کا دل، جسم اور روح سب میری تحویل میں ہوگا۔ وہاں میری گھائل روح اور فگار دل سکون پائیں گے، مگر۔۔۔
روشن سے نکاح کے بعد قیوم کی زندگی روشن ہونے کی بجائے مزید اندھیر ہوجاتی ہے۔ جب وہ اسے نکاح کے فوراً کے بعد اپنے حمل کے بارے میں بتاتی ہے۔ ناول کا یہ حصہّ ذرا مجھے ڈرامائی لگا، کیوں کہ جس طرح کا ردِ عمل قیوم کو دینا چاہیے تھا۔ اس نے اس کے برعکس برتاؤ کیا۔
وہ قیوم کو اپنے اور افتخار کے بارے میں اول سے اختتام تک سب کچھ بتاتی ہے، ایک بار پھر وہ اس بھری دنیا میں تنہا رہا، جس طرح قیوم اس خبر کے بعد اپنے بیوی کے ساتھ برتاؤ کرتا ہے؛ اس کے اور افتخار کے نکاح کا انتظام کرتا یے، نیز اپنی بیوی کو طلاق دے کر اس کے محبوب سے نکاح پڑھواتا ہے۔ یہ حصہ حقیقت کے برخلاف نظر نہیں آیا، میرے نزدیک یہ صرف ڈرامائیت ہے۔
آپ خود سوچیے، کون سا مرد یہ کام کرے گا؟
اس کے بعد والے حصے میں بھی ڈرامائیت ہے، جہاں روشن کی افتخار کے ساتھ رخصتی کے وقت وہ اسے گلے لگاتے ہوئے پھوٹ پھوٹ کر روتا ہے۔ جب وہ نکاح میں تھی، تب اس کا ہاتھ تک نہیں پکڑا اور جب طلاق ہوگئی تو یہ سب۔۔۔؟
بہ ایں ہمہ، جس طرح ناول کا آغاز دلچسپ یے، اسی طرح ناول کا اختتام غیر دلچسپ ہے۔ مُجھے اس ناول کا اختتام بالکل پسند نہیں آیا، کیوں کہ اخیر تک کہیں بھی آفتاب کو دکھی، پچھتاوے میں مبتلا اور سیمی کی خودکشی میں دنیا بےزار نہیں دکھایا گیا۔
سیمی عشق لاحاصل کے سبب اپنی جان کی بازی ہار گئی اور آفتاب کا کردار۔۔۔۔
بےحس!
بہرکیف، اس سب کے باوجود مجھے یہ ناول بےحد پسند آیا یے، اور پسندیدگی کی وجہ
" فلسفہ" یے۔
میں کون ہوں؟
کہاں سے آئی ہوں؟
اور کہاں جاؤں گی؟
اور اگر مجھے مر ہی جانا ہے تو جینے کا کیا فائدہ؟
بانو آپا عورت کی نفسیات سے کس حد تک واقفیت رکھتی تھیں، آپ اس اقتباس سے اندازہ لگائیے:
" یہ جو تھوڑدلا مرد ہوتا یے ناں وہ روٹی، کپڑا اور مکان دیتا ہے جنس دیتا ہے، کیوں کہ یہ ضرورت کی چیزیں ہیں۔ لیکن وہ بیوی پر محبت ضائع نہیں کرتا، تعریف برباد نہیں کرتا، لاڈ پیار کر کے اس کو خراب نہیں کرتا۔
تھوڑدلے مرد سے اللہ بچائے،وہ کبھی بیوی کے لیے شاعری کی کتاب خرید کر نہیں لاتا، اس احمق کو یہ علم نہیں ہوتا کہ عورت کا اندر ہی ایسا بنا یے کہ وہ روٹی کے بغیر زندہ رہ سکتی ہے عیاشی کے بغیر زیبائش اور آرائش کے بغیر کملانے لگتی ہے۔"
اس بات میں صداقت ہے کہ شوہر کی بے رخی اور نظر اندازی خوبصورت عورت کو بھی بدصورت بنا دیتی ہے، اس کو چند مہینوں میں خزاں رسیدہ کر دیتی ہے، جبکہ شوہر کی محبت اور اس کی وہ نظرِ التفات عورت کی زندگی کو بامعنی اور پرکیف بنا دیتی ہے۔
مجموعی طور پر یہ ناول بہترین ہے، اور پڑھے جانے کے قابل ہے اس کتاب کی پڑھت کے وقت میں یہ سوچتی رہی کہ لکھاری کو بیک وقت کتنے ہی کرداروں کو زباں دینی پڑتی ہے، کہیں وہ آفیسر کے لہجے میں بولتا ہے اور کہیں چھپڑاسی کی زبان میں، کہیں بچہ بن کر بولتا ہے تو کہیں روحانی عالِم کو زبان دیتا ہے، حتیٰ کہ طوائف کو بھی بولنا سکھاتا ہے۔ اس ناول میں بانو آپا کس کس کردار میں بولیں اور کمال است بولیں۔
ناول کی زبان و بیان، منظر نگاری، کردار نگاری اور مکالمہ نگاری سبھی قابلِ توصیف ہے اور لائقِ تحسین ہے۔ 1981 میں شائع ہونے والا یہ ناول لاجواب ہے؛ اور آج کے دور کے لوگوں کی نفسیات کی بھی ویسے ترجمانی کر رہا ہے، جیسے اُس دور کا مظہر تھا۔
اُردو ادب سے اور فلسفے سے شغف رکھنے والے سبھی لوگوں کے لیے یہ ایک باکمال ناول ہے اسے پڑھیے اور اپنے شعور کو جِلا بخشیے۔
کنزہ محمد رفیق
کوئی تبصرے نہیں