: اقصیٰ کی پکار اور غزہ کا لہو حمیرا مجید کیا امتِ مسلمہ اب بھی خاموش رہے گی؟ آج امتِ مسلمہ تاریخ کے اس موڑ پر کھڑی ہے جہاں فلسطین کا مسئل...
: اقصیٰ کی پکار اور غزہ کا لہو
حمیرا مجید
کیا امتِ مسلمہ اب بھی خاموش رہے گی؟
آج امتِ مسلمہ تاریخ کے اس موڑ پر کھڑی ہے جہاں فلسطین کا مسئلہ محض ایک علاقائی تنازع نہیں رہا، بلکہ یہ ایمان اور کفر کے درمیان ایک فیصلہ کن معرکہ بن چکا ہے۔ ایک طرف صیہونی ریاست اپنے ناپاک عزائم کی تکمیل کے لیے تمام انسانی اور بین الاقوامی قوانین کی دھجیاں اڑا رہی ہے، تو دوسری طرف اہل ِ فلسطین اپنے خون سے تاریخ لکھ رہے ہیں۔
* مسجدِ اقصیٰ: جبری بندش سے تلمودی قربانی تک*
تاریخ گواہ ہے کہ صلیبیوں کے دور کے بعد پہلی بار مسجدِ اقصیٰ کو اتنے طویل عرصے کے لیے مسلمانوں پر بند کیا گیا ہے۔ رمضان المبارک میں جمعہ، تراویح اور یہاں تک کہ عید کی نماز پر پابندی لگا کر اسرائیل نے یہ واضح کر دیا ہے کہ وہ اب "بتدریج قبضے" کے بجائے "فیصلہ کن قبضے" کی طرف بڑھ رہا ہے۔
تلمودی قربانی کا سنگین خطرہ
آنے والی یہودی عیدِ فسح (Passover) کے دوران (2 تا 9 اپریل 2026) انتہا پسند صیہونی گروپوں کا منصوبہ ہے کہ مسجدِ اقصیٰ کے احاطے میں "سرخ گائے" یا بھیڑ کی قربانی دی جائے۔ یہ کوئی عام مذہبی رسم نہیں، بلکہ ان کے عقیدے کے مطابق یہ مسجدِ اقصیٰ کی اسلامی شناخت ختم کر کے وہاں "تیسرے ہیکل" (Third Temple) کی تعمیر کا باقاعدہ آغاز ہوگا۔ یہ عمل قبلہ اول کی حرمت پر براہِ راست حملہ اور پوری مسلم دنیا کو کھلا چیلنج ہے۔
.غزہ کی نسل کشی اور صیہونی ریاست کا مکروہ چہرہ
اسرائیل غزہ کی جنگ کو ایک ڈھال کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔ جب دنیا کی نظریں ملبے تلے دبے بچوں اور بھوک سے بلکتے خاندانوں پر ہوتی ہیں، تب وہ بیت المقدس میں خاموشی سے جغرافیائی تبدیلیاں لاتا ہے۔
مساجد کی شہادت
اب تک سینکڑوں مساجد کو شہید کیا جا چکا ہے تاکہ مسلمانوں کا روحانی تعلق زمین سے ختم کر دیا جائے۔
نسل کشی صیہونی ریاست کا مقصد صرف حماس نہیں، بلکہ ہر اس فلسطینی کو مٹانا ہے جو "آزادی" کا خواب دیکھتا ہے۔
حماس مزاحمت اور عظیم شہادتیں
اس طویل معرکے میں حماس کے قائدین اور مجاہدین نے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کر کے ثابت کر دیا کہ وہ حق کے لیے کسی بھی قربانی سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ اسماعیل ہنیہ، یحییٰ سنوار اور دیگر اہم کمانڈروں کی شہادتیں تحریکِ آزادی کو کمزور نہیں بلکہ مزید توانا کر رہی ہیں۔
حماس کی قیادت نے اپنے بیٹوں اور پوتوں کی شہادتوں کے باوجود جھکنے سے انکار کیا، جو اس بات کی علامت ہے کہ یہ جنگ زمین کے ٹکڑے کے لیے نہیں بلکہ "عزت اور ایمان" کے تحفظ کے لیے ہے۔
مسلمانوں کا کردار: مصلحت یا مزاحمت؟
آج مسلم ممالک کے حکمرانوں کی خاموشی اور مصلحت پسندی نے صیہونی ریاست کے حوصلے بلند کیے ہیں۔ لیکن عوام پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے:
معاشی بائیکاٹ: صیہونی معیشت کو سہارا دینے والی کمپنیوں کا مکمل بائیکاٹ ایک جہاد ہے۔
سوشل میڈیا کو مسجدِ اقصیٰ اور غزہ کی آواز بنانے کے لیے استعمال کریں۔
سیاسی دباؤ: اپنے حکمرانوں کو مجبور کریں کہ وہ صرف بیانات نہیں بلکہ عملی اقدامات (تیل کی سپلائی روکنا، دفاعی تعاون کا خاتمہ) کریں۔
نتیجہ: وقتِ فیصلہ آ چکا ہے
مسجدِ اقصیٰ کی زنجیریں اور غزہ کے شہداء کا لہو پکار پکار کر کہہ رہا ہے کہ "خاموشی اب جرم ہے"۔ اگر آج ہم نے قبلہ اول کی حفاظت کے لیے آواز بلند نہ کی، تو تاریخ ہمیں کبھی معاف نہیں کرے گی۔ تلمودی قربانی کا منصوبہ صرف فلسطین کا مسئلہ نہیں، بلکہ یہ ہر کلمہ گو کی غیرت کا امتحان ہے۔
اے امتِ مسلمہ! بیدار ہو جاؤ، اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے۔
آج دنیا بھر کے مسلمان یہ سوال کر رہے ہیں کہ ڈیڑھ ارب سے زائد آبادی، بے پناہ قدرتی وسائل اور ایٹمی طاقت ہونے کے باوجود ہم صیہونی ریاست اور اس کے سرپرستوں کے سامنے اتنے بے بس کیوں ہیں؟ اس کمزوری کے پیچھے چند گہرے اسباب ہیں:
حبِ دنیا اور موت کا خوف (وہن): جیسا کہ حدیثِ نبوی ﷺ میں پیش گوئی کی گئی تھی، ثوبان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قریب ہے کہ دیگر قومیں تم پر ایسے ہی ٹوٹ پڑیں جیسے کھانے والے پیالوں پر ٹوٹ پڑتے ہیں“ تو ایک کہنے والے نے کہا: کیا ہم اس وقت تعداد میں کم ہوں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، بلکہ تم اس وقت بہت ہو گے، لیکن تم سیلاب کی جھاگ کے مانند ہو گے، اللہ تعالیٰ تمہارے دشمن کے سینوں سے تمہارا خوف نکال دے گا، اور تمہارے دلوں میں «وہن» ڈال دے گا“ تو ایک کہنے والے نے کہا: اللہ کے رسول! «وہن» کیا چیز ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ دنیا کی محبت اور موت کا ڈر ہے''
اور اب مسلمانوں کے دلوں میں 'وہن' پیدا ہو چکا ہے۔ دنیا کی آسائشوں سے محبت اور اللہ کی راہ میں جان دینے سے کترانے نے ہمیں بزدل بنا دیا ہے۔
اتحاد کا فقدان اور فرقہ واریت:
ہم فرقوں، مسلکوں اور قومیتوں (عرب، عجم، افغانی، پاکستانی) میں بٹے ہوئے ہیں۔ دشمن اس 'تقسیم کرو اور حکومت کرو' کی پالیسی سے فائدہ اٹھا رہا ہے۔ جب تک ہم 'جسدِ واحد' نہیں بنیں گے، کفر ہمیں ایک ایک کر کے مٹاتا رہے گا۔
غیروں پر معاشی اور فکری انحصار: مسلم ممالک کی معیشتیں سود پر مبنی عالمی نظام اور مغربی امداد کی مرہونِ منت ہیں۔ جب آپ کا رزق دشمن کے ہاتھ میں ہو، تو آپ کی زبان اور تلوار کبھی نہیں چل سکتی۔ ہم نے ٹیکنالوجی اور سائنس میں ترقی چھوڑ کر خود کو صرف صارف (Consumer) تک محدود کر لیا ہے۔
مصلحت پسند قیادت: اکثر مسلم ممالک کے حکمران اپنی کرسی بچانے کے لیے صیہونی لابی اور عالمی طاقتوں کے سامنے سجدہ ریز ہیں۔ عوامی امنگوں کے برعکس، یہ قیادتیں 'خفیہ معاہدوں' اور 'تعلقات کی بحالی' (Normalization) کے جال میں پھنسی ہوئی ہیں۔
المختصر مسجدِ اقصیٰ کی بندش، تلمودی قربانی کے ناپاک منصوبے، غزہ میں بہتا معصوم خون اور حماس کے مجاہدین کی عظیم شہادتیں—یہ سب ہمیں پکار رہے ہیں۔ ہماری کمزوری اللہ کی طرف سے نہیں، بلکہ ہمارے اپنے عمل کا نتیجہ ہے۔
وقتِ فیصلہ آ چکا ہے،
اگر ہم نے آج اپنی صفوں میں اتحاد پیدا نہ کیا، اپنے رزق کو حرام سود اور غیروں کی غلامی سے پاک نہ کیا، اور 'اقصیٰ' کی حرمت کے لیے جان کی بازی لگانے کا حوصلہ پیدا نہ کیا، تو تاریخ کے صفحات میں ہمارا ذکر صرف "مغلوب قوم" کے طور پر رہ جائے گا۔
"خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی
نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت کے بدلنے کا"
[7:05 pm, 23/03/2026] Zaheer Ud Din Babar: آبنائے ہرمز: ایران ،اسرائیل، مشرق وسطیٰ
تحریر: صاحبزادہ میاں محمد اشرف عاصمی ایڈووکیٹ
دنیا آج ایک بار پھر اس موڑ پر کھڑی ہے جہاں حق اور طاقت، مزاحمت اور جبر، خودمختاری اور سامراج، صرف بیانات میں نہیں بلکہ میدانِ عمل میں آمنے سامنے ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ کی فضا بارود سے بھری ہوئی ہے، خلیج کے پانیوں میں جنگی جہازوں کی گھن گرج سنائی دے رہی ہے، اور آبنائے ہرمز ایک بار پھر عالمی سیاست کا سب سے نازک اور خطرناک استعارہ بن چکی ہے۔ ایسے وقت میں اگر ایران اپنی سرزمین، اپنی خودمختاری، اپنے توانائی کے وسائل اور اپنے سمندری دائرۂ اختیار کے تحفظ کے لیے کھڑا ہوتا ہے تو اسے محض ایک جارحانہ ریاست قرار دینا حقائق سے فرار اور تاریخ سے ناانصافی کے مترادف ہوگا۔ سچ یہ ہے کہ اگر آج ایران آبنائے ہرمز کے مسئلے پر سخت مؤقف اختیار کر رہا ہے تو یہ کسی توسیع پسندانہ جنون کا اظہار نہیں بلکہ اپنی بقا، اپنے وقار اور اپنے قومی مفاد کے دفاع کی ایک ناگزیر جنگ ہے۔
عالمی ذرائع ابلاغ کی تازہ اطلاعات کے مطابق گزشتہ چند ہفتوں سے آبنائے ہرمز میں جہاز رانی شدید متاثر ہوئی، بحری نقل و حرکت میں نمایاں کمی آئی، جنگی خطرات اور بیمہ لاگت میں غیر معمولی اضافہ ہوا، اور اقوامِ متحدہ کے تجارتی ادارے نے بھی خبردار کیا کہ اس گزرگاہ میں رکاوٹیں عالمی توانائی، کھاد، شپنگ اور کمزور معیشتوں کے لیے شدید خطرات پیدا کر رہی ہیں۔ اقوامِ متحدہ کے تجارتی و ترقیاتی ادارے کے مطابق آبنائے ہرمز سے عالمی سمندری تیل تجارت کا تقریباً ایک چوتھائی گزرتا ہے اور اسی وجہ سے یہاں پیدا ہونے والی ہر لرزش دنیا بھر کی منڈیوں کو ہلا دیتی ہے. مگر سوال یہ ہے کہ اس بحران کی اصل جڑ کیا ہے؟ کیا واقعی ایران بلا سبب اس راستے کو دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کر رہا ہے، یا پھر اسے مسلسل اس نہج پر دھکیلا گیا ہے جہاں خاموش رہنا قومی خودکشی کے مترادف ہو جاتا ہے۔اگر ایک ریاست کی سرزمین پر حملے ہوں، اس کے توانائی کے مراکز کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں دی جائیں، اس کی برآمدات کو پابندیوں کے شکنجے میں جکڑ دیا جائے، اس کے خلاف اقتصادی جنگ چھیڑ دی جائے، اور پھر اسی ریاست سے یہ توقع رکھی جائے کہ وہ خاموشی سے اپنی شہ رگ دشمن کے ہاتھ میں دے دے، تو یہ نہ انصاف ہے اور نہ ہی بین الاقوامی اصولوں کی پاسداری۔ تازہ اطلاعات کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو 48 گھنٹوں میں آبنائے ہرمز “مکمل طور پر کھولنے” کا الٹی میٹم دیا اور ایرانی توانائی ڈھانچے، حتیٰ کہ بجلی گھروں کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی، جس کے جواب میں ایران نے واضح کیا کہ اگر اس کی بنیادی تنصیبات پر حملہ ہوا تو وہ نہ صرف آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر بند کر سکتا ہے بلکہ خطے کے اہم توانائی مراکز کو بھی نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ یہ محض سفارتی لفظوں کی جنگ نہیں بلکہ ایک ایسی خطرناک کیفیت ہے جس میں ایک طاقتور بلاک ایک خودمختار ریاست کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کرنا چاہتا ہے، جبکہ ایران کہہ رہا ہے کہ وہ سر جھکانے کے بجائے مزاحمت کرے گا.یہاں ایک بنیادی اصول کو سمجھنا ضروری ہے۔ آبنائے ہرمز صرف دنیا کی معیشت کا راستہ نہیں، یہ ایران کے جغرافیائی وجود کے ساتھ جڑی ہوئی ایک حساس آبی گزرگاہ بھی ہے۔ جب دنیا ایران کی تیل برآمدات کو روکنے، اس کے ساحلی دائرے کو عسکری دباؤ میں لینے، اس کی بحری آزادی کو محدود کرنے اور اس کی قومی سلامتی کو چیلنج کرنے کی پالیسی اپناتی ہے، تو ایران کے پاس کون سا راستہ بچتا ہے؟ کیا وہ اپنے ساحلوں کے سامنے دشمن کے جہازوں کو اپنی تباہی کا سامان لے جاتے ہوئے دیکھتا رہے؟ کیا وہ اپنی بندرگاہوں، بجلی گھروں اور گیس فیلڈز پر حملوں کی دھمکیوں کے باوجود محض خاموش تماشائی بنا رہے؟ اگر نہیں، تو پھر ایران کا سخت مؤقف نہ صرف فطری ہے بلکہ بین الاقوامی سیاست کی تلخ حقیقتوں میں قابلِ فہم بھی ہے۔
دنیا کی طاقتور ریاستیں جب اپنے مفاد کے لیے سمندروں میں فوجی بیڑے اتارتی ہیں تو اسے “فریڈم آف نیویگیشن” کہا جاتا ہے، لیکن جب کوئی کمزور یا نسبتاً محدود وسائل والی ریاست اپنی سرحد، ساحل اور بحری مفاد کے دفاع کی بات کرے تو اسے “خطرہ” قرار دے دیا جاتا ہے۔ یہی دوہرا معیار مشرقِ وسطیٰ کے المیے کی جڑ ہے۔ اگر امریکہ اور اس کے اتحادی اپنے جنگی جہاز خلیج میں لا سکتے ہیں، اگر اسرائیل ایران کے اندر اور ایران سے وابستہ مفادات پر حملے کر سکتا ہے، اگر ایران کی توانائی تنصیبات کو تباہ کرنے کی دھمکیاں دی جا سکتی ہیں، تو پھر ایران کو یہ حق کیوں حاصل نہیں کہ وہ کہے: اگر ہماری معیشت کا گلا گھونٹا جائے گا تو ہم بھی اس راستے کو معمول کے مطابق نہیں چلنے دیں گے جس سے دوسروں کی معیشت پھلتی پھولتی ہے؟ یہ دراصل طاقت کے مقابلے میں توازن پیدا کرنے کی ایک سخت مگر ناگزیر حکمتِ عملی ہے۔
یہ بات بھی دنیا کو سمجھنی چاہیے کہ ایران نے آبنائے ہرمز کے مسئلے کو ہمیشہ مکمل اور دائمی بندش کے طور پر نہیں بلکہ ایک سیاسی و تزویراتی پیغام کے طور پر استعمال کیا ہے۔ مگر اس بار حالات مختلف ہیں۔ مارچ 2026 میں متعدد معتبر ذرائع نے رپورٹ کیا کہ جہاز رانی میں شدید خلل پڑا، کئی جہاز لنگر انداز ہو گئے، جنگی خطرات کی وجہ سے بیمہ کوریج محدود ہوئی، اور خلیجی توانائی برآمدات پر دباؤ بڑھا۔ رائٹرز کے مطابق ADNOC Gas نے بھی آبنائے ہرمز میں شپنگ خلل کے باعث اپنی LNG اور متعلقہ مائع پیداوار میں عارضی ردوبدل کیا، جبکہ اس سے قبل خطے میں میزائل اور ملبے کے واقعات نے گیس تنصیبات کو بھی متاثر کیا۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ بحران اب محض نظریاتی نہیں رہا بلکہ عملی معیشت اور توانائی کی سپلائی پر اثرانداز ہو چکا ہے۔
اگر کوئی طاقت یہ سمجھتی ہے کہ وہ ایران کو اس کے اپنے ساحل کے سامنے، اس کے اپنے جغرافیے کے اندر، اس کے اپنے وسائل کے گرد گھیرا تنگ کر کے، اسے اقتصادی و عسکری طور پر دبا کر، پھر بھی ایک “مہذب خاموشی” کی توقع رکھ سکتی ہے، تو یہ بین الاقوامی سیاست کی سب سے بڑی خودفریبی ہے۔ ایران کی مزاحمت دراصل ایک پیغام ہے کہ مشرقِ وسطیٰ اب وہ خطہ نہیں رہا جہاں صرف ایک فریق بم برسائے، پابندیاں لگائے، دھمکیاں دے، اور دوسرا فریق صرف مذمتوں تک محدود رہے۔ ایران چاہے پسند آئے یا نہ آئے، مگر اس نے دنیا کو یہ باور کرایا ہے کہ اگر آپ کسی قوم کی معیشت، بندرگاہ، تیل، گیس اور بجلی پر حملہ کریں گے تو وہ جواب میں صرف پریس کانفرنس نہیں کرے گی۔
پاکستان اور عالمِ اسلام کے لیے یہ لمحہ غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ اگر آج ایران تنہا کھڑا ہے تو حقیقت میں وہ صرف اپنی سرزمین کی نہیں بلکہ اس پورے اصول کی جنگ لڑ رہا ہے کہ کسی بھی مسلم ریاست کو عالمی طاقتیں اپنی مرضی سے اقتصادی طور پر مفلوج اور عسکری طور پر محصور نہیں کر سکتیں۔ یہ بات اپنی جگہ درست ہے کہ آبنائے ہرمز میں کشیدگی سے پاکستان جیسے ممالک کو ایندھن، مہنگائی اور درآمدی بل کے مسائل درپیش ہو سکتے ہیں، مگر یہ بھی اتنا ہی درست ہے کہ اگر مسلم دنیا ہر بار صرف اپنی پٹرول کی قیمت دیکھے گی اور یہ نہیں دیکھے گی کہ کس کی خودمختاری روندی جا رہی ہے، تو پھر کل یہی طرزِ عمل کسی اور مسلم ملک کے ساتھ بھی دہرایا جا سکتا ہے۔ اصولوں کی جنگیں صرف وقتی معاشی حساب سے نہیں لڑی جاتیں، ورنہ تاریخ میں کوئی قوم آزادی کا مطلب ہی نہ سمجھ پاتی۔
یہ وقت ایران کو اندھا دھند جنگ پر اکسانے کا نہیں بلکہ اس کے جائز دفاعی مؤقف کو سمجھنے کا ہے۔ ایران اگر کہتا ہے کہ ہماری توانائی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا تو ہم بھی خطے کے توانائی مفادات کو محفوظ نہیں رہنے دیں گے، تو یہ دراصل وہی منطق ہے جسے عالمی طاقتیں دہائیوں سے اپنے حق میں استعمال کرتی آئی ہیں: “اگر تم ہمارے مفاد پر ضرب لگاؤ گے تو ہم تمہارے مفاد کو بھی غیر محفوظ بنا دیں گے۔” فرق صرف یہ ہے کہ جب یہ منطق واشنگٹن سے نکلتی ہے تو اسے قومی سلامتی کہا جاتا ہے، اور جب یہی بات تہران کہتا ہے تو اسے “عالمی خطرہ” قرار دے دیا جاتا ہے۔ یہی وہ منافقت ہے جس نے مشرقِ وسطیٰ کو آگ میں دھکیلا ہے۔
آبنائے ہرمز کے بحران نے ایک اور حقیقت بھی عیاں کر دی ہے کہ دنیا کی معیشت کی شہ رگیں اب بھی چند مخصوص جغرافیائی راستوں میں پھنسی ہوئی ہیں، اور ان راستوں پر طاقت کا توازن بدلتے ہی پوری دنیا لرز اٹھتی ہے۔ اقوامِ متحدہ کے تجارتی ادارے نے خبردار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں خلل سے نہ صرف تیل بلکہ کھاد، شپنگ لاگت اور کمزور معیشتوں پر شدید دباؤ بڑھتا ہے، اور برینٹ خام تیل پہلے ہی 90 ڈالر فی بیرل سے اوپر جا چکا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایران کے گرد جو جنگی دائرہ تنگ کیا جا رہا ہے، اس کی قیمت صرف ایران نہیں بلکہ پوری دنیا ادا کر رہی ہے۔ مگر اس کے باوجود مغربی طاقتیں اصل مسئلے یعنی جارحانہ دباؤ، دھمکیوں اور عسکری مداخلت پر بات کرنے کے بجائے صرف ایران کی جوابی حکمتِ عملی کو نشانہ بناتی ہیں۔ ایران کی حمایت کا مطلب یہ نہیں کہ جنگ کی حمایت کی جائے۔ ایران کی حمایت کا اصل مطلب یہ ہے کہ ایک خودمختار ملک کے دفاع کے حق کو تسلیم کیا جائے، دوہرے معیار کو بے نقاب کیا جائے، اور دنیا کو بتایا جائے کہ اگر تم کسی قوم کی معاشی شہ رگ پر ہاتھ رکھو گے تو وہ بھی تمہاری معیشت کے اعصاب کو جھنجھوڑنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ ایران آج اگر آبنائے ہرمز کے سوال پر سخت ہے تو اس کی وجہ یہ نہیں کہ وہ دنیا کو بلیک میل کرنا چاہتا ہے، بلکہ یہ ہے کہ دنیا نے اس کے خلاف طاقت، پابندی، محاصرہ اور دھمکی کا جو نظام کھڑا کیا ہے، اس کے جواب میں اس کے پاس مزاحمت کے سوا کوئی باعزت راستہ نہیں چھوڑا گیا۔
یہی وہ لمحہ ہے جب عالمِ اسلام، خصوصاً پاکستان، کو جذباتی نعروں سے آگے بڑھ کر ایک بالغ سیاسی مؤقف اپنانا ہوگا۔ ہمیں جنگ نہیں چاہیے، مگر ہمیں یہ بھی نہیں کہنا چاہیے کہ جو طاقتور چاہے کرے اور مظلوم صرف خاموش رہے۔ اگر ایران پر حملے ہوں، اس کی تنصیبات کو نشانہ بنایا جائے، اس کے ساحلوں کو جنگی میدان بنایا جائے، اور پھر اس سے یہ تقاضا کیا جائے کہ وہ آبنائے ہرمز کو ایسے کھلا رکھے جیسے کچھ ہوا ہی نہیں، تو یہ انصاف نہیں، جبر ہے۔ اور جبر کے سامنے خاموشی، تاریخ کی نظر میں ہمیشہ کمزوری لکھی جاتی ہے۔
آج آبنائے ہرمز صرف ایک سمندری راستہ نہیں، یہ حقِ خودمختاری، مزاحمت، عالمی منافقت اور مسلم دنیا کے سیاسی شعور کا امتحان بن چکی ہے۔ ایران اگر یہاں ڈٹا ہوا ہے تو یہ صرف ایک ریاست کا مؤقف نہیں، بلکہ یہ اس اصول کا اعلان ہے کہ جو قومیں اپنی شہ رگ دشمن کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑتیں، وہی تاریخ میں زندہ رہتی ہیں۔ اگر ایران جھک گیا تو صرف ایک ملک نہیں ہارے گا، ایک نظریہ ہارے گا۔ اور اگر ایران ڈٹا رہا تو دنیا کو یہ ماننا پڑے گا کہ مشرقِ وسطیٰ میں اب فیصلے صرف طاقتور نہیں کریں گے، مزاحمت بھی اپنا وزن رکھتی ہے۔
کوئی تبصرے نہیں