Page Nav

HIDE

تازہ ترین خبر:

latest

مارلین احمر نظم

  عنوان: اُس کے نام — ایک خاموش سی دعا ازقلم: مارلین احمر  جب وہ صبح کام کے لیے گھر سے نکلتا ہے… تو دروازہ بند ہونے کی وہ ہلکی سی آواز بھی م...

 







عنوان: اُس کے نام — ایک خاموش سی دعا

ازقلم: مارلین احمر 


جب وہ صبح کام کے لیے گھر سے نکلتا ہے…

تو دروازہ بند ہونے کی وہ ہلکی سی آواز بھی میرے دل میں ایک خالی پن چھوڑ جاتی ہے۔

گھر ویسا ہی ہوتا ہے، چیزیں بھی وہی ہوتی ہیں،

مگر اُس کے بغیر سب کچھ ادھورا سا لگتا ہے۔


میں اُس کے جانے کے بعد بھی اُسی کے خیالوں میں رہتی ہوں…

کبھی اُس کی مسکراہٹ یاد آتی ہے،

کبھی اُس کی نرم سی باتیں،

اور کبھی اُس کی وہ شہد جیسی آنکھیں،

جن میں میرے لیے ایک خاموش سی محبت بسی ہوتی ہے۔


میرا دن اُس کے انتظار میں گزرتا ہے۔

گھڑی کی سوئیاں جیسے سست پڑ جاتی ہیں،

اور ہر گزرتا لمحہ بس یہی کہتا ہے—

"وہ کب آئے گا؟"


وہ صرف میرا شوہر نہیں…

میری دعا ہے، میری چاہت ہے،

میرے دل کا سکون ہے۔

میں جب بھی ہاتھ اٹھاتی ہوں،

لبوں پر بے اختیار اُس کا نام آ جاتا ہے۔


میں دل ہی دل میں دعا کرتی ہوں…

یا اللہ! اسے ہمیشہ میرے ساتھ سلامت رکھنا،

اس کے چہرے کی مسکراہٹ کبھی مدھم نہ ہونے دینا،

مجھے کبھی اس کا دکھ دیکھنا نصیب نہ ہو۔


یا رب! اسے رزقِ حلال عطا فرما،

اس کی محنت میں برکت ڈال،

اس کے ہر قدم کو آسانی دے،

اور اسے ہر برائی، ہر پریشانی سے محفوظ رکھ۔


وہ تھکا ہارا جب شام کو واپس آتا ہے…

تو میرا دل چاہتا ہے کہ اُس کی ساری تھکن اپنی محبت میں سمیٹ لوں۔

اُسے سکون دوں، اُسے مسکرانے کی وجہ بنوں،

جیسے وہ میری زندگی کا سکون ہے۔


وہ سانولی سی خوبصورتی لیے،

نرم دل، نرم مزاج انسان…

میری زندگی کا سب سے قیمتی تحفہ ہے۔


میں نہیں جانتی زندگی کتنی لمبی ہے…

مگر اتنا ضرور جانتی ہوں کہ

جب تک سانسیں ہیں،

میری ہر دعا میں وہ شامل رہے گا—



کوئی تبصرے نہیں