Page Nav

HIDE

تازہ ترین خبر:

latest

سعید احمد ملک کالم

  ٹوٹتا ہوا مغربی حصار اور ابھرتا ہوا مشرقی بلاک سعید احمد ملک ​عالمی سیاست اس وقت تاریخ کے اس نازک ترین اور فیصلہ کن موڑ پر کھڑی ہے جہاں پر...

 







ٹوٹتا ہوا مغربی حصار اور ابھرتا ہوا مشرقی بلاک


سعید احمد ملک


​عالمی سیاست اس وقت تاریخ کے اس نازک ترین اور فیصلہ کن موڑ پر کھڑی ہے جہاں پرانے بت پاش پاش ہو رہے ہیں اور طاقت کے نئے سورج طلوع ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔ وہ مراکز جو کبھی واشنگٹن اور برسلز کے محور کے گرد گھومتے تھے، اب تیزی سے بیجنگ، ماسکو اور ریاض کی سمت منتقل ہو رہے ہیں۔

​یہ محض ایک عارضی سیاسی تبدیلی نہیں بلکہ اس یک قطبی نظام (Unipolar System) کا باضابطہ اور عبرتناک خاتمہ ہے جس کا خمیر نوے کی دہائی میں سوویت یونین کے بکھرنے اور سرد جنگ کے خاتمے پر اٹھایا گیا تھا۔

​آج ایک کثیر القطبی دنیا (Multipolar World) جنم لے رہی ہے جہاں عالمی طاقت کسی ایک مخصوص دارالحکومت کی لونڈی نہیں رہی۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب کسی سلطنت کا دفاعی گھیرا ٹوٹتا ہے، تو اس کے سکے کی ساکھ بھی خاک میں مل جاتی ہے۔

​آج امریکہ کی عسکری بے بسی اور حکمتِ عملی کی بوکھلاہٹ نے دنیا کو یہ پیغام دے دیا ہے کہ اب ڈالر کی حفاظت کرنے والا عالمی تھانیدار خود اپنی بقا کی جنگ لڑ رہا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں برکس جیسے طاقتور معاشی و سیاسی بلاک جنم لیتے ہیں۔

​امریکی داخلی سیاست میں ڈونلڈ ٹرمپ کی ممکنہ واپسی اور ان کے حالیہ سنسنی خیز بیانات نے عالمی ایوانوں میں ایک ارتعاش پیدا کر دیا ہے۔ ایک طرف ٹرمپ نیٹو جیسے قدیم اور مضبوط دفاعی اتحاد کی بنیادیں یہ کہہ کر ہلا رہے ہیں کہ وہ ان اتحادیوں کا دفاع نہیں کریں گے۔

​دوسری طرف ان کا سب سے اہم اعتراف ایران کے حوالے سے ہے۔ ٹرمپ کا یہ تسلیم کرنا کہ تہران نے واشنگٹن کے تمام عسکری اندازوں کو غلط ثابت کر دیا ہے، دراصل ناقابلِ تسخیر مغربی ٹیکنالوجی کے اساطیری قصوں (Myths) کا انجام ہے۔

​ایرانی میزائلوں اور ڈرونز نے جس طرح امریکی و اسرائیلی دفاعی حصار میں شگاف ڈالے ہیں، اس نے ثابت کر دیا ہے کہ اب دنیا صرف واشنگٹن کے خوف کے سائے میں جینے کے لیے تیار نہیں۔ اب امریکی دھمکیوں سے عالمی پالیسیاں تبدیل نہیں کی جا سکتیں۔

​مشرقِ وسطیٰ کا موجودہ میدانِ جنگ اس وقت امریکی ہتھیاروں کی ناکامی کا ایک عالمی اشتہار بن چکا ہے۔ مستند عالمی ذرائع اور عسکری ماہرین کی رپورٹس اب اسرائیل کے اندرونی ڈھانچے کی تباہی کی ہولناک تصویر کشی کر رہی ہیں۔

​اسرائیل کا نام نہاد "آئرن ڈوم" جو کبھی ناقابلِ تسخیر سمجھا جاتا تھا، اب مزاحمتی بلاک کے سستے ڈرونز اور جدید ہائپرسونک (Hypersonic) میزائلوں کے سامنے بے بس نظر آتا ہے۔ یہاں ایران اور اس کے ہمنوا گروہوں کا کردار کلیدی ہو چکا ہے۔

​ایران نے دنیا پر یہ ثابت کر دیا ہے کہ کروڑوں ڈالرز کے مہنگے ترین امریکی دفاعی نظام کو چند ہزار ڈالرز کی مقامی ٹیکنالوجی سے کس طرح مفلوج (Paralyzed) کیا جا سکتا ہے۔ اسرائیل پر بڑھتا ہوا یہ دور رس اور گہرا دباؤ تل ابیب کو معاشی اور عسکری طور پر کھوکھلا کر رہا ہے۔

​آنے والے دنوں میں دنیا جس سب سے بڑے جغرافیائی اور معاشی دھچکے کا سامنا کر سکتی ہے، وہ عالمی آبی گزرگاہوں پر مزاحمتی بلاک کا مکمل اور موثر کنٹرول ہے۔ ابنائے ہرمز پر ایران کی گرفت پہلے ہی ایک مسلمہ حقیقت ہے۔

​اب بحیرہ احمر اور باب المندب پر حوثی قوتوں کی مسلسل موجودگی نے عالمی تجارت کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ یاد رہے کہ دنیا کی کل تجارت کا ایک بڑا حصہ اور تقریباً 50 فیصد تیل کی سپلائی انھی راستوں سے گزرتی ہے۔

​اگر ایران اور اس کے اتحادی ان دونوں شہ رگوں کو متاثر کرنے کا فیصلہ کرتے ہیں، تو عالمی معیشت کا پہیہ جام ہو جائے گا۔ یہ وہ سیاسی و عسکری چال ہے جو کسی بھی ایٹمی ہتھیار سے زیادہ مہلک ثابت ہو رہی ہے اور مغرب کو اپنی پالیسیاں بدلنے پر مجبور کر رہی ہے۔

​عسکری محاذ کے ساتھ ساتھ معاشی محاذ پر بھی ایک خاموش مگر فیصلہ کن جنگ جاری ہے۔ برکس (BRICS) کا غیر معمولی ابھار، جس میں اب سعودی عرب، ایران، مصر، اور متحدہ عرب امارات شامل ہو چکے ہیں، ڈالر کی عالمی حکمرانی کے لیے سب سے بڑا چیلنج ہے۔

​ٹرمپ کی جانب سے برکس ممالک کو 100 فیصد ٹیرف کی دھمکی دراصل اس خوف کی علامت ہے کہ اب دنیا تجارت کے لیے متبادل کرنسیوں کی تلاش مکمل کر چکی ہے۔ برکس کا "نیو ڈویلپمنٹ بینک" اب آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کا متبادل بن رہا ہے۔

​اب دنیا "ڈی-ڈالرائزیشن" کی طرف تیزی سے بڑھ رہی ہے، جہاں مقامی کرنسیوں میں تجارت اب محض خواب نہیں بلکہ حقیقت بن چکی ہے۔ یہ بینک ان غریب ملکوں کو سہارا دے رہا ہے جن کی خود مختاری کا سودا قرضوں کے بدلے کیا جاتا تھا۔

​اس سنگین عالمی صورتحال میں پاکستان کا کردار ایک بار پھر مرکزِ نگاہ بن گیا ہے۔ اسلام آباد میں حالیہ دنوں میں ہونے والی غیر معمولی سفارتی سرگرمیاں، خصوصاً ترکیہ، ایران اور سعودی عرب کے وزرائے خارجہ کی آمد، ایک نئے علاقائی اتحاد کا واضح اشارہ ہے۔

​ان وزرائے خارجہ کا مشترکہ ایجنڈا نہ صرف مشرقِ وسطیٰ میں جاری نسل کشی کو رکوانا ہے بلکہ ایک ایسی آزاد فلسطینی ریاست کا قیام بھی ہے جس کا دارالحکومت قدس ہو۔ یہ ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جہاں فیصلے واشنگٹن کے بجائے آپس کی مشاورت سے ہوں گے۔

​پاکستان کے صاحبانِ اقتدار کو اب خوابِ غفلت سے بیدار ہونا ہوگا۔ یہ حقیقت اب عیاں ہے کہ محض معاشی خوشحالی کے نعرے قومی بقا کے ضامن نہیں ہو سکتے جب تک ان کے پیچھے ایک ناقابلِ تسخیر عسکری قوت اور ایٹمی دفاعی رعب (Deterrence) موجود نہ ہو۔

​پاکستان کو آئی ایم ایف کے شکنجے اور ڈالر کے سحر سے نکل کر معاشی سیاست کی اس عظیم شاہراہ پر قدم رکھنا ہوگا جہاں ہم چین، روس اور برکس ممالک کے ساتھ مل کر اپنی معاشی و دفاعی خود مختاری کا حقیقی تحفظ کر سکیں۔

​پاکستان اور ہماری سوسائٹی کے لیے حقیقی "نویدِ سعید" تبھی ممکن ہے جب ایوانِ اقتدار میں بیٹھے لوگ اس بدلتے ہوئے عالمی نظام کی نزاکتوں کو سمجھیں اور اپنی خارجہ پالیسی کو بیرونی بیساکھیوں سے آزاد کر کے قومی وقار کے سانچے میں ڈھالیں۔

​تاریخ گواہ ہے کہ جب پرانے بت ٹوٹتے ہیں تو وہی قومیں زندہ رہتی ہیں جو وقت کے قدموں کی چاپ کو سن کر اپنی سمت درست کر لیتی ہیں۔ برکس کا عروج اور علاقائی اتحاد اس نئی منزل کی طرف انسانیت کا پہلا مضبوط قدم ہیں۔

​اب یہ ہمارے حکمرانوں کی بصیرت اور غیرت پر منحصر ہے کہ وہ پاکستان کو اس نئی عالمی بساط پر ایک خود مختار اور باعزت کھلاڑی کے طور پر کھڑا کرتے ہیں یا محض ایک بے بس تماشائی بنے رہتے ہیں۔

​وقت کی پکار یہی ہے کہ ہم اپنے قومی مفاد کو ہر چیز پر مقدم رکھیں اور ایک ایسی دنیا کی تعمیر میں اپنا حصہ ڈالیں جہاں امن کا معیار میزائلوں کی طاقت سے نہیں بلکہ انصاف، برابری اور انسانی حقوق کی بالادستی سے طے ہو۔

کوئی تبصرے نہیں