پرچم سینے پر سجانا سہل نہیں r: پرچم سینے پر سجانا سہل نہیں۔ پرچم کی چمک دمک کے پاسدار، پرچم کی سربلندی کے لیے معصوم پھولوں کو یتیم کر دیتے...
پرچم سینے پر سجانا سہل نہیں
r: پرچم سینے پر سجانا سہل نہیں۔ پرچم کی چمک دمک کے پاسدار، پرچم کی سربلندی کے لیے معصوم پھولوں کو یتیم کر دیتے ہیں۔ پرچم ہمیشہ زندہ و تابندہ رہتا ہے، کیونکہ اس قوم کی مائیں فخر سے شہادتوں کے تحفے قبول کرتی ہیں۔
پرچم روح میں بسانا سہل نہیں۔ جب یہ روح میں بس جاتا ہے تو دشمن کو مٹانے کے لیے اپنی قیمتی جان کا نذرانہ پیش کرنا آسان ہو جاتا ہے۔ بامقصد زندگی اور بامقصد موت جن کی سوچ کا محور ہو، تو وہ پاک سرزمین کے تحفظ، دفاع اور بقا کی جنگ بڑی دلیری سے لڑتے ہیں۔ وطن کے لیے طوفان سے ٹکر لینا ان محافظوں کا شیوہ ہے۔ یہ حب الوطنی کے درس پر عمل بھی کبھی سہل نہیں ہوتا۔ لڑنے والوں کے دل شیروں سے زیادہ مضبوط ہو جاتے ہیں۔ کتنی آنکھوں کے خواب، دل کے ارمان اس وطن پر قربان ہو جاتے ہیں۔
وطن روح میں، دل میں، دماغ میں، سانسوں میں بسانا آسان نہیں۔ پرچم میں لپٹے بدن، بے خوف دل، پیشانی پر فتح کی نوید، اس سرزمین کا قیمتی سرمایہ، یہ بیٹے سرزمین کے دکھوں کا مداوا ہمیشہ متحد ہو کے لڑتے ہیں۔ جن بیٹوں کی خواہش تھی کہ ان کی قبر کے کتبوں پر شہید لکھا ہو، یہ بیٹے ہمارا قیمتی سرمایہ ہیں۔ ان کی داستانِ شجاعت ہماری آئندہ نسلوں کے لیے مشعلِ راہ ہے۔
پاکستانیت ہمارا جنون، رگوں میں دوڑتا خون، منفی اور گمراہ کن پروپیگنڈے کو کبھی پھلنے نہیں دے گا۔ دشمن کے منفی بیانیے کو شکست دینا ناگزیر ہے۔ شہدا کے ورثا کے درد کی داستان، ان کی قربانی کی داستان، آئندہ نسلوں کو بتانی ضروری ہے۔ شہدا کے ورثا قوم کا فخر ہیں۔
لیفٹیننٹ توصیف 14 جنوری 1974 کو تلہ گنگ میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد محمد صدیق پاک فضائیہ میں چیف وارنٹ آفیسر تھے۔
دھرتی کے لیے اپنی جوانی کی قربانی کے پیچھے ایک بہت عظیم جذبہ ہوتا ہے۔ اپنی دھرتی کی محبت، چاہت ان محافظوں کی آنکھوں میں چمکتی ہے۔
لیفٹیننٹ توصیف انجم شہید 14 جنوری 1974 کو تحصیل تلہ گنگ میں پیدا ہوئے۔ آپ نے اپنی ابتدائی تعلیم گورنمنٹ سکول تلہ گنگ سے حاصل کی۔ انٹرمیڈیٹ گورنمنٹ کالج تلہ گنگ سے کیا۔ آپ نے اسکول اور کالج میں نمایاں پوزیشن حاصل کی۔ آپ کے والد پاک فضائیہ میں چیف وارنٹ آفیسر تھے۔ آپ کا تعلق فوجی گھرانے سے تھا۔ اپنی والدہ کے بہت ہی فرمانبردار بیٹے تھے۔
اپنے بیٹے کو بھلانا دنیا کے مشکل ترین کاموں میں سے ایک ہے۔ ملک کی سرحدوں کو محفوظ بنانے کے لیے بیٹوں کی قربانی دینے والی مائیں عظیم مائیں ہوتی ہیں۔ لیفٹیننٹ توصیف انجم کی والدہ کا صبر و ضبط بے مثال تھا۔ آپ بہت ہی ملنسار تھے۔ آپ کے تمام دوست آپ کی قربانی پر فخر کرتے ہیں۔
توصیف انجم شہید نے پاکستان ملٹری اکیڈمی 96 لانگ کورس میں شمولیت اختیار کی۔ ان کی والدہ کو بہت زیادہ شوق تھا کہ ان کا بیٹا پاکستان ملٹری اکیڈمی میں شمولیت اختیار کریں۔ وہ پانچ سال کے تھے تو ان کی والدہ انتقال کر گئی تھیں۔ توصیف انجم کی خواہش تھی، اپنی والدہ کی خواہش کو پورا کرتے ہوئے انہوں نے پاکستان ملٹری اکیڈمی میں شمولیت اختیار کی۔
ملٹری اکیڈمی میں شمولیت حاصل کرنے سے پہلے آپ نے مشکلات کا سامنا کیا۔ آپ کے والد اس وقت کراچی میں پاک فضائیہ میں خدمات سر انجام دے رہے تھے۔ آئی ایس ایس بی سے واپسی پر آپ کا ٹریفک حادثے میں پاؤں کا فریکچر ہو گیا۔ پھر ایک بھائی وقار انجم روڈ کے حادثے میں شہید ہو گئے۔ کیڈٹ کالج کلر کہار کے طالب علم تھے۔ وہ بھی آپ کو ان کی وفات کا بہت گہرا صدمہ پہنچا۔
ایک چھوٹی بہن نوشین ہیں۔ ان کا ایک بھائی محمد وقار احمد شہید اور ان کی ایک بہن تھی، نوشین ہے۔
جب پاسنگ آؤٹ پریڈ کے موقع پر انہوں نے اپنے گھر والوں کو بلایا تھا، ان کے والد، ان کی بہن اور ان کی رضائی والدہ، ایک انکل، اور ساتھ انہوں نے دو ایکسٹرا کارڈز دیے تھے اپنے دوستوں کے لیے۔ اس میں ایک محمد علی شیخ تھے اور دوسرا شیخ محمد آصف۔ پاسنگ آؤٹ پر اپنی فیملی کے علاوہ کسی کو بلایا نہیں جا سکتا تھا، مگر اس نے خاص طور پر اپنے دو دوستوں کو بلایا۔
اس نے کہا تھا کہ آج میری خواہش پوری ہو گئی، میں پاکستان ملٹری اکیڈمی سے پاس آؤٹ ہو گیا اور میری والدہ نے جو خواب دیکھا تھا، وہ پورا ہو گیا۔
ان کی پہلی پوسٹنگ نوشہرہ ہوئی۔ اس کے بعد جب چکوٹھی سیکٹر میں پوسٹنگ ہوئی تو شیخ محمد علی نے مظفرآباد چھوڑنے گئے تھے۔
شہادت سے قبل تقریباً، تقریباً پہلے اس کے جو والد نے دوسری شادی کی تھی، اس میں تقریباً 18 سال کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان کو بیٹا دیا تھا اور وہ بہت زیادہ خوش تھے۔ اور وہ یہ کہتے تھے کہ مجھے وقار احمد شہید کے بدلے میں اللہ تعالیٰ نے مجھے ایک بھائی نوازا، جس کا نام محمد اسجد رکھا گیا تھا، اور وہ بہت زیادہ خوش تھے۔
کیونکہ ان کے ساتھ علی شیخ کا خط و کتابت کے ذریعے رابطہ رہتا تھا۔ شہادت سے قبل تقریباً 15، 20 دن پہلے انہوں نے کہا تھا کہ جب میں ان شاء اللہ پھر آؤں گا تو میں اپنے بھائی کی پیدائش کی خوشی میں بہت اچھی دعوت دوں گا اور پورے خاندان کو اور دوستوں کو بلاؤں گا۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں بڑے عرصے کے بعد اپنے گھر میں اسجد کی شکل میں وقار انجم جیسا بھائی دیا۔
شہادت کی اطلاع راولپنڈی میں شیخ غلام سرور صاحب کو دی گئی۔ ابتدائی طور پر ان کو اطلاع ملی تھی کہ وہ پہاڑ سے گر کر زخمی ہوئے ہیں اور انہیں بہت زیادہ چوٹیں آئی ہیں۔ اس کے تقریباً دو گھنٹے بعد دوبارہ کال آئی کہ وہ شہید ہو گئے ہیں۔
بہت اچھے انسان تھے اور نہایت ہی لائق ترین تھا۔ دونوں بھائی بہت لائق تھے۔ علی شیخ کا کہنا تھا، اس کے ساتھ میں نے پڑھا ہے۔ وہ میرے ساتھ ہی رہتا تھا۔ رات کو بھی میرے کمرے میں میرے پاس ہی رہتا تھا۔ جب بھی وہ کراچی سے آتا تھا یا جب پاکستان ملٹری اکیڈمی سے چھٹی پر آتا تھا تو وہ جتنا ٹائم ہوتا تھا، وہ میرے ساتھ گزارتا تھا۔ اور جتنے بھی وہ دن یہاں رہتا تھا، وہ رات میرے لیے پاس آتا۔ گھر میں علیحدہ کمرے میں ہم دونوں اکٹھے باتیں کرتے رہتے تھے۔ ہر قسم کی باتیں ہوتی تھیں۔
توصیف شہید کو پورے فوجی اعزاز کے ساتھ قبرستان میں سپردِ خاک کیا گیا۔ اس وقت اسسٹنٹ کمشنر اکرام اللہ خان نیازی موجود تھے۔ جب ان کے پاس پیپر ویریفائی ہونے کے لیے آئے تو انہوں نے اپنے دفتر میں توصیف شہید صاحب سے یہ بات کی تھی کہ آپ نے دو کاموں میں ایک کام کرنا ہے کہ آپ پاکستان آرمی میں جا رہے ہیں، تو وہاں پہ دو ہی کام کرنے ہیں۔ نمبر ایک، یا شہید ہو جانا ہے، نہیں تو پھر غازی بن کے واپس آنا ہے۔
تو اس وقت کہا تھا کہ ان شاء اللہ میں شہید بن کے آؤں گا۔ اس وقت کے جو اسسٹنٹ کمشنر تھے تلہ گنگ کے، اور ساتھ ان کے پاس ایک اضافی چارج مجسٹریٹ کا بھی تھا، اکرام اللہ خان نیازی۔ ان کے ساتھ اتنی گفتگو ہوئی تھی اور میں خود ان کے ساتھ موجود تھا۔ تو انہوں نے تمام پیپرز ان کے اوکے کیے تھے۔ تو ان کے ساتھ یہ گفتگو ہوئی تھی۔
پاک افواج اپنے شہداء کو مختلف طریقوں سے خراجِ عقیدت پیش کرتی ہیں۔ جنوبی وزیرستان میں تلہ گنگ کے شہید کے نام سے منسوب قلعہ تعمیر کیا گیا۔ توصیف شہید نے وادی نیلم میں زیارت پوسٹ پر 23 مارچ 1998 میں جان کا نذرانہ پیش کیا تھا اور شہادت کا رتبہ پایا تھا۔
پاک فوج نے شہید توصیف انجم کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے جنوبی وزیرستان کے مقام پر قلعہ تعمیر کرایا، جو شہید توصیف انجم کے نام سے منسوب کر دیا گیا۔
توصیف انجم سے ان نوجوان دلیر، بہادر، نڈر افسران میں سے ایک تھے۔ شہید توصیف انجم تلہ گنگ کے معروف سماجی اور کاروباری شخصیت شیخ ضیاء الدین کے بھتیجے اور مرحوم شیخ محمد صدیق چیف وارنٹ آفیسر کے صاحبزادے تھے۔ واضح رہے کہ شہید توصیف انجم کے دوسرے بھائی وقار انجم بھی ایک ٹریفک حادثے میں وفات پا گئے تھے۔
دشمن کا خوف کبھی جن کی آنکھوں میں نہ دیکھا گیا ہو، جو خطرات کی آگ میں کودنے سے نہیں ڈرتے، کیونکہ ان کے دل میں کلمہ اور پرچم، بس صرف دو چیزیں ہی ہوتی ہیں۔
اس دھرتی کے لیے جس بیٹے نے جان دی، اس نے یہی کہا: وطن پکاریں تو جان کی قیمت ہمارے لیے کچھ نہیں۔
یہ مردِ مجاہد، یہ جانباز، جب تک حب الوطنی کے جذبے سے سرشار ہے، پاکستان اور پاک فوج کے دشمن ناکام رہے گے۔
تحریر: مریم ارشاد

کوئی تبصرے نہیں