Page Nav

HIDE

تازہ ترین خبر:

latest

عدیل اشفاق کالم

  جامعات: ڈگریوں سے آگے ترقی کا سفر از: عدیل اشفاق اسسٹنٹ ڈائریکٹر، دفتر امور طلبہ، جامع چناب، گجرات کسی بھی قوم کی ترقی کا حقیقی اندازہ اس ...

 




جامعات: ڈگریوں سے آگے ترقی کا سفر


از: عدیل اشفاق

اسسٹنٹ ڈائریکٹر، دفتر امور طلبہ، جامع چناب، گجرات


کسی بھی قوم کی ترقی کا حقیقی اندازہ اس کی بلند و بالا عمارتوں، وسیع شاہراہوں یا معاشی اعداد و شمار سے ہی نہیں لگایا جا سکتا، بلکہ یہ بھی دیکھنا پڑتا ہے کہ اس کے تعلیمی ادارے معاشرے کو کس قدر علم، تحقیق، ہنر، قیادت اور عملی حل فراہم کر رہے ہیں۔ یونیورسٹیاں محض ڈگریاں جاری کرنے والے ادارے نہیں بلکہ قوموں کے فکری مستقبل کی تشکیل گاہیں ہوتی ہیں۔ اگر جامعات اپنے اصل مقصد سے جڑ جائیں تو وہ معاشی ترقی کی رفتار تیز کرنے کے ساتھ ساتھ سماجی شعور، قومی یکجہتی اور انسانی بہبود کی بنیاد بھی مضبوط کر سکتی ہیں۔


اسی اہم اور وقت کے تقاضوں سے ہم آہنگ موضوع “Reimagining the Role of Universities in Socio-Economic Development” کے عنوان سے جامع چناب، گجرات میں منعقدہ خصوصی سیمینار میں زیرِ بحث آیا، جس میں چیئرمین ہائیر ایجوکیشن کمیشن، انجینئر پروفیسر ڈاکٹر نیاز احمد اختر نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی۔ یہ موضوع محض ایک سیمینار کا عنوان نہیں بلکہ اس بنیادی سوال کی طرف توجہ دلاتا ہے کہ اکیسویں صدی کی یونیورسٹی اپنے معاشرے اور معیشت کے لیے کیا عملی کردار ادا کر رہی ہے؟


ڈگری نہیں، قابلیت اور مسئلے کا حل


پاکستان میں اعلیٰ تعلیم کے فروغ کے ساتھ جامعات کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے، لیکن اب توجہ کا مرکز صرف یہ نہیں ہونا چاہیے کہ کتنے طلبہ نے ڈگری حاصل کی؛ اصل سوال یہ ہے کہ ان میں سے کتنے نوجوان عملی زندگی کے چیلنجز کا سامنا کرنے، روزگار حاصل کرنے، کاروبار شروع کرنے، تحقیق کرنے اور معاشرے کے مسائل حل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔


تعلیم کا مقصد محض معلومات کی منتقلی نہیں بلکہ سوچنے، سمجھنے، سوال کرنے اور عملی اقدام کی صلاحیت پیدا کرنا ہے۔ یونیورسٹی اگر طالب علم کو صرف امتحان پاس کرنے کے لیے تیار کرے گی تو اس کا کردار محدود رہے گا؛ لیکن اگر وہ اسے تحقیق، تخلیق، تنقیدی فکر، ابلاغ، قیادت اور مسئلہ حل کرنے کی تربیت دے گی تو یہی نوجوان معاشی ترقی کے فعال کردار بن سکتے ہیں۔


تحقیق کا مقصد الماریوں میں بند ہونا نہیں


جامعات کی شناخت ان کی تحقیقی سرگرمیوں سے بھی ہوتی ہے، مگر تحقیق کی اصل قدر اس وقت سامنے آتی ہے جب وہ معاشرے اور معیشت کے لیے قابلِ عمل نتائج پیدا کرے۔ زراعت، صحت، پانی، توانائی، ماحولیات، مصنوعی ذہانت، صنعت، تعلیم اور شہری مسائل جیسے شعبوں میں جامعات کو مقامی ضروریات کے مطابق تحقیق کی حوصلہ افزائی کرنا ہوگی۔


تحقیقی مقالوں کی تعداد اہم ضرور ہے، لیکن اس کے ساتھ یہ سوال بھی ضروری ہے کہ تحقیق سے کیا نیا علم پیدا ہوا، کون سا مسئلہ حل ہوا، صنعت یا ادارے کو کیا فائدہ پہنچا اور عام شہری کی زندگی میں کیا بہتری آئی؟ جامعات، صنعت اور حکومتی اداروں کے درمیان مؤثر روابط اس خلا کو کم کر سکتے ہیں۔


صنعت سے رابطہ، روزگار سے تعلق


آج دنیا کی معیشت علم، ٹیکنالوجی اور مہارتوں کی بنیاد پر آگے بڑھ رہی ہے۔ ایسے میں جامعات اور صنعت کے درمیان مضبوط تعلق وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انٹرن شپ، عملی تربیت، مشترکہ تحقیقی منصوبے، ٹیکنالوجی ٹرانسفر، انکیوبیشن سینٹرز اور کاروباری رہنمائی جیسے اقدامات طلبہ کو کلاس روم سے عملی دنیا تک منتقل کرنے میں مدد دے سکتے ہیں۔


یونیورسٹیوں کو یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ ان کے تعلیمی پروگرامز بدلتی ہوئی مارکیٹ، قومی ضروریات اور مستقبل کی مہارتوں سے کس حد تک ہم آہنگ ہیں۔ تاہم اس عمل میں اعلیٰ تعلیم کو صرف مارکیٹ کی فوری طلب تک محدود کرنا بھی درست نہیں؛ بنیادی علوم، سماجی علوم، ادب، قانون اور فنون بھی ایک متوازن اور باشعور معاشرے کے لیے ناگزیر ہیں۔


سماجی ترقی بھی یونیورسٹی کی ذمہ داری ہے


جامعہ کی کامیابی صرف اس کے فارغ التحصیل طلبہ کے روزگار سے نہیں، بلکہ اس کے معاشرے پر مرتب ہونے والے مثبت اثرات سے بھی جانچی جانی چاہیے۔ یونیورسٹیاں اپنے گردوپیش کے علاقوں میں تعلیمی آگاہی، صحت، ماحولیاتی تحفظ، کمیونٹی سروس، رضاکارانہ سرگرمیوں اور سماجی بہبود کے منصوبوں کے ذریعے اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔


طلبہ کے کلبز و سوسائٹیز اس حوالے سے ایک مؤثر پلیٹ فارم ہیں۔ جب نوجوان طبی کیمپس، آگاہی مہمات، ماحولیاتی سرگرمیوں، ادبی و ثقافتی پروگرامز اور فلاحی منصوبوں میں حصہ لیتے ہیں تو ان میں قیادت، نظم و ضبط، ٹیم ورک اور احساسِ ذمہ داری پیدا ہوتا ہے۔ یہی تجربات انہیں ایک ذمہ دار پیشہ ور کے ساتھ ساتھ ایک فعال شہری بھی بناتے ہیں۔


گورننس، معیار اور جواب دہی


جامعات کے کردار کو مؤثر بنانے کے لیے وژن کے ساتھ ساتھ مضبوط گورننس، شفاف انتظامی نظام، معیاری تدریس، قابل اساتذہ، جدید سہولیات اور مؤثر نگرانی بھی ضروری ہے۔ اعلیٰ تعلیمی اداروں کو اپنی کارکردگی کے جائزے میں صرف داخلوں، امتحانات اور ڈگریوں تک محدود نہیں رہنا چاہیے، بلکہ تحقیق کے معیار، گریجویٹس کی پیشہ ورانہ کامیابی، صنعت سے روابط، کمیونٹی اثرات اور طلبہ کی مجموعی تربیت کو بھی اہمیت دینی چاہیے۔


اسی طرح جامعات کو تعلیمی آزادی، تحقیقی دیانت، ادارہ جاتی خودمختاری اور جواب دہی کے درمیان متوازن تعلق قائم کرنا ہوگا۔ ایک مضبوط جامعہ وہی ہوتی ہے جہاں علمی سوالات کی حوصلہ افزائی ہو، اختلافِ رائے کو علمی انداز میں قبول کیا جائے اور فیصلے شفاف و مؤثر نظام کے تحت کیے جائیں۔


جامع چناب: مکالمے سے عمل کی طرف


جامع چناب، گجرات میں اس موضوع پر خصوصی سیمینار کا انعقاد اس امر کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے کہ جامعات کو اپنے کردار، ترجیحات اور معاشرتی ذمہ داریوں پر مسلسل غور و فکر کرنا چاہیے۔ چیئرمین ہائیر ایجوکیشن کمیشن، انجینئر پروفیسر ڈاکٹر نیاز احمد اختر کی بطور مہمانِ خصوصی شرکت نے اس علمی مکالمے کو مزید اہمیت بخشی۔


ایسے سیمینارز کی اصل افادیت اس وقت بڑھتی ہے جب ان میں زیرِ بحث خیالات کو عملی منصوبہ بندی، تحقیقی تعاون، طلبہ کی تربیت، صنعت سے روابط اور سماجی خدمت کے قابلِ پیمائش اقدامات میں تبدیل کیا جائے۔ مکالمہ ضروری ہے، لیکن مکالمے کے بعد عمل ہی ادارہ جاتی تبدیلی کی بنیاد بنتا ہے۔


اختتامیہ


پاکستان کو ایسی جامعات کی ضرورت ہے جو صرف ملازمت کے لیے ڈگری یافتہ افراد تیار نہ کریں بلکہ علم پیدا کریں، تحقیق کو عملی زندگی سے جوڑیں، صنعت و معاشرے کے مسائل سمجھیں، نوجوانوں میں تخلیقی صلاحیت پیدا کریں اور قومی ترقی میں اپنا مؤثر حصہ ڈالیں۔


جامعات کو ڈگریوں سے آگے بڑھ کر علم، ہنر، تحقیق، اختراع، کردار اور خدمت کا مرکز بنانا ہوگا۔ یہی وہ راستہ ہے جس کے ذریعے اعلیٰ تعلیم کو حقیقی معنوں میں سماجی و معاشی ترقی کی قوت میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔

کوئی تبصرے نہیں