عنوان: ڈاکٹر عبدالقدیر خان — ایک عزم، ایک وقار شخصیت نگاری ازقلم: مارلین احمر ڈاکٹر عبدالقدیر خان ایک ایسی باوقار اور عظیم شخصیت کا نام ہے...
عنوان: ڈاکٹر عبدالقدیر خان — ایک عزم، ایک وقار
شخصیت نگاری
ازقلم: مارلین احمر
ڈاکٹر عبدالقدیر خان ایک ایسی باوقار اور عظیم شخصیت کا نام ہے جس نے اپنی محنت، ذہانت اور حب الوطنی کے جذبے سے پاکستان کو دنیا کے نقشے پر ایک مضبوط اور ناقابلِ تسخیر ریاست کے طور پر منوایا۔ وہ نہ صرف ایک قابلِ فخر سائنسدان تھے بلکہ ایک بااصول، باوقار اور سادہ مزاج انسان بھی تھے جن کی زندگی نوجوان نسل کے لیے ایک روشن مثال ہے۔
ڈاکٹر عبدالقدیر خان 27 اپریل 1936 کو بھوپال (بھارت) میں پیدا ہوئے۔ قیامِ پاکستان کے بعد وہ اپنے خاندان کے ساتھ ہجرت کر کے پاکستان آ گئے۔ ابتدائی تعلیم کے بعد انہوں نے یورپ کا رخ کیا جہاں انہوں نے اعلیٰ تعلیم حاصل کی اور نیوکلیئر فزکس کے میدان میں مہارت حاصل کی۔ ان کی علمی قابلیت اور محنت نے انہیں عالمی سطح پر ایک نمایاں مقام دلایا، مگر ان کے دل میں اپنے وطن کی محبت ہمیشہ زندہ رہی۔
1970 کی دہائی میں جب پاکستان کو دفاعی لحاظ سے شدید خطرات لاحق تھے، ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے وطن واپس آ کر پاکستان کے ایٹمی پروگرام کی بنیاد رکھی۔ انتہائی مشکل حالات، محدود وسائل اور عالمی دباؤ کے باوجود انہوں نے ہمت نہ ہاری اور اپنی ٹیم کے ساتھ دن رات محنت کر کے پاکستان کو ایٹمی طاقت بنانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ 28 مئی 1998 کا دن پاکستان کی تاریخ میں سنہری حروف سے لکھا گیا جب پاکستان نے کامیاب ایٹمی دھماکے کر کے اپنی دفاعی صلاحیت کا لوہا منوایا۔ اس کامیابی کے پیچھے ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی انتھک محنت اور غیر متزلزل عزم کارفرما تھا۔
ان کی شخصیت کا سب سے نمایاں پہلو ان کی سادگی اور عاجزی تھی۔ اتنی بڑی کامیابیوں کے باوجود وہ ایک نہایت سادہ زندگی گزارتے تھے۔ انہیں اپنی شہرت پر کبھی غرور نہیں ہوا بلکہ وہ ہمیشہ اپنے وطن اور قوم کے لیے مزید کچھ کرنے کی خواہش رکھتے تھے۔ وہ نوجوانوں کو تعلیم حاصل کرنے، محنت کرنے اور اپنے ملک سے وفاداری کا درس دیتے تھے۔ ان کے خیالات میں خود اعتمادی، حب الوطنی اور ترقی کی لگن نمایاں تھی۔
ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی شخصیت میں ایک مضبوط ارادہ، بلند حوصلہ اور مشکل حالات کا ڈٹ کر مقابلہ کرنے کی صلاحیت تھی۔ وہ اس بات پر یقین رکھتے تھے کہ اگر انسان سچی نیت اور محنت کے ساتھ کوئی مقصد اختیار کرے تو کامیابی اس کا مقدر بن جاتی ہے۔ ان کی یہی سوچ انہیں دوسروں سے منفرد بناتی ہے۔
پاکستان کے لیے ان کی خدمات ناقابلِ فراموش ہیں۔ انہوں نے نہ صرف ملک کے دفاع کو مضبوط بنایا بلکہ قوم کو ایک نئی خود اعتمادی بھی دی۔ آج بھی ان کا نام سنتے ہی دل فخر سے بھر جاتا ہے اور آنکھوں میں احترام جھلکنے لگتا ہے۔
مختصر یہ کہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان ایک عظیم سائنسدان ہونے کے ساتھ ساتھ ایک بلند کردار انسان بھی تھے۔ ان کی زندگی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ سچی محنت، لگن اور حب الوطنی سے انسان نہ صرف اپنی تقدیر بدل سکتا ہے بلکہ اپنی قوم کا مستقبل بھی روشن کر سکتا ہے۔ ایسے لوگ صدیوں میں پیدا ہوتے ہیں اور ہمیشہ قوموں کے دلوں میں زندہ رہتے ہیں۔
اللّه تعالی انہیں اپنے جوار رحمت میں جگہ دے اور ان کی قبر پر ہزارو کروڑوں رحمتوں

کوئی تبصرے نہیں