Page Nav

HIDE

تازہ ترین خبر:

latest

چوہدری افضل کالم

 وزیرِ اعلیٰ پنجاب ! نارووال کو ایک اور سیلابی سانحے سے بچا لیجیے کالم نگار: چوہدری افضل بارش اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے، مگر جب ریاستی غفلت، نا...


 وزیرِ اعلیٰ پنجاب ! نارووال کو ایک اور سیلابی سانحے سے بچا لیجیے


کالم نگار: چوہدری افضل


بارش اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے، مگر جب ریاستی غفلت، ناقص منصوبہ بندی اور انتظامی بے حسی اس رحمت کو زحمت میں بدل دے تو تاریخ اسے صرف قدرتی آفت نہیں، بلکہ حکمرانوں اور متعلقہ اداروں کی ناکامی کے طور پر یاد رکھتی ہے۔ 

آج ضلع نارووال ، بالخصوص تحصیل شکرگڑھ اور تحصیل ظفروال  ایک مرتبہ پھر اسی نازک موڑ پر کھڑے ہیں جہاں آسمان سے برسنے والا پانی کم اور زمینی بے حسی زیادہ خوف پیدا کر رہی ہے۔ محکمہ موسمیات کی تازہ پیش گوئیوں نے ایک بار پھر خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے، مگر زمینی حقائق یہ بتاتے ہیں کہ گزشتہ سال کے تباہ کن سیلاب سے کوئی مؤثر سبق نہیں سیکھا گیا۔

محترمہ مریم نواز شریف صاحبہ !

آپ کی حکومت نے پنجاب میں عوامی خدمت ، شفاف طرزِ حکمرانی اور ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے ایک مثبت تاثر قائم کرنے کی کوشش کی ہے ، لیکن سرحدی ضلع نارووال کی موجودہ صورتحال ان دعوؤں سے مطابقت نہیں رکھتی۔ گزشتہ سال کے تباہ کن سیلاب کو ایک سال بیت چکا ہے، مگر ہنجلی، لہری سکروڑ، بھوئی بھوئیہ، مخوال، چتر، سکمال، چک نارا، اخلاص پور، کوٹ نیناں ، بارہ منگا سے کرتارپور تک درجنوں بستیاں آج بھی ٹوٹی ہوئی سڑکوں ، منہدم پلوں ، خستہ حال پلیوں اور کمزور حفاظتی بندوں کے رحم و کرم پر ہیں۔ یہ صرف اینٹ ، پتھر اور سیمنٹ کی تباہی نہیں بلکہ ریاستی ذمہ داری ، انتظامی دیانت داری اور عوام کے اعتماد کا امتحان ہے۔

ادبی استعارے میں اگر کہا جائے تو نالہ ڈیک، نالہ بسنتر اور نالہ بئیں کا بپھرتا ہوا پانی آج بھی ان کسانوں، مزدوروں، طلبہ، خواتین اور بزرگوں کے آنسوؤں سے ہم کلام دکھائی دیتا ہے جنہوں نے گزشتہ سال اپنے گھر، فصلیں، مویشی، کاروبار اور رابطہ سڑکیں کھو دیں۔ ان نالوں میں صرف پانی نہیں بہتا بلکہ ہر سال ترقیاتی وعدے ، سرکاری دعوے اور بے شمار اجلاسوں کے فیصلے بھی بہہ جاتے ہیں۔

تاریخ گواہ ہے کہ قومیں صرف قدرتی آفات سے تباہ نہیں ہوتیں بلکہ ناقص منصوبہ بندی ، انتظامی سستی اور بروقت فیصلوں کے فقدان سے بھی شدید نقصان اٹھاتی ہیں۔ 

دنیا کے ترقی یافتہ ممالک نے سیلاب کو تقدیر نہیں بلکہ سائنسی منصوبہ بندی ، مضبوط انفراسٹرکچر اور مؤثر نظم و نسق کے ذریعے قابو کیا، جبکہ ہمارے ہاں ہر مون سون کے ساتھ ایک نئی ہنگامی کیفیت پیدا ہوتی ہے، اربوں روپے کے اعلانات ہوتے ہیں، چند روز بعد پانی اتر جاتا ہے اور پھر سب کچھ فراموش کر دیا جاتا ہے، یہاں تک کہ اگلا سیلاب دوبارہ دستک دے دیتا ہے۔

اگر گزشتہ سال وفاقی یا صوبائی سطح پر بحالی کے لیے فنڈز جاری ہی نہیں کیے گئے تو یہ ایک سنگین انتظامی ناکامی ہے، لیکن اگر فنڈز جاری ہوئے اور اس کے باوجود ہنجلی سے بھوئی بھوئیہ، وہاں سے چتر، مخوال، سکمال، اخلاص پور اور دیگر علاقوں کی سڑکیں، پل اور پلیاں آج بھی کھنڈر بنی ہوئی ہیں تو پھر یہ معاملہ محض غفلت تک محدود نہیں رہتا بلکہ اس کی آزادانہ ، شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات ناگزیر ہو جاتی ہیں۔

افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ ضلع نارووال پنجاب کے ان اضلاع میں سرفہرست ہے جو ہر سال سیلابی خطرات کا سامنا کرتے ہیں، مگر مستقل نوعیت کے حفاظتی منصوبے آج بھی ادھورے ہیں۔ ہر سال ہنگامی امداد کے اعلانات تو ہوتے ہیں، مگر مضبوط حفاظتی بند ، بلند سڑکیں، پائیدار پل، معیاری پلیاں اور جدید نکاسی آب کا نظام نظر نہیں آتا۔

 نتیجتاً ہر مون سون میں یہی بستیاں ڈوبتی ہیں ، یہی کسان معاشی تباہی کا شکار ہوتے ہیں ، یہی طلبہ تعلیم سے محروم ہوتے ہیں اور یہی غریب خاندان نقل مکانی پر مجبور ہو جاتے ہیں۔

سب سے زیادہ افسوس اس امر پر ہوتا ہے کہ مقامی لوگ اپنی مدد آپ کے تحت عارضی راستے بناتے ہیں، مٹی اور بانس سے گزرگاہیں تیار کرتے ہیں اور اپنی محدود جمع پونجی سے آمدورفت بحال کرتے ہیں، جبکہ متعلقہ ادارے فائلوں ، اجلاسوں اور رسمی کارروائیوں تک محدود دکھائی دیتے ہیں۔ کسی بھی مہذب ریاست میں یہ منظر باعثِ شرمندگی ہونا چاہیے۔

اس تمام صورتحال کے باوجود نارووال کے عوام نے ہمیشہ صبر، ایثار اور باہمی تعاون کی روشن مثال قائم کی ہے۔ فلاحی اداروں ، نوجوانوں ، سماجی کارکنوں اور مخیر حضرات نے ہر مشکل گھڑی میں متاثرین کو خوراک ، پینے کا پانی، ادویات ، عارضی رہائش اور متبادل راستے فراہم کیے۔

 ان کی خدمات قابلِ تحسین ہیں ، مگر ریاست اپنی آئینی ذمہ داری عوام کے کندھوں پر منتقل نہیں کر سکتی۔

سیاسی اعتبار سے بھی یہ لمحۂ فکریہ ہے۔ عوام اپنے نمائندوں کو اس امید کے ساتھ منتخب کرتے ہیں کہ وہ ان کے بنیادی مسائل حل کریں گے۔ اگر ایک سال گزرنے کے باوجود بنیادی انفراسٹرکچر بحال نہ ہو سکے تو سوال صرف بیوروکریسی سے نہیں بلکہ منتخب نمائندوں سے بھی کیا جائے گا کہ انہوں نے اپنے حلقے کے عوام کی آواز کس حد تک مؤثر انداز میں ایوانوں تک پہنچائی۔

انتظامی اعتبار سے اب یہ ناگزیر ہو چکا ہے کہ ضلع نارووال کے لیے مستقل سیلابی مینجمنٹ پلان تشکیل دیا جائے۔ نالہ ڈیک ، نالہ بسنتر اور نالہ بئیں کے کناروں کو مضبوط کیا جائے، حفاظتی پشتوں کی ازسرِ نو تعمیر کی جائے، کمزور پلوں اور پلیوں کو جدید معیار کے مطابق تعمیر کیا جائے، ندی نالوں کی بروقت صفائی یقینی بنائی جائے اور ریسکیو و ریلیف کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کیا جائے تاکہ ہر سال لاکھوں شہری ایک جیسے خوف اور بے یقینی کا شکار نہ ہوں۔


محترمہ وزیرِ اعلیٰ !

گزشتہ سال کے تباہ کن سیلاب نے ایک واضح سبق دیا تھا کہ آئندہ مون سون سے پہلے تمام حساس مقامات پر حفاظتی بند مضبوط کیے جائیں، تباہ شدہ سڑکیں، پل اور پلیاں ازسرِ نو تعمیر کی جائیں اور متاثرہ دیہات کا زمینی رابطہ ہر قیمت پر بحال رکھا جائے۔

 افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ایک سال گزر جانے کے باوجود ان منصوبوں کی تکمیل تو درکنار ، بیشتر مقامات پر عملی طور پر کام کا آغاز بھی نہ ہو سکا۔ یہ صورتحال صرف انتظامی سستی نہیں بلکہ لاکھوں شہریوں کی جان و مال کو دوبارہ خطرے میں ڈالنے کے مترادف ہے۔

محکمہ ایریگیشن ، محکمہ مواصلات و تعمیرات ، ضلعی انتظامیہ اور دیگر متعلقہ اداروں کو گزشتہ کئی دہائیوں سے سیلابی تحفظ، پشتوں کی مضبوطی، سڑکوں، پلوں اور پلیوں کی تعمیر و مرمت کے لیے سرکاری وسائل فراہم کیے جاتے رہے ہیں۔ اگر ان وسائل کا نصف بھی دیانت داری ، شفافیت اور منصوبہ بندی کے ساتھ عوام پر خرچ کیا جاتا تو شاید آج نارووال کے عوام کو ہر مون سون میں اسی اذیت ناک صورتحال کا سامنا نہ کرنا پڑتا۔

یہ وہ سوال ہے جو ہر سیلاب کے بعد عوام کے دل میں جنم لیتا ہے، مگر جواب کبھی نہیں ملتا ؟

 آخر ان فنڈز کا احتساب کون کرے گا؟ 

اگر ہر سال ترقیاتی منصوبوں کے لیے خطیر رقوم مختص ہوتی رہی ہیں تو ان کے نتائج کہاں ہیں؟

 اگر تعمیرات کا معیار مطلوبہ تھا تو پہلی ہی بارش میں سڑکیں اور پل کیوں ٹوٹ جاتے ہیں؟

 اگر منصوبے مکمل ہوئے تھے تو آج دیہات ایک دوسرے سے کٹے ہوئے کیوں ہیں؟

ہماری آپ سے مؤدبانہ مگر پُرزور گزارش ہے کہ ضلع نارووال بالخصوص تحصیل شکرگڑھ اور ظفروال کے سیلابی علاقوں کے لیے فوری طور پر خصوصی ترقیاتی پیکیج کا اعلان کیا جائے اور نالہ ڈیک، نالہ بسنتر اور نالہ بئیں سے ملحق تمام حفاظتی منصوبوں کو جنگی بنیادوں پر مکمل کرنے کے احکامات صادر کیے جائیں۔

اس کے ساتھ ہی گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران محکمہ ایریگیشن ، محکمہ مواصلات و تعمیرات اور دیگر متعلقہ اداروں کو جاری ہونے والے فنڈز کا آزادانہ، شفاف اور غیر جانبدارانہ مالی و تکنیکی آڈٹ بھی کرایا جائے۔

 اگر تحقیقات سے یہ ثابت ہو کہ کسی افسر ، اہلکار ، ٹھیکیدار یا متعلقہ ادارے نے غفلت ، بدانتظامی ، ناقص منصوبہ بندی یا مالی بے ضابطگی کا ارتکاب کیا ہے تو بلاامتیاز قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔ عوامی وسائل میں خیانت یا عوامی جان و مال کو خطرے میں ڈالنے والی غفلت کسی رعایت کی مستحق نہیں ہونی چاہیے۔ ذمہ داران کا تعین کر کے انہیں قانون کے مطابق ایسی سزا دی جائے جو آئندہ کے لیے نشانِ عبرت بنے اور سرکاری وسائل کو امانت سمجھنے کی روایت کو مضبوط کرے۔


تاریخ بارشوں کو نہیں، فیصلوں کو یاد رکھتی ہے۔ اگر گزشتہ سال کے سیلاب سے بھی سبق نہ سیکھا گیا اور اس بار بھی ضروری حفاظتی و تعمیراتی کام بروقت مکمل نہ کیے گئے تو آئندہ ہونے والے نقصانات کو صرف قدرتی آفت قرار دینا حقیقت سے چشم پوشی ہوگی۔ امید ہے کہ آپ اس عوامی فریاد کو سنیں گی، نارووال کے عوام کو مایوس نہیں کریں گی اور ایسے فیصلے کریں گی جن پر آنے والی نسلیں فخر کر سکیں۔


یہ صرف سڑکوں، پلوں اور حفاظتی بندوں کی تعمیر کا معاملہ نہیں بلکہ ریاست اور عوام کے درمیان اعتماد کی بحالی کا سوال بھی ہے۔ آج اگر بروقت اور مؤثر فیصلے کیے گئے تو ہزاروں خاندان محفوظ ہوں گے، لیکن اگر غفلت کا یہی سلسلہ جاری رہا تو آنے والی ہر بارش صرف بستیاں ہی نہیں، بلکہ عوام کا ریاست پر اعتماد بھی بہا لے جائے گی۔

کوئی تبصرے نہیں