Page Nav

HIDE

تازہ ترین خبر:

latest

طفیل مگسی کالم

  معاشی غلامی اور فکری آزادی۔ طفيل مگسی حضرت موسیٰ علیہ السلام جب خدا کی طرف سے پیغمبر مبعوث ہوئے تو جو پہلا کام انکے ذمے  لگایا گیا وہ فرعو...

 







معاشی غلامی اور فکری آزادی۔

طفيل مگسی

حضرت موسیٰ علیہ السلام جب خدا کی طرف سے پیغمبر مبعوث ہوئے تو جو پہلا کام انکے ذمے  لگایا گیا وہ فرعون بادشاہ کی غلامی سے یعقوب نبی کی اولاد کو آزادی دلانا تھا. آزادی وہ بنیادی انسانی حق ہے جسے خدا نے انسانوں کے لئے پسند فرمایا ہے.

 یعنی تخلیق کار کو انسانی غلامی خواہ کسی بھی قسم کی ہو پسند نہیں. وہ اپنی مخلوق کو آزادی سے انسانوں کی غلامی کئے بغیر زندگی گزارتے ہوئے دیکھ کر خوشی محسوس کرتا ہے. جب بنی اسرائیلوں نے فرعون بادشاہ سے آزادی حاصل کرلی تو پھر موسی علیہ السلام پر کتاب نازل کی گئی، قبل ازیں ایسا نہیں کیا گیا. کیونکہ تخلیق کار جانتا تھا کہ غلام ذہنوں کو نئے خیالات قبول کرنے میں مشکل پیش آتی ہے. اس کے لئے پہلے جسمانی آزادی کے زریعے ذہنوں کی زمین ہموار کی گئی، ہجرت کے زریعے ماحول تبدیل کیا گیا، پھر نئی بات کی گئی. یہ پہلا سماجی انقلاب تھا جس کے نتیجے میں ایک بہت طاقتور فرعونی مصری سلطنت برباد ہوئی اور فلسطین میں نئے آئین و دستور کی بنیاد پڑی ۔

وقت گزرنے کے ساتھ شریعت موسوی کو جب مذہبی ربیوں نے دکانداری بنا لیا تو ابن مریم بھیجے گئے. حضرت مسیح کوئی نیا الہام کے کر نہیں آئے تھے بلکہ شعریت موسوی کی نشاتہ ثانیہ کرنے کے لئے آئے تھے! آپ پر کوئی کتاب نہیں اتری صرف دس احکامات نافذ کرنے کا حکم ہوا، جو مذہبی عیاروں کی غلامی سے نجات حاصل کرنے کی ترکیب ہیں.

اسی طرح نبی کریم ﷺ کو بھی انہی وجوہات کے خاتمے کے لئے دنیا میں بھیجا گیا.

حضرت موسیٰ علیہ السلام سے نبی کریم ﷺ تک جتنے انبیاء کرام بھیجے گئے سب کے سب سوشل ریفارمز کے لئے بھیجے گئے. ہر نبی نے اپنے دور میں پائی جانے والی غلامی کے خلاف جہاد کیا.

غلامی کی متعدد اقسام ہیں رسم و رواج کی غلامی، فکر و نظر کی غلامی، قبیع عادات کی غلامی، مذہبی موناپلی کی غلامی و ھذا علی القیاس اس ذیل میں ایک لمبی فہرست بن سکتی ہے.

جب نبوت کا سلسلہ موقوف ہوگیا تو خدا نے اپنا مشن موقوف نہیں کیا بلکہ انسانوں میں سے انسان منتخب کرکے اس سلسلے کو جاری و ساری رکھا ہوا ہے. چنانچہ جب انسان کسی بھی فیلڈ میں آزادی سے محروم کر دئیے جاتے ہیں تو انہی غلاموں میں سے  اٹھ کر کوئی اس فیلڈ کی اجارہ داری ختم کرکے انسانوں کو آزاد کر دیتا ہے. ذہن میں رہے کہ غلامی استحصال کی بدترین صورت ہے، جس کا سرا معاش سے جا کر منسلک ہو جاتا ہے.

جب انسانی ذہن موجودہ ترقی کی ارتقائی منزل پر پہنچا تو آزاد فکر و نظر کے حاملین نے دیکھا کہ انسانوں کی اکثریت کو ایک چھوٹے سے طبقے نے غلام بنا رکھا ہے. اس طبقے نے  استحصال کی بنیاد پر اپنے لئے ہرقسم کے تعیشات حاصل کر رکھے ہیں لیکن دوسری طرف غربت، بیماری، مفلسی اور معاشی غلامی بانٹ رکھی ہے. اس معاشی ناانصافی اور عدم مساوات کے خلاف حضرات کارل مارکس اور اینگلس نے متبادل نظریہ اشتراکیت پیش کیا.

اشتراکیت کا مفہوم اس سے زیادہ اور کچھ نہیں کہ استحصال اور طبقاتی نظام پر مبنی معاشرے کو ختم کرکے برابری کی بنیاد پر معاشرہ قائم کیا جائے. 

مارکسزم سماجی سائنس ہے جس کے زریعے انسانوں کو انسانی غلامی سے نجات دلانے کا راستہ نکلتا ہے. جس طرح زندگی کی سائنس بائیولوجی ہے،  کیمیکل کی سائنس کیمسٹری ہے، مادے کی سائنس فزکس ہے اسی طرح سماج کی سائنس اشتراکیت  ہے جو انسان کو اولیت دے کر اس کی تمام سماجی ضروریات کی فراہمی کو یقینی بناتی ہے.

طبقاتی اور غیر مساویانہ سماج کے خلاف ٹھوس بنیادوں پر جدوجہد کرنے کے لئے درست قوانین فراہم کرتی ہے. فکری غلامی سے نجات دلانے کے لئے اپنا مقدر خود سنوارنے کی ترغیب دیتی ہے. زرائع پیداوار کو بھرپور طریقے سے استعمال میں لا کر سماج سے بھوک ننگ افلاس اور طبقات کا مکمل خاتمہ کرکے روٹی روزی کمانے کی ذلت آمیز مزدوری سے نجات اور اس محنت کو تسخیر کائنات کے لئے وقف کرکے بشریت کے اعلیٰ آدرشوں کو حاصل کرنے کی طرف رہنمائی کرتی ہے. 

ہم یہ دیکھتے ہیں کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام سے لے کر حضرت محمد ﷺ تک جتنے بھی انبیاء آئے انکی مخالفت ہمیشہ مراعات یافتہ طبقے نے کی ہے اور غریب طبقے نے ساتھ دیا ہے۔ جناب عزیر کو آرا سے چیرنے والے، جناب عیسی کو سولی دینے والے اور حضرت محمد  ﷺ پر طائف میں پتھروں بارش کرکے زخمی کرنے نیز چھ سال ایک گھاٹی میں اسیر کرنے اور ہجرت کرنے پر مجبور کرنے والے کوئی عام لوگ نہ تھے بلکہ بادشاہ، جنیل، بڑے بڑے کاروباری حضرات اور درباری مذہبی پروہت تھے.

 جن کے ذاتی مفادات پر زد پڑتی تھی. بالکل یہی صورت حال مارکس کو عملی زندگی میں بھی درپیش رہی اور آج اس کے نظریات کو بھی  رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے. مارکس کہتا ہے ایک انسان ساری زندگی محنت کرتا ہے تاکہ سرمایہ دار کی تجوری بھر سکے. سرمایہ دار کی عیاشی کا سامان مہیا کر سکے. یہی وہ بنیادی نظریہ ہے جس کے خلاف سرمایہ دار اور اسکے ذیلی مددگار مذہبی اجارہ دار رکاوٹیں کھڑی کرتے ہیں.

ذرا غور کیجئے، موجودہ ایمرجنسی میں عمران خان کی ھکومت عام محنت کش کے لئے بارہ ہزار ماہانہ وظیفہ مقرر کرتی ہے اور چند ہی ماہ پہلے وزیراعظم نے اپنے لئے دو لاکھ روپیہ ماہانہ وظیفہ مقرر کیا تھا. یعنی ایک سرمایہ دار فرد دو لاکھ کا حقدار ہے اور ایک غریب بارہ ہزار کا سزاوار ٹھہرا. ایک طرف دو لاکھ روپیہ سے دو لوگوں کی کفالت ہوگی اور بارہ ہزار سے ایک پورا کنبہ گزران کرے گا، جس میں اگر کم از کم پانچ افراد ہوں گے تو فی کس دو ہزار کے قریب بنتا ہے۔  یہ وہ عدم مساوات ہے جس کی ذیل میں مارکس وسائل بقدر ضرورت استعمال میں لانے کی بات کرتا ہے.

مارکسزم محنت کش طبقے کو زبان عطا کرتا ہے کہ وہ سوال کرے کہ ہماری عزت نفس تقدیر اور وسائل چند لوگوں کے مرہون منت کیوں ہیں؟

یہی بات دولت مندوں کو قابل قبول نہیں کیونکہ اس سے انکے سرمائے پر قبضے اور فضیلت کو گزند پہنچتی ہے. ملا پادری ربی پنڈت بھی اپنی مراعات کے لئے انکے محتاج ہیں چنانچہ یہی وہ پیراسائٹس ہیں جو مارکسزم کی ماسسز میں مخالفت کی آبیاری کرتے ہیں. آپ ملاحظہ فرمائیں کچھ درباری مولوی ہر دور میں ہر  دوار کی جبہ سائی کرتے ہوئے نظر آئیں گے کیونکہ انکے مفادات انہی سے وابستہ ہوتے ہیں. یہ لوگ محنت کش طبقے کو دروس صبر و شکر دیتے ہیں اور اپنے لئے تعیشات کی تمام صورتیں بدرجہ اتم حلال کئے ہوئےنظر آتے ہیں۔

مثالیں حضرات  صدیق و عمر رضی اللہما کی دیتے ہیں لیکن خود اپنا رہن سہن عمرو بن عکرمہ جیسا رکھا ہوا ہے. اشتراکی معاشرہ اس استحصالی جُٹ کو توڑ کر معاشی عدم مساوات کا قلعہ قمہ کرتا ہے اور انسانیت کو سرمایہ دار کی غلامی سے نجات دلانے کی وعید دیتا ہے! یہ سماجی سائنس آپ کو بتاتی ہے کہ کیسے سرمایہ پر قابض قوتوں کو شکست دینی ہے۔

کوئی تبصرے نہیں