Page Nav

HIDE

تازہ ترین خبر:

latest

پاکستان کا بڑھتا ہوا علاقائی اور عالمی کردار

  پاکستان کا بڑھتا ہوا علاقائی اور عالمی کردار از۔۔۔ ظہیرالدین بابر   مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کو مشر ق وسطی میں     جاری غیر یقنی صو...

 

پاکستان کا بڑھتا ہوا علاقائی اور عالمی کردار



پاکستان کا بڑھتا ہوا علاقائی اور عالمی کردار

از۔۔۔ ظہیرالدین بابر

 

مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کو مشر ق وسطی میں   

جاری غیر یقنی صورت حال میں امید کی کرن قرار

جارہا ہے ۔ امریکہ اور ایران میں جاری جنگ کے پس

منظر میں سعودی عربیہ، پاکستان اور ترکی کا مشترکہ

دفاع کا عزم  درحقیقت تصادم سے انکار کرتے ہوئے سفارتی

کار ی کو ترجیح دینے کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔ یہ اس

سچائی پر بھی مہرتصدیق ثبت کررہا  کہ جنگ کسی

کے بھی مفاد میں نہیں ۔  مذکورہ  معاہدہ فریقین کو تاریخ کا وہ

سبق  یاد کروارہا ہے کہ جنگ کا آغاز کرنا نسبتا

آسان مگر اسے ختم کرنا ہمیشہ مشکل  ثابت ہوا۔ پاکستا ن

، سعودی عربیہ اور ترکی کا ہمیشہ سے موقف رہا

ہے کہ مسلہ فلسطین کو حل کیے بغیر مشرقی وسطی میں

بالخصوص اور دنیا بھر میں بالعمو م قیام امن کا حصول ممکن نہیں ۔ اس موقف کی اہمیت کا انداز ہ

یوں بھی لگایا جاسکتا ہے کہ تاحال  اسرائیل  نہتے اور

بے گناہ فلسطینوں کو نشانہ بنا رہا ہے ۔ امریکی ضمانت دینے کے باوجود تل ابیب فلسطینی بچوں

، عورتوں اور بزرگوں تک کو قتل کرنے کی سوچی

سمجھی پالیسی پر کاربند ہے۔ پاکستان ،

سعودی عربیہ اور ترکی کا مشترکہ دفاع کا عزم

جارحیت کو بطور پالیسی اختیار کرنے والے ممالک کے

 

لیے دو ٹوک  وارننگ ہے ۔ تینوں ممالک

اس عزم کا اظہار کرتے چلے آرہے کہ جنگ کی بجائے

افہام و تفہیم سے تنازعا ت اور مسائل کو حل کیا جائے۔یوں

مکہ مشترکہ دفاعی معاہدےکو کسی خاص ملک کے خلاف

قرار دینے کے تاثر کو سختی سے مسترد کیا گیا ۔

معاہدے کے ناقدین کو واشگاف الفاظ میں بتا دیا گیا ہکہ

مذکورہ پیش رفت کا اول وآخر مقصد مذکورہ  ریاستوں کا

مشترکہ دفاع یقینی بناناہے۔ مشرق وسطی میں امریکہ

ایران جنگ کے نتیجے میں خطے میں طاقت کا توازن

غیر یقینی صورت حا ل سے دوچار تھا مگر اس  معاہدے کے

نتیجے قیام امن کی جانب خاطر خواہ پیش رفت ہونے

کا  روشن امکان ہے۔ دنیا بھر کےمسلمانوں کے لیے مکہ مکرمہ

اور مدینہ منور کے تقدس اور اہمیت سے انکار ممکن نہیں

۔ پاکستان کے بعد ترکیہ کی جانب حرمین شریفین کی

حفاظت  کا اعلان اسلا م

اور مسلمان دشمنوں کے لیے دوٹوک ہے۔ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدےکے نتیجے

میں خفیہ معلومات کا مربوط اور موثر نظام قائم ہوسکتا

ہے ۔ مشترکہ دشمن کا تعین باہمی مشاورت پر مبنی

ایسی پالیسی کی تشکیل کا باعث بن سکتا ہے جوپیشگی

خطرات کا مقابلہ کرنے کی اہلیت بڑھا دے۔ پاکستان

 

اسلامی دنیا کی واحد تسلیم شدہ ایٹمی قوت ہے۔ ترکیہ کی

اسلحہ سازی کی مہار ت اور سعودی عرب کا معاشی

استحکام درجنوں اسلامی ممالک کے لیے امید اور امن کا

پیغام لاسکتا ہے۔عصر حا ضر میں تیزی سے تبدیل ہونے

والی جنگی حکمت عملی   کا تقاضا ہے کہ جدید

عسکری تقاضوں میں مہارت حاصل کی جائے۔ عالمی

سفارت کاری میں وہی ریاست اپنی داخلی اور خارجی

خود مختاری برقر ار رکھ سکتی ہے جو معاشی اور

سیاسی استحکام کی حامل ہو۔ ترکیہ اور سعودی

عربیہ کے برعکس پاکستانی معیشت مثالی نہیں ۔  مگر یہ ا مر

حوصلہ افزا کہ وزیر اعظم شبہازشریف اور فیلڈ مارشل سید

عاصم منیر دونوں ہی ملکی مسائل سے نہ صرف مکمل

طور پر آگاہ ہیں بلکہ ان پر قابو پانے کے لیے  انتھک  کوشش  بھی کررہے ہیں۔ نئے معاہدےکے

نتیجے میں   پاکستان خارجہ محاذ پر کئی

کامیابیا ں سمیٹ سکتا ہے ۔ داخلی مشکلات اور

چیلنجز پر قابو پانا بھی  ناممکن نہیں رہا ۔

ریکارڈ پر ہےکہ پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت

کئی دہائیوں سے اس موقف کی حامی رہی ہیں کہ مسلم دنیا

کے دیرپا اور پچیدہ مسائل کا حل باہمی اتفاق واتحاد کے

 

بغیر ممکن نہیں۔خالق کائنات شر سے خیر اور خیر سے

شر پیدا کرنے کی طاقت رکھتاہے۔ اس      حقیقت کو یوں بھی سمجھا جاسکتا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے مصوم اور نہتے فلسطینوں کا قتل عام شر تھا  مگر اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی صورت حال  نے مسلم ممالک کو باہمی اتفاق  واتحاد اور  دفاعی خود انحصاری کی جانب توجہ دلائی ہے۔ اب مکہ معاہد ے کو اسی پس منظر میں دیکھا اور سمجھا جانا چاہے۔    حالیہ بحران  کے نتیجے میں مشرق وسطی  کے بیشتر ممالک میں یہ  احساس فروغ پذیر ہے کہ امریکہ نہ صرف  ان کے سیاسی  اور مالی مفادات کا تحفظ کرنے میں ناکام رہا بلکہ واشنگٹن  اسرائیلی  مکروہ عزائم کو لگام دینے  کی اہلیت بھی کھو چکا ۔   مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے  کے درپردہ    دیگر عوامل کے ساتھ یہ سوچ بھی فروغ پذیر ہےکہ  اب مسلمان ملکوں کو  اپنا دفاع خود ہی کرنا ہے۔ سعودی عرب اور ترکیہ  کی اہمیت اپنی جگہ مگر پاکستان کا معاملہ یہ ہے کہ  معرکہ حق کی شکل میں وہ اپنے سے  کئی گنا بڑ ی  فوجی اور معاشی طاقت   کو واضح شکست دے چکا ہے ۔ پاکستان  مسلم دنیا کی مسلمہ ایٹمی قوت ہے  جو بدستور علاقائی اور عالمی سطح پر  زمہ دارانہ کردار ادا کرنے میں پیش پیش ہے۔   تازہ مثال ایرا ن امریکہ جنگ میں بطور ثالثی  سامنے آنا ہے  ۔  ایران اور امریکہ کی تاریخی دشمنی کے تناظر میں   دونوں ممالک کا پاکستان کی ثالثی قبول کرنا کسی طور پر آساںنہ تھا مگر  اسلام آباد نے کر دکھایا ۔ قوی  امکان ہے کہ  مستقبل قریب  میں مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کی  شکل میں پاکستان  کی  ماہرانہ سفارت کاری   پچیدہ   بین الاقوامی مسائل حل کرنے  میں اپنا             لوہا منواتی دکھائی دے۔بقول اقبال

وہی زمانے کی گردش پر غالب آتا ہے

جوہر نَفس سے کرے عمر ُجاوداں پیدا


کوئی تبصرے نہیں