پاکستان میں نجکاری: فوائد، نقصانات اور تلخ حقائق. تحریر: تیمور سلیمان قاضی. پاکستان میں نجکاری (Privatisation) کا آغاز 1990 کی دہائی میں اس ...
پاکستان میں نجکاری: فوائد، نقصانات اور تلخ حقائق.
تحریر: تیمور سلیمان قاضی.
پاکستان میں نجکاری (Privatisation) کا آغاز 1990 کی دہائی میں اس امید کے ساتھ کیا گیا کہ خسارے میں چلنے والے سرکاری اداروں کی نجکاری سے حکومت کا مالی بوجھ کم ہوگا، قومی خزانے کو آمدنی حاصل ہوگی، اداروں کی کارکردگی بہتر ہوگی، غیر ملکی سرمایہ کاری آئے گی اور حاصل ہونے والی رقم سے قومی قرضوں میں کمی لائی جا سکے گی۔ اس پالیسی کو عالمی مالیاتی اداروں، خصوصاً آئی ایم ایف (IMF) اور عالمی بینک (World Bank) کی معاشی اصلاحات کے پروگراموں کا بھی حصہ سمجھا گیا۔
گزشتہ تقریباً چھتیس برسوں میں مختلف ادوار کی حکومتوں نے نجکاری کے ذریعے تقریباً 178 سرکاری اداروں اور یونٹس میں حصص یا ملکیت فروخت کی، جن سے مجموعی طور پر تقریباً 649 ارب روپے حاصل ہوئے۔ لیکن بنیادی سوال آج بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ کیا اس عمل سے پاکستان کے قرضوں میں نمایاں کمی آئی؟ کیا مالی خسارہ ختم ہوا؟ کیا قومی معیشت مضبوط ہوئی؟ یا صرف قومی اثاثے فروخت ہوتے گئے جبکہ مالی مسائل برقرار رہے؟
نجکاری کے حامیوں کا مؤقف ہے کہ حکومت کا کام کاروبار چلانا نہیں بلکہ پالیسی سازی، قانون کی حکمرانی، تعلیم، صحت اور عوامی خدمات فراہم کرنا ہے۔ ان کے مطابق نجی شعبہ مقابلے کی فضا، بہتر انتظام، جدید ٹیکنالوجی اور سرمایہ کاری کے ذریعے اداروں کی کارکردگی بہتر بناتا ہے۔ اگر کوئی سرکاری ادارہ مسلسل خسارے میں ہو اور قومی خزانے پر بوجھ بن جائے تو اس کی نجکاری سے حکومت کو سالانہ اربوں روپے کے نقصانات سے نجات مل سکتی ہے۔ کئی ممالک میں نجکاری کے بعد بعض اداروں کی پیداواری صلاحیت اور خدمات میں نمایاں بہتری بھی دیکھی گئی۔
تاہم پاکستان کا تجربہ زیادہ پیچیدہ اور متنازع رہا ہے۔ کئی نجکاریوں پر شفافیت، قیمتوں کے تعین، احتساب اور قومی مفاد کے حوالے سے سوالات اٹھائے گئے۔ بعض ادارے ایسے بھی تھے جو اصلاحات کے ذریعے بہتر ہو سکتے تھے، مگر انہیں فروخت کر دیا گیا۔ بعض اوقات ملازمین کی برطرفی، بے روزگاری اور سماجی مسائل بھی سامنے آئے، جبکہ بعض نجی اداروں نے منافع کو عوامی مفاد پر ترجیح دی۔
سب سے اہم سوال یہ ہے کہ اگر نجکاری سے حاصل ہونے والی رقم قومی قرضوں کی ادائیگی کے لیے استعمال ہونا تھی تو آج پاکستان کا مجموعی قرضہ مسلسل کیوں بڑھتا رہا؟ اس کی ایک بڑی وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ نجکاری سے حاصل ہونے والی آمدنی ایک مرتبہ حاصل ہونے والا ذریعہ ہوتی ہے، جبکہ حکومتی اخراجات ہر سال جاری رہتے ہیں۔ اگر حکومت اپنے غیر ترقیاتی اخراجات، شاہانہ انتظامی ڈھانچے، سرکاری فضول خرچی، خسارے، کمزور ٹیکس نظام اور مالی نظم و ضبط میں اصلاحات نہ کرے تو اثاثے فروخت کرنے سے وقتی ریلیف تو مل سکتا ہے، لیکن بنیادی مسئلہ حل نہیں ہوتا۔
بہت سے معاشی ماہرین کا خیال ہے کہ پاکستان کا اصل بحران صرف خسارے والے ادارے نہیں بلکہ بڑھتے ہوئے مالیاتی خسارے، کمزور ٹیکس وصولی، غیر دستاویزی معیشت، درآمدات پر انحصار، توانائی کے شعبے کے گردشی قرضے اور غیر ضروری حکومتی اخراجات ہیں۔ اگر یہ مسائل برقرار رہیں تو نئے قرضے لینے کی ضرورت بھی برقرار رہتی ہے، چاہے نجکاری سے کتنی ہی آمدنی کیوں نہ حاصل ہو۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ دنیا میں نجکاری وہاں زیادہ کامیاب ہوئی جہاں مضبوط ریگولیٹری ادارے، شفاف احتساب، آزاد عدلیہ، میرٹ، پالیسی کا تسلسل اور مالی نظم موجود تھا۔ صرف ادارے فروخت کرنا معاشی اصلاحات نہیں کہلاتا، بلکہ ریاستی اداروں کی بہتری، گورننس، احتساب، سرمایہ کاری کے فروغ اور مالی نظم و ضبط کو بھی ساتھ لے کر چلنا ضروری ہوتا ہے۔
پاکستان کے لیے آگے کا راستہ صرف نجکاری یا صرف سرکاری ملکیت نہیں، بلکہ متوازن معاشی حکمتِ عملی ہے۔ جو ادارے قومی سلامتی، بنیادی انفراسٹرکچر اور عوامی مفاد سے وابستہ ہیں، ان میں اصلاحات، پیشہ ورانہ انتظام اور شفاف نگرانی کو ترجیح دی جانی چاہیے۔ جبکہ مسلسل خسارے والے ایسے ادارے جن کی بہتری ممکن نہ ہو، ان کے بارے میں شفاف، مسابقتی اور قومی مفاد پر مبنی فیصلے کیے جا سکتے ہیں۔
اسی کے ساتھ حکومت کو اپنی غیر ضروری اخراجات میں نمایاں کمی، ٹیکس نیٹ کی توسیع، سرکاری وسائل کے مؤثر استعمال، کرپشن کے خاتمے، برآمدات میں اضافے، صنعتی ترقی، زرعی اصلاحات اور انسانی وسائل میں سرمایہ کاری پر بھرپور توجہ دینا ہوگی۔ صرف اثاثے فروخت کر کے پائیدار معاشی استحکام حاصل نہیں کیا جا سکتا۔
آخر میں یہ کہنا مناسب ہوگا کہ نجکاری بذاتِ خود نہ مکمل طور پر اچھی ہے اور نہ مکمل طور پر بری۔ اس کی کامیابی کا انحصار شفافیت، احتساب، مضبوط معاشی پالیسی، مالی نظم و ضبط اور قومی مفاد کو اولین ترجیح دینے پر ہے۔ اگر نجکاری سے حاصل ہونے والی آمدنی مستقل اصلاحات، قرضوں میں حقیقی کمی اور پیداواری شعبوں کی ترقی کے لیے استعمال نہ ہو، جبکہ حکومتی اخراجات مسلسل بڑھتے رہیں، تو قومی اثاثے کم ہوتے جائیں گے لیکن مالی مسائل جوں کے توں رہیں گے۔ یہی وہ بنیادی سبق ہے جسے پاکستان کی آئندہ معاشی حکمتِ عملی میں نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔

کوئی تبصرے نہیں