Page Nav

HIDE

تازہ ترین خبر:

latest

شیخ عبدالرشید کالم

بصارتوں کا مقتل ​تحریر: شیخ عبدالرشید ​ہربرٹ جارج ویلز نے جب 1936 میں اپنا شہرہ آفاق ناول ”اندھوں کے دیس میں“ تخلیق کیا تھا، تو شاید اس کے و...


بصارتوں کا مقتل

​تحریر: شیخ عبدالرشید

​ہربرٹ جارج ویلز نے جب 1936 میں اپنا شہرہ آفاق ناول ”اندھوں کے دیس میں“ تخلیق کیا تھا، تو شاید اس کے وہم و گمان میں بھی نہ ہوگا کہ مستقبل کی ایک ایٹمی ریاست اس تمثیل کی عملی تصویر بن جائے گی۔ ویلز کا ہیرو نیونز جب ایک ایسی الگ تھلگ وادی میں جا گرتا ہے جہاں نسلوں سے کسی نے روشنی نہیں دیکھی تھی، تو اس کا خیال تھا کہ ”اندھوں کے دیس میں کانا راجا ہوتا ہے“، مگر اسے جلد ہی ادراک ہو گیا کہ جہاں جہالت کو ہی معیارِ زندگی مان لیا جائے، وہاں بینائی بادشاہت نہیں بلکہ ایک بدترین معذوری اور گناہِ بے لذت ہے جس کی سزا صرف موت یا آنکھیں نکال دینا ہے۔ آج کے پاکستان کا سماجی، فکری اور اخلاقی نقشہ دیکھ کر یہ دہلادینے والا احساس ہوتا ہے کہ ہم نے بھی اجتماعی طور پر روشنی سے مستقل دشمنی مول لے لی ہے۔ ہم ایک ایسے ہجوم میں بدل چکے ہیں جس نے فکری اندھے پن کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنا لیا ہے اور جو کوئی ہمیں سورج کی نوید سنانے یا حقائق کا آئینہ دکھانے کی کوشش کرتا ہے، ہم اسے ”ابنارمل“ قرار دے کر اس کے درپے آزار ہو جاتے ہیں۔ یہ بستی اب صرف اندھوں کی بستی نہیں رہی، بلکہ یہ بصارتوں کا مقتل بن چکی ہے جہاں سچائی کی قیمت اتنی بڑھا دی گئی ہے کہ لوگ جھوٹ کے سستے سودے پر ہی زندگی گزارنے میں عافیت سمجھتے ہیں۔

​افلاطون نے اپنی مشہورِ زمانہ ”غار کی تمثیل“ میں انسانی شعور کی جس قید کا ذکر کیا تھا، پاکستان کا موجودہ سماجی زوال اس غار کا جدید ایڈیشن معلوم ہوتا ہے۔ وہاں قیدی دیوار پر پڑنے والے سایوں کو حقیقت سمجھتے تھے، یہاں ہم پروپیگنڈے، جھوٹے بیانیوں اور سوشل میڈیا کے ڈیجیٹل ایکو چیمبرز میں قید ہو کر سچائی سے منحرف ہو چکے ہیں۔ ہماری ہٹ دھرمی کا عالم یہ ہے کہ ہم نے اپنی جہالت کو نظریاتی اور اخلاقی تقدس کا لبادہ پہنا دیا ہے۔ کرپشن، بدعنوانی، اقربا پروری اور قانون شکنی اب ہمارے لیے برائی نہیں رہیں، بلکہ یہ بقا کے وہ اوزار بن چکے ہیں جن پر ہم فخر کرتے ہیں۔ جو شخص میرٹ، قانون کی بالادستی اور دیانت کی بات کرتا ہے، اسے یہ معاشرہ ایک ایسی ”بیماری“ گردانتا ہے جس کا واحد علاج اسے سسٹم سے باہر نکال پھینکنے یا اس کی آواز کو ہمیشہ کے لیے دبا دینے میں ہی مضمر ہے۔ یہاں ہر گروہ نے اپنی سچائی کی ایک الگ اونچی دیوار کھڑی کر رکھی ہے اور ہم اس قدر تنگ نظر ہو چکے ہیں کہ ہمیں اپنے فرقے، اپنی سیاسی جماعت اور اپنی برادری کے مفاد کے علاوہ کائنات کا کوئی دوسرا رنگ نظر ہی نہیں آتا۔ بقول جلال الدین رومی، ”حقیقت ایک آئینہ تھا جو خدا کے ہاتھ سے گرا اور ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا، ہر کسی نے ایک ٹکڑا اٹھایا اور سمجھا کہ پوری حقیقت اسی کے پاس ہے“۔ پاکستان میں بھی ہر شخص حقیقت کا ایک چھوٹا سا کرچ اٹھائے خود کو عقلِ کل اور پارسا سمجھ رہا ہے اور دوسرے کے پاس موجود سچائی کے ٹکڑے کو کفر، غداری یا حماقت قرار دینے پر تلا ہوا ہے۔

​اس گروہی تقسیم اور فکری عصبیت نے ہمیں ایک ایسی اندھی بھیڑ بنا دیا ہے جو کسی بھی اشتعال انگیز آواز پر، بغیر سوچے سمجھے، کسی کی بھی جان لینے یا اسے سرِ بازار ذلیل کرنے کے لیے تیار ہو جاتی ہے۔ ہمارا عدل، ہمارا قانون اور ہماری سماجی اقدار اب دلیل اور منطق کی نہیں بلکہ طاقت اور تعصب کی باندی بن چکی ہیں۔ ابنِ خلدون نے عروج و زوال کے فلسفے میں جس ”عصبیت“ کا ذکر کیا تھا، ہم نے اس کا بدترین رخ اختیار کر لیا ہے۔ ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم نے لینے کو اپنا پیدائشی حق اور دینے کو حماقت سمجھ لیا ہے۔ ایک ایسا معاشرہ جہاں حقوق کی گردان تو ہر زبان پر ہو مگر فرائض کا ذکر گناہ سمجھا جائے، وہ کبھی بھی زوال کی دلدل سے نہیں نکل سکتا۔ ہم ریاست سے بہترین سہولیات، سڑکیں اور انصاف چاہتے ہیں مگر ٹیکس چوری کو اپنا کمال اور قانون توڑنے کو اپنی مردانگی سمجھتے ہیں۔ یہ وہ اخلاقی اندھاپن ہے جو مادی بینائی ہونے کے باوجود ہمیں حقیقت کے ادراک سے محروم رکھتا ہے۔ خلیل جبران نے کیا خوب کہا تھا کہ ”ترس کھاؤ اس قوم پر جو عقیدوں سے بھری ہوئی ہے مگر ایمان سے خالی ہے“۔ ہم بھی دعووں اور نعروں کے غازی ہیں، مگر جب عمل کی باری آتی ہے تو ہماری منافقت کے بخیے ادھڑ جاتے ہیں۔ ہم نے مذہب کو سیاست کے لیے، سیاست کو ذاتی تجارت کے لیے اور تجارت کو عوام کی لوٹ مار کے لیے استعمال کرنا ایک فن کے طور پر سیکھ لیا ہے۔

​تعلیم جو کہ روشنی کا منبع ہونی چاہیے تھی، ہمارے ہاں صرف ڈگریوں کے انبار لگانے اور کارپوریٹ غلامی کی دوڑ کا نام بن کر رہ گئی ہے۔ ہم نے نوجوانوں کے ذہنوں میں سوال کرنے کی جبلت کو مصلحتوں تلے کچل دیا ہے اور انہیں صرف رٹا مارنے والی مشینیں بنا دیا ہے۔ جس معاشرے میں دانشور کو طنز کا نشانہ بنایا جائے اور جہالت کے علمبرداروں کو یوٹیوب اور سوشل میڈیا پر لاکھوں کی فالونگ دے کر سر آنکھوں پر بٹھایا جائے، وہاں علم کی شمع کیونکر روشن رہ سکتی ہے؟ ہم نے تو اس شخص کو بھی نہیں بخشا جو ہمیں یہ بتاتا ہے کہ جس راستے پر ہم چل رہے ہیں، اس کے اختتام پر ایک عمیق کھائی ہے؛ ہم اسے راستہ بدلنے کے بجائے دھکا دے کر خود بھی اسی کھائی میں گرنا پسند کرتے ہیں۔ یہ وہ اجتماعی خودکشی ہے جو ہم ایک قوم کی حیثیت سے روزانہ کی بنیاد پر کر رہے ہیں۔ ہر وہ سماج اندھوں کا دیس ہے جہاں لوگ حقائق کو ماننے کے بجائے اپنی کم علمی اور اناؤں کے زندان میں قید رہتے ہیں اور پاکستان اس وقت اسی قیدِ تنہائی کی بدترین شکل پیش کر رہا ہے جہاں بصیرت رکھنے والوں کے لیے زمین تنگ کر دی گئی ہے۔

​اگر ہم واقعی اس گھٹا ٹوپ اندھیرے سے نکلنا چاہتے ہیں، تو ہمیں سب سے پہلے اپنی آنکھوں پر بندھی مفادات، نفرت اور تعصب کی پٹیوں کو نوچ کر پھینکنا ہوگا۔ بہتری کا راستہ کسی آسمانی معجزے یا کسی مسیحا کے انتظار سے نہیں، بلکہ تلخ حقائق کے بے رحمانہ اعتراف اور کٹھن محنت سے نکلتا ہے۔ سب سے پہلے ہمیں اپنے تعلیمی ڈھانچے کو جڑ سے اکھاڑ کر ایک ایسا نظام وضع کرنا ہوگا جو صرف کلرک اور فرمانبردار پیدا نہ کرے بلکہ تنقیدی شعور، سوال اٹھانے کی ہمت اور بلند اخلاقی جرأت رکھنے والے انسان پیدا کرے۔ ریاست کو چاہیے کہ وہ ”اندھوں کی سرپرستی“ چھوڑ کر ان لوگوں کی قدر کرے جو دیکھ سکتے ہیں، جو سچ بولتے ہیں اور جو سماج کو راستہ دکھانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ سماجی بہتری کے لیے لازم ہے کہ ہم ”گروہی شناخت“ کے خول سے نکل کر ایک ایسی ”قومی شناخت“ کو اپنائیں جہاں انسانیت اور قانون کی حکمرانی کو اولیت حاصل ہو۔ جب تک ریاست کا طاقتور جابر اور گلی کا کمزور شہری قانون کے ترازو میں ایک برابر وزن نہیں رکھیں گے، تب تک یہ اندھیر نگری اور چوپٹ راج قائم رہے گا۔

​ہمیں اپنے اندر ”دینے کا جذبہ“ اور ایثار کی صفت بیدار کرنی ہوگی۔ ہر فرد کو، چاہے وہ حاکم ہو یا محکوم، یہ سوچنا ہوگا کہ اس نے اس مٹی کو کیا دیا ہے، نہ کہ صرف یہ کہ اس نے اس سے کیا چھینا ہے۔ سچائی کو قبول کرنے کا حوصلہ پیدا کرنا ہوگا، چاہے وہ سچ ہماری اپنی ذات، ہمارے نظریے یا ہماری جماعت کے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔ دانشوروں، مفکروں اور سچے رہنماؤں کو نشانِ عبرت بنانے کے بجائے انہیں قومی اثاثہ تسلیم کرنا ہوگا، اس سے پہلے کہ وہ سب اس وادی کو چھوڑ کر ہجرت کر جائیں یا خاموشی کی چادر اوڑھ کر گوشہ نشین ہو جائیں۔ فیض احمد فیض نے شاید ایسے ہی حالات کے لیے کہا تھا کہ ”بول کہ لب آزاد ہیں تیرے“، مگر یہاں تو لبوں کے ساتھ ساتھ سوچوں پر بھی پہرے بٹھا دیے گئے ہیں۔ ہمیں ان پہروں کو توڑنا ہوگا۔ یاد رکھیے، بینائی ایک عظیم نعمت ہے، مگر جب پوری بستی ہی اندھی ہو جائے تو وہی بینائی ایک جان لیوا عذاب بن جاتی ہے۔ ہمیں اس عذاب سے بچنے کے لیے روشنی کا احترام اور سچ کی تپش کو برداشت کرنا سیکھنا ہوگا۔ اندھوں کے دیس میں رہ کر اگر ہم نے اپنی آنکھوں کی حفاظت نہ کی اور بصیرت کو جہالت کے قدموں میں ڈھیر کر دیا، تو تاریخ کا قبرستان ایسی کئی اقوام کی داستانوں سے بھرا پڑا ہے جنہوں نے روشنی کے بجائے اندھیروں سے سودا کیا تھا۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم اپنی اناؤں کے بت توڑ کر سچائی کے سورج کا سامنا کریں، ورنہ ہماری داستان بھی داستانوں میں نہ ہوگی اور ہم تاریخ کے کوڑے دان میں ایک بھولی بسری مثال بن کر رہ جائیں گے۔

 

کوئی تبصرے نہیں