Page Nav

HIDE

تازہ ترین خبر:

latest

ام ابوبکر کالم

 امانت داری: جدید دور کا بھلائی ہونا وصف ام ابوبکر(بھکّر) اسلام کی بنیاد ہی امانت داری پر ہے۔ اللہ تعالی نے قرآن میں فرمایا: "بے شک الل...

 امانت داری: جدید دور کا بھلائی ہونا وصف

ام ابوبکر(بھکّر)


اسلام کی بنیاد ہی امانت داری پر ہے۔ اللہ تعالی نے قرآن میں فرمایا: "بے شک اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں ان کے اہل کے سپرد کرو"۔ امانت صرف مال تک محدود نہیں، بلکہ علم، عہدہ، رشتہ، وقت اور زبان سب امانت ہیں۔


جدید دور میں امانت داری کا وصف پہلے سے زیادہ اہم ہو گیا ہے۔ آج کاروبار، نوکری، سوشل میڈیا اور آن لائن لین دین سے  امانت سے جڑے ہیں۔ ایک استاد کا شاگردوں کو صحیح علم دینا امانت ہے۔ ایک ڈاکٹر کا مریض کا علاج ایمانداری سے کرنا امانت ہے۔ ایک دکاندار کا وزن پورا تولنا امانت ہے۔ اور ایک مسلمان کا سوشل میڈیا پر سچ بولنا بھی امانت ہے۔


لیکن افسوس کہ آج دھوکہ، فراڈ اور وعدہ خلافی عام ہو گئی ہے۔ جھوٹ بول کر مال کمانا، رشوت لینا، وقت ضائع کرنا سب امانت میں خیانت ہے۔ نبی کریم ﷺ کو "الصادق الامین" کہا جاتا تھا۔ آپ کی ساری زندگی امانت داری کی مثال ہے۔


جدید دور کا تقاضا یہ ہے کہ ہم امانت داری کو اپنی پہچان بنائیں۔ اگر ہر مسلمان اپنے کام میں ایماندار ہو جائے تو معاشرے سے بدعنوانی ختم ہو سکتی ہے۔ امانت دار انسان ہی دراصل دنیا کا بھلا کر سکتا ہے۔


آخر میں یہی پیغام ہے کہ امانت داری صرف عبادت نہیں بلکہ کامیابی کی کنجی ہے۔ جو قوم امانت دار ہوتی ہے اللہ اسے عزت دیتا ہے۔

کوئی تبصرے نہیں