Page Nav

HIDE

تازہ ترین خبر:

latest

ثناء اللہ گھمن صاحب پیغام

  صحت اور تعلیم کے بجٹ میں کٹوتی  کے بجائے تمباکو، میٹھے مشروبات اور دیگر الٹرا پروسیسڈ مصنوعات پر ٹیکس لگایا جائے۔سول سوسائٹی حکومت کو فوری...

  صحت اور تعلیم کے بجٹ میں کٹوتی  کے بجائے تمباکو، میٹھے مشروبات اور دیگر الٹرا پروسیسڈ مصنوعات پر ٹیکس لگایا جائے۔سول سوسائٹی

حکومت کو فوری اقدام اٹھاتے ہوئے ترقیاتی اخراجات میں کمی کے بجائے مضر صحت مصنوعات پر ٹیکس عائد کرنا چاہیے— ثناء اللہ گھمن


پاکستان نیشنل ہارٹ ایسوسی ایشن (پناہ) نے سول سوسائٹی تنظیموں اور ماہرینِ صحت کے اشتراک سے حکومتِ پاکستان پر زور دیا ہے کہ تمباکو کی مصنوعات، میٹھے مشروبات اور دیگر الٹرا پروسیسڈ مصنوعات پر ٹیکس میں اضافہ کیا جائے، بجائے اس کے کہ صحت اور تعلیم جیسے اہم شعبوں میں ترقیاتی بجٹ میں بڑی کٹوتیاں کر کے عوام پر مزید بوجھ ڈالا جائے۔

مشرقِ وسطیٰ میں جغرافیائی کشیدگی سے جڑے عالمی معاشی دباؤ اور بڑھتی ہوئی ایندھن کی قیمتوں کے تناظر میں حکومت نے ترقیاتی بجٹ میں نمایاں کمی اور ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ کیا ہے۔ اگرچہ یہ اقدامات مالی مشکلات کو سنبھالنے کے لیے کیے گئے ہیں، لیکن یہ پاکستان کی طویل المدتی معاشی ترقی اور صحت مند معاشرے کی تشکیل کو شدید نقصان پہنچانے کا باعث بن سکتے ہیں۔پاکستان اس وقت غیر متعدی بیماریوں (NCDs) کی وجہ سے ایک سنگین عوامی صحت کے بحران کا سامنا کر رہا ہے، جن میں امراضِ قلب، ذیابیطس، کینسر اور دائمی سانس کی بیماریاں شامل ہیں۔ یہ بیماریاں ملک میں تقریباً 58 فیصد اموات کی ذمہ دار ہیں اور پاکستان میں اموات کی سب سے بڑی وجہ بن چکی ہیں۔ خاص طور پر ذیابیطس خطرناک حد تک بڑھ چکی ہے، جس سے 3 کروڑ 30 لاکھ سے زائد بالغ افراد متاثر ہیں۔ ہر سال لاکھوں اموات ذیابیطس اور اس کی پیچیدگیوں کے باعث ہوتی ہیں، جو خاندانوں اور صحت کے نظام پر بھاری دباؤ ڈالتی ہیں۔

معاشی اعتبار سے بھی ان بیماریوں کا بوجھ تباہ کن ہے۔ یہ بیماریاں سالانہ اربوں روپے کے اخراجات اور پیداوار میں کمی کا باعث بنتی ہیں۔ پاکستان صرف ذیابیطس کے علاج اور انتظام پر تقریباً 2.6 ارب امریکی ڈالر سالانہ خرچ کر رہا ہے — جو کہ ہمیں ملنے والی آئی ایم ایف قسط سے دوگنا ہ ہے۔ افرادی قوت کا ایک بڑا حصہ کم پیداواری صلاحیت، غیر حاضری اور قبل از وقت اموات کا شکار ہے، جس سے قومی معیشت متاثر ہو رہی ہے۔ اس بحران کی بڑی وجہ تمباکو کی مصنوعات اور میٹھے مشروبات کا وسیع پیمانے پر استعمال ہے۔ یہ مضر اور غیر ضروری مصنوعات امراضِ قلب، موٹاپے، ذیابیطس اور کینسر سے براہ راست منسلک ہیں، تاہم پاکستان میں ان پر ٹیکس اب بھی کم ہے۔

پناہ کے جنرل سیکریٹری ثناء اللہ گھمن نے کہا کہ اس وقت جب حکومت ضروری ترقیاتی بجٹ میں کٹوتی کر رہی ہے، غیر ضروری اشیاء پر ٹیکس کے وسیع امکانات کو نظر انداز کرنا نہ صرف ناانصافی ہے بلکہ معاشی طور پر بھی نقصان دہ ہے۔ تمباکو، میٹھے مشروبات اور دیگر الٹرا پروسیسڈ مصنوعات کوئی ضروری اشیاء نہیں بلکہ بیماری اور اموات کا باعث ہیں۔ ان مضر مصنوعات پر ٹیکس بڑھا کر حکومت نہ صرف نمایاں ریونیو حاصل کر سکتی ہے بلکہ بیماریوں کے بوجھ کو کم کرنے اور کمزور طبقات کو مزید معاشی مشکلات سے بچانے میں بھی مدد مل سکتی ہے۔


انہوں نے مزید کہا کہ عالمی شواہد سے ثابت ہے کہ تمباکو اور الٹرا پروسیسڈ مصنوعات پر زیادہ ٹیکس لگانے سے ان کی کھپت میں کمی، صحت کے بہتر نتائج اور حکومتی آمدنی میں اضافہ ہوتا ہے۔ PANAH اور اس کے شراکت داروں نے زور دیا کہ حکومت کوبینادی ضروریات زندگی  کی قیمتوں میں اضافے جیسے اقدامات کے بجائے، جو مہنگائی کو بڑھاتے ہیں اور کم آمدنی والے گھرانوں کو زیادہ متاثر کرتے ہیں، ایسی پالیسی اپنانی چاہیے جو مضر مصنوعات کو نشانہ بنائے۔پاکستان اپنی انسانی ترقی میں سرمایہ کاری کم کر کے اور قابلِ روک بیماریوں کے پھیلاؤ کو جاری رکھ کر اپنے مستقبل کو نقصان نہیں پہنچا سکتا۔ تمباکو اور میٹھے مشروبات پر ٹیکس عائد کرنا مالی چیلنجز اور بڑھتے ہوئے صحت کے بحران دونوں کا ایک عملی اور شواہد پر مبنی حل ہے۔ انڈ سٹری حکومت  کو ٹیکس کی شکل جو ریوینیو دیتی ہے وہ اس کا عشر عشیر بھی نہیں ہے جو    ان کی وجہ سے پیدا ہونے والی بیماریوں پر اخراجات آتے ہیں۔ ان کا استعمال  معیشت کی بہتری کے بجائے عوام کی صحت کے بہت سے مسائل کو جنم دے رہی ہے۔

پناہ، سول سوسائٹی اور ماہرینِ صحت کے ساتھ مل کر حکومت سے مطالبہ کرتا ہے کہ فوری طور پر اقدامات کیے جائیں تاکہ عوامی صحت کا تحفظ ہو، معیشت مضبوط بنے اور تمام شہریوں کے لیے ایک صحت مند مستقبل یقینی بنایا جا سکے۔

 

کوئی تبصرے نہیں